15جولائی(سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع) آج آسام شہریت معاملے کی سماعت چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی دو رکنی بنچ کے سامنے شروع ہوئی۔ جمعیۃ علماء ہند اور آمسو کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور آن ریکارڈ وکیل فضیل ایوبی پیش ہوئے,قابل ذکر ہے کہ جو دو رِٹ پٹیشن عدالت میں داخل کی گئی ہے ان میں سے ایک جمعیۃ علماء ہند اوردوسری آمسو کی طرف سے داخل کی گئی ہے، آج انہیں دونوں پٹیشن پر بحث کے دوران کپل سبل اور سلمان خورشید نے اپنے دلائل پیش کیے جس کو ججوں نے سننے کے بعد بھارت سرکار اور آسام سرکار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوں نہ جمعیۃ علماء ہندجوکچھ کہہ رہی ہے اس کو تسلیم کر لیا جائے اس کے ساتھ ہی انہیں اس نوٹس کا جواب دینے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ این آر سی کے سلسلے میں جو گزٹ سینٹرل گورنمنٹ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا اس پر جمعیۃ علماء ہند اور آمسو نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی، اس کے تین نکات پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ غیرقانونی اور غیرآئینی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے:(1) این آر سی کی فائنل لسٹ آنے کے بعد جن لوگوں کا نام این آر سی میں نہیں آیا ہے اس کے لیے قانون ہے کہ 60 دن کے اندر این آر سی آفس سے وہ لوگ تصدیق شدہ کاپی لے کر فارن ٹریبونل میں داخل کریں، لیکن اس دستور میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ وہ ساٹھ دن کب سے شمار ہوگا، مثلاً این آر سی کے اعلان کے بعد شمار ہوگا یا تصدیق شدہ کاپی ملنے کے بعد۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ اگر ساٹھ دن کے اندر متاثرہ تصدیق شدہ کاپی حاصل نہیں کرسکا اور اپیل داخل نہیں کرسکا تو اپیل داخل کرنے کا اختیار ختم ہوجائے گا اس لیے جمعیۃ علماء ہند کا یہ مطالبہ ہے کہ ساٹھ دن تصدیق شدہ کاپی ملنے کے بعد شمار کیا جائے تاکہ متاثر اپنی اپیل داخل کرسکے اور اس قانون کا فائدہ اُٹھا سکے جو اس کو قانون نے دیا ہے۔(2) جب کوئی آدمی فارن ٹریبونل میں اپنی اپیل داخل کرے گا تو فارن ٹریبونل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اپیل کنندہ کا ریکارڈ طلب کرے گا۔ اگر اس کو اس ریکارڈ میں کچھ غلط نظر آیا تو فارن ٹریبونل کو یہ اختیار ہے کہ بغیر سنوائی کے ڈی ایم کے ذریعے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق اپیل خارج کردے۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ مطالبہ ہے اور قانون بھی یہی کہتا ہے کہ اپیل کنندہ کو اپنی بات اور ثبوت رکھنے کا پورا پورا موقع ملنا چاہیے۔ اگر اس کو پورا موقع نہیں دیا گیا اور اپیل بغیر سنوائی کے خارج کردی گئی تو یہ غیرآئینی قدم ہوگا۔(3) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ خصوصی اختیار دیا گیا ہے کہ اپیل کی سنوائی کے دوران ریفرنس بھی پیش کرسکتا یعنی اگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو یہ لگے کہ یہ فارنر ہے تو اس کو حراست میں بھی لے سکتا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ مطالبہ ہے کہ جو خصوصی اختیار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دیا گیا ہے یہ غیرآئینی ہے کیونکہ ایک آدمی کو شک کی بنیاد پر فارنر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ فریق پہلے ہی سے اپیل پر موجود ہے۔آج انہیں نکات پر تفصیلی بحث کے بعد عدالت نے بھارت سرکاراورآسام سرکارکو نوٹس جاری کرکے چارہفتوں کے اندرجواب طلب کیا ہے، جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اپنی مسرت کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے وکلاء کی بڑی کامیابی ہے اورنہ صرف وکلاء کی بلکہ آسام کے ان تمام مظلوم شہریوں کے لئے بھی یہ پیش رفت ایک بڑی راحت ہے جن کے نام این آرسی میں شامل نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ جن نکات کی طرف عدالت کی توجہ دلائی گئی ہے اگر ان پر عدالت جمعیۃعلماء ہند کے موقف کو تسلیم کرلیتی ہے تو اس سے آسام کے ان ہندواور مسلمان شہریوں کو بلاشبہ بہت فائدہ پہنچے گاجن کے نام کسی وجہ سے حتمی فہرست میں بھی شامل نہیں ہوتے، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف اورصرف انسانی جذبہ کے تحت آسام شہریت کے معاملہ کو لیکر قانونی جدوجہدمیں مصروف ہے کیونکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جس کا حل کیا جانا انتہائی ضروری ہے انہوں نے یہ بھی کہاکہ ملک کا آئین اپنے شہریوں کو بہت سی مراعات دیتاہے یہاں تک کے شہریت کے معاملہ میں بھی وہ متاثرشخص کو شہریت ثابت کرنے کا بھرپورموقع دینے کی وکالت کرتاہے انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ اپنی گارڈ لائن میں بھی اس بات کی وضاحت کرچکا ہے کہ جن کے نام این آرسی میں کسی وجہ سے شامل نہ ہوں انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کا پوراپوراموقع دیاجانا چاہئے مگر افسوس ایساکرنے کی جگہ ضابطہ کے نام پر فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے متاثرین کی راہ میں نت نئی دشواریاں اور رکاوٹیں پیداکی جارہی ہیں،مولانامدنی نے آخرمیں کہا کہ اس سلسلہ میں اب جو تازہ پیش رفت ہوئی ہے وہ انتہائی امید افزااورخوش آئند ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here