مذاکرات مخالفین سے ہی ہوا کرتی ہے،ہم خیالوں سے نہیں: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

4/ ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) بنگلور، (محمد فرقان): پچھلے دنوں سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ خوشگوار خبر موصول ہوئی کی جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت سے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ملاقات کی۔بعض لوگ اس ملاقات کا خیر مقدم کررہے ہیں تو بعض اسکی تنقیص۔لیکن ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ مذاکرات مخالفین سے ہی کی جاتی ہے ہم خیال لوگوں سے نہیں۔لہٰذا مولانا مدنی کے اس اقدام کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہار معروف عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ مولانا ارشد مدنی سے کسی کو کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن انکی نیت و اخلاص، سوچ و فکر اور دور اندیشی سے اختلاف کی شاید ہی گنجائش ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مولانا مدنی ایک کھلی کتاب ہیں، انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔اس پیرانہ سالی میں دن رات ملک و ملت کی فکر میں مشغول رہنا اور ملک و ملت کے ہر مسئلہ پر صفحہ اول میں اپنی حاضری درج کروانا، اسکی مثال بہت کم ملتی ہے۔ مولانا قاسمی نے فرمایا کہ جس طرح آج ملک نفرتوں کی آگ میں جل رہا ہے اسکا نتیجہ فقط اسکی تباہی ہے۔لہٰذا ایسی صورت حال میں اسلام و مسلم مخالف تنظیم کے سربراہ سے مذاکرات یقیناً اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان امن و امان، پیار و محبت اور ملک کی سلامتی چاہتا ہے۔اگر اس کے باوجود نفرت کی سیاست ہوتی رہی تو آئندہ کی نسلوں میں یہ پیغام پہنچے گا کہ مسلمانوں نے ملک میں پیار و محبت کی فضاء قائم کرنے کیلئے آخری درجہ کی کوشش آپس میں مذاکرات بھی کی تھی۔مولانا نے فرمایا کہ آج جو لوگ یہ کہتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کررہے ہیں کہ دشمنوں سے انہوں نے ملاقات کی ہے انکو سوچنا چاہئے کہ قائد ملت اسلامیہ مولانا ارشد مدنی نے کتنا صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہوگا، یقیناً انکی کوشش آج نہیں تو کل ضرور بالضرور رنگ لائے گی۔مولانا قاسمی نے سوال کھڑا کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ مذمت کررہے ہیں ان کے پاس اگر اسکے مقابلے میں کوئی دوسری ترکیب ہو جس سے نفرت کی سیاست ختم ہوجائے تو اسے پیش کریں۔مولانا نے کہا کہ اگر دشمنوں سے ملاقات کرنا غلط ہوتا تو فرعون سے حضرت موسی ؑکبھی نہیں ملتے، نمرود سے حضرت ابراہیم ؑکبھی نہیں ملتے، ابو جہل سے آقائے دوعالم ؐکبھی نہیں ملتے۔یقیناً دشمنان اسلام سے ملاقات کرکے اسلام کا پیغام پہنچانا بھی دین ہے اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔آج تک اسلام اور اسکے دشمنوں کے درمیان اکثر دیواریں غلط فہمیوں کی وجہ سے ہیں۔لیکن جیسے ہی ان تک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچا تو انہوں نے اسے قبول کیا۔تاریخ کے اوراق میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد کی شہادت میں حصہ لینے والے بیشتر لوگ اسلام قبول کرچکے ہیں۔لہٰذا مولانا مدنی اور بھاگوت کی ملاقات سے اگر کوئی نتیجہ خیر نہیں بھی ملتا ہے تو غلط فہمیوں کا ازالہ تو ضرور ہوگا۔لیکن ہمیں امید اور یقین ہے کہ اس اقدام سے ملک و ملت کو بہت فائدہ ہوگا۔شاہ ملت نے فرمایا کہ فدائے ملت نے بھی اس طرف قدم بڑھایا تھا، اور آج مولانا مدنی اپنے اکابرین کے نقش قدم پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات کا سلسلہ بند نہیں بلکہ جاری رہے گا۔مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ مولانا مدنی کے اس اقدام کی ہم خیر مقدم کرتے ہیں اورمولانا مدنی سے انہوں نے دوٹوک کہا کہ کوئی آپ کے ساتھ ہو یا نہ ہو لیکن ہمیشہ کی طرح ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اللہ کی مدد و نصرت آپکے ساتھ شامل حال ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here