8ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) ہر لمحہ، ہرساعت، ہردن، ہر مہینہ، ہرسال اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے پورے سال کے بعض ایام کو خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے اور ان ایام کیلئے کچھ مخصوص احکام مقرر فرمائے ہیں۔ یہ محرم کا مہینہ بھی ایک ایسا ہی مہینہ ہے جس کو قرآن کریم نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ چار مہینہ حرمت والے ہیں ان میں سے ایک مہینہ محرم کا ہے۔لغات قرآن کے مطابق محرم کا مصدر تحریمٌ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے حرام کیا ہوا، منع کیا ہوا،عزت کیا گیا، حرمت کیا گیا ہے۔ محرم الحرام کا مہینہ انہی دو معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ شمسی سال کا پہلا مہینہ جنوری ہے جبکہ قمری سال کا پہلا مہینہ محرم کا ہے۔یہ مہینہ اسلام سے پہلے بھی اور اسلام کے بعد بھی حرمت و عظمت کا مہینہ سمجھا جاتا تھا اور بہت سے مبارک واقعات 10/محرم کو پیش آئے، جن میں سے ایک اہم واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کا فرعون کے ظلم و ستم سے نجات پانا، مصر سے نکل کر جزیرہ نمائے سینا میں بخیریت پہنچ جانا اور فرعون کا غرق ہونا اسی کی یاد میں مدینہ کے یہودی عاشورہ 10محرم کو روزہ رکھتے تھے اور جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ہمارا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان یہودیوں سے بھی زیادہ ہے اس لئے ہم کو ان سے زیادہ خوشیاں منانے اور شکر ادا کرنے کا حق ہے۔ آپ ؐ نے خود بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے ہی عاشورہ کا روزہ فرض تھا، جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کا روزہ اختیاری اور نفل رہ گیا، اب بھی دنیا کے مختلف حصوں کے دیندار مسلمان اس روز روزہ رکھتے ہیں اور ہندستان میں سنی مسلمانوں میں اس کا رواج ہے۔لیکن اس مبارک اور مسرت انگیز مہینہ کیساتھ جس سے اسلامی سال کی ابتدا ہوتی ہے۔ ایک نہایت نامبارک، منحوس اور غم انگیز واقعہ ہے جس کو یادکرکے ہر مسلمان کا دل مغموم اور اس کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے یہ نواسہئ رسول، جگر گوشہئ بتول حسین ابن علی ؓ کی شہادت ہے جو خاص عاشورہ کے دن پیش آئی وہ اسی دن یزیدکے مقابلہ میں لڑتے ہوئے (جو تخت خلافت پر متمکن ہوگیا تھا اور شام میں بیٹھ کر اس وقت کی دنیائے اسلام پر حکومت کرتا تھا) کربلا کے میدان میں 10 محرم 60ہجری کو شہید ہوئے اور ان کے خاندان کے متعدد جوان مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا یہی واقعہ ہے جس کی یاد میں شیعہ حضرات محرم میں تعزیے اور علم نکالتے ہیں، ماتم اور سینہ کوبی کرتے ہیں، مجالس عزا منعقد ہوتی ہیں محرم کے دس دن اور پھر صفر کی 20تاریخ کو جو چہلم کہلاتی ہے اسی سوگواری، عزاداری اور ماتم و شیون میں گذرتی ہے۔ عراق اور ایران میں جہاں اہل تشیع کی بڑی تعداد ہے اور اودھ میں جہاں 136 سالہ شیعہ خاندان کی حکومت رہی ہے۔ اور ان میں بھی خصوصیت کیساتھ لکھنؤ میں محرم کی بڑی دھوم دھام اور اس کے مراسم کا بڑا اہتمام ہوتا ہے محرم کے ان مراسم میں جیسا کہ تمام مقامی رسوم کا دستور ہے ہر جگہ مقامی خصوصیات جلوہ گر ہیں، کہیں تعزیہ داری کا بڑا زور ہے کہیں کم، ماتم اور اظہار حزن و ملال کی شکلیں بھی جدا گانہ ہیں کہیں اس بارے میں تبدیلیاں اور اصلاحات کی گئی ہیں اور کہیں قدیم طریقے اب بھی رائج ہیں۔ مسلمان اچھی طرح سے جانتا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین ؓ نے دین کی بنیادی چیزوں میں جب تبدیلی ہونے لگی تو کس طرح بے چین ہوگئے اور بے چینی اتنی بڑھی کہ اس کی نشاندہی کیلئے اپنا سب کچھ لٹادیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت حسین ؓ حق کی علامت اور یزید حق کی ضد بن کر ابھرے۔ ان مسلمانوں کو جو محرم کے مہینہ میں کھل کر دین کی بنیادی چیزوں میں تبدیلی کرتے ہیں ان کو ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا چاہئے کہ وہ کس کی یاد منارہے ہیں؟ اور ایسے مسلمانوں کو جو سیاست اور ریاست کے نام پر دین کی خصوصیت بدلنا چاہتے ہیں یا بدل رہے ہیں ان کیساتھ عام مسلمانوں کو کیا سلوک کرنا چاہئے؟ یہ بھی کم قابل غورمسئلہ نہیں ہے۔ ایرانی انقلاب کے سب سے بڑے فلاسفر ڈاکٹر علی شریعتی نے اپنی کتاب ”شہادت“ میں لکھا ہے کہ ”جو لوگ حضرت حسین ؓ کے ماننے والے ہیں یا ان کے غم میں آنسو بہانے والے ہیں ان سے ایک خاص نقطے پر غور کرنے کی استدعا کرتا ہوں۔ وہ استدعا یہ ہے کہ حضرت حسین ؓ نے حق کے غلبے کیلئے اپنی جان عزیز دے دی اور نہ صرف اپنی جان دی بلکہ اپنے اہل و عیال کو حق کیلئے قربان کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ آج جو لوگ حضرت حسین ؓ کیلئے غم مناتے ہیں ان کو یقینا غم زدہ

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here