مولانا الیاس ندوی بھٹکلی کو ”الامین خطیب ایوارڈ‘ سے نوازا گیا:

بنگلور:07ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) آج سب سے بڑا سوال اُٹھ کر یہ آتاہے کہ ہم تعلیم تو حاصل کررہے ہیں مگر کیا ہم اپنی نئی نسل کے ذہنوں پر پنپ رہے ایسے سوالات جو شریعت اور دین وایمان کے کے لئے خطرے کا باعث بنتی ہیں کیا اس کا ہم صحیح جواب دے پارہے ہیں: یہ اہم ترین سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنا اور پھر نئی نسل کی تربیت پر سنجیدگی سے سوچنا یہ ضروری ہے: ان باتوں کا اظہار سابق یونین منسٹر ایڈوکیٹ جناب سلمان خورشید نے کیا، وہ یہاں کل بعد نمازِ مغرب الامین بنگلور و کے کیمپس میں منعقدہ فاؤنڈرس ڈے کے موقع پر انعامی تقریب سے صدارتی خطاب میں کیا: انہوں نے اپنے مختصر خطاب میں الامین کے بانی و روحِ رواں جناب ڈاکٹر ممتاز احمد خان کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیات موڈل ہیں،ا ن کی زندگی کی محنت اور کدو کاوشوں کو دیکھنے کے بعد محسوس ہوتاہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا؛انہوں نے اس موقع پر نئی نوجوان نسل کی تربیت پر زوردینے کی بات کہی اور کہا کہ تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہوتو پھر نئے دور کی نسل میں ایسے سوالات پیدا ہوجاتے ہیں جو ان کے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں، اور انہوں نے اپنے تجربہ کی روشنی میں ایسی مثالیں بھی پیش کی: ملحوظ رہے کہ تلاوتِ قرآن پاک سے شروع ہونے والے اس اجلاس میں استقبالیہ کے لئے ناظمِ جلسہ نے الامین ایجوکیشن سوسائٹی کے جنرل سکریٹری جناب سبحان شریف کو دعوت دی جنہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تمام مہمانان خصوصی اور اعزازی اور پھر الامین کے تمام بورڈ ممبرس اور دیگر عہدیدارن کا استقبال کیااو رپھر ایوارڈ کی تاریخ بھی بیان کرتے ہوئے اس پر مختصر تعارف پیش کیا، اس موقع پر راشٹریہ سہارا کہ گروپ ایڈیٹر جناب جاسم احمد نے بھی اپنے بات کہی اور پھر الامین کے ہر تحریر سے جڑنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر جناب سلمان خورشید اور دیگر مہمانان نے شال پوشی اور دیگر اہم ترین یاداشتوں کے ساتھ ڈاکٹر ممتاز صاحب کی عزت افزائی کی:اجلاس کی سب سے اہم کڑی تھی الامین کے سب سے بڑے ایوارڈ خطیب ایوارڈ کو دینے کی، امسال یہ ایوارڈ شہر بھٹکل سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت عالمِ دین مولانا الیاس جاکٹی ندوی کو دی گئی، ڈاکٹر ممتاز صاحب نے یہ اعزاز اور ایوارڈ ان کو دیا، ملحوظ رہے کہ گذشتہ تین دہائیوں سے مولانا الیاس جاکٹی ندوی بھٹکلی صاحب تعلیمی میدان میں کام کررہے ہیں، ان کا اسلامیات نصاب جو کہ بالخصوصی عصری طلباء کے لئے بنایا گیاہے وہ بارہ ملکوں میں جاری ہے اور ملک ہند کے تقریب تمام ریاستوں میں پڑھایا جاتاہے، اس کے علاوہ مولانا نے علی پبلک اسکو ل کے نام سے بھی ادھر کچھ دنوں سے بہترین عصری و دین علوم کا سنگم ایک موڈل ملک کے سامنے پیش کیا جو بہت ہی کم مدت میں ملک ہند کے اکثر علاقوں میں پھیل گیا اور اب اس کی شاخیں ایک سو کی تعداد کو پار کرگئی ہیں:ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد مولانا موصوف نے بھی پرمغز مگر مختصر خطاب کرتے ہوئے علم کی حقیقت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اقراٗ کے ساتھ ساتھ باسم ربک الذی خلق کا بھی دھیا ن رکھا جائے، بصورت دیگر ایسے ہزاروں تعلیم گاہیں اور درسگاہیں بن جائیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، مولانا ڈاکٹر ممتاز صاحب کی تحریک کو انہی کے اصولوں کے مطابق چلانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ الامین کی کامیابی اس کے اصولوں پر منحصر ہے لہٰذا تعلیم کے ساتھ طلباء کی تربیت پر زور ڈالا جائے، حفاظ کی دستار بندی کے موقع پر بج رہے میوزک پر مولانا نے جانے انجانے میں ہونے والے اس خطاکی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میوزک یا موسیقی ہمارے اجلاسوں کی رونق نہیں ہوتی، تقریب کی رونق تو ڈاکٹر ممتا زہیں اور آنے والے مہمان ہیں، یاد رہے کہ اس موقع پر تمام ڈاکٹر حافظ امجد کرناٹکی، مولانا شاکراللہ رشادی،جناب سبحان شریف، اور جناب سلمان خورشید سمیت دیگر بورڈ کے عہدیداروں کے ہاتھوں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں محنت کرنے والے اور بہترین کارکردگی کرنے والے اساتذہ کو ایوارڈ سے نوازا گیا، جناب سبحان شریف اس میں پیش پیش رہے؛ اور اخر میں مولانا شاکر اللہ رشادی کے دعائیہ کلمات پر یہ جلسہ اختتام کو پہنچا: تقریب میں بیرون ریاست کے مہمانان سمیت قریب دو ہزار افراد نے شرکت کی تھی:

تصویری جھلکیاں:الامین تعلیمی تحریک بنگلور کی جانب سے کامیاب فونڈرس ڈے کا انعقاد: مولانا الیاس ندوی بھٹکلی کو ”خطیب ایوارڈ‘ سے نوازا گیا:دیکھئے اجلاس کی تمام تصاویر اس لنک پر

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here