13جولائی(سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع) ملک بھر میں جو حالات رونما ہوئے ہیں،ان حالات پر قابوپانے میں جہاں حکومتیں ناکام ہوئی ہیں وہیں مسلمان بھی ان حالات سے نمٹنے میں بیبس نظرآرہے ہیں۔لوجہاد،گاؤکشی،گروہی تشدد، مدرسوں و مسجدوں پر الزام تراشیاں، مسلم پرسنل لاء کی تبدیلی،مسلمانوں کے تئیں عدم مساوات جیسے معاملات پچھلے دوعشروں سے بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں۔دراصل آج ہم جن حالات کا شکار ہیں وہ کل یا پرسوں بننے والے منصوبوں کی وجہ سے نہیں بلکہ آزادی سے پہلے سے تیارکئے جارہے منصوبوں کا خمیازہ آج اٹھانا پڑرہا ہے۔1925 میں جب آر ایس ایس کی بنیاد پڑی تو اْس موقع پر محض دو لوگوں نے یہ طئے کیا تھا کہ ہندوستان کو مسلمانوں سیآزاد کیا جائیگا اور ہندوستان کو ہندو راشٹر بنایا جائیگا۔ان کی اس چھوٹی سے کوشش کے سبب ہی1947 میں ہندوستان و پاکستان دو الگ ممالک بنے اور ایک ہندوستان ٹوٹ کر بکھر گیا۔اسی آر ایس ایس نے آزادی کے بعد ملک کو ہندوراشٹر بنانے کیلئے بی جے پی کی تشکیل دی،کیونکہ یہ جانتے تھے کہ حکومت بنائے بغیر وہ اس ملک کو ہندو راشٹرمیں تبدیل نہیں کرسکتے۔پہلی پارلیمنٹ میں ایک نشست پانے والی بی جے پی آج300 سے زائد نشستیں حاصل کرتے ہوئے طاقتور حکومت قائم کرچکی ہے اور اسی طاقت کی بنیاد پر وہ ہر لحاظ سے ہندوستان میں تبدیلی لانے کیلئے تیار ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ سنگھ پریوار کی شروعات کا سال1925سے لیکر بی جے پی کی اکثریت والی حکومت2019 تک کا جو طویل عرصہ رہا ہے اس طویل عرصہ میں سنگھ پریوارنے صرف سیاست میں اپنے قدم جمانے کا منصوبہ نہیں بنایا بلکہ اس تنظیم نے ہندوؤں کے ذہنوں کو اس قدر مستحکم کیا کہ ان کے نمائندے نہ صرف ہندوستان کے انتظامیہ،عدلیہ،میڈیا سمیت تمام شعبوں میں اپنے نمائندوں کو بھرتی کیا۔یہ سلسلہ اچانک نہیں شروع بلکہ قدم بہ قدم اس کی جڑیں مضبوط ہوتی گئی،جس کے نتیجہ میں آج ہم ملک کے بدلے ہوئے رنگوں کو دیکھ رہے ہیں۔دوسری طرف ہندوستان کی وہ قوم جس نے اس ملک پر800 سال حکومت کی تھی، وہ اپنے وجود کو کھوتی جارہی ہے،ہم نے نوابوں،نظاموں اور مغلوں کے جو طرز کو آج تک نہیں چھوڑا ہے،علم وادب،مذہب وتہذیب اور اخلاقیات کے تئیں لاپرواہی برتی ہے،جس کی وجہ سے آج ہم مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہونے کے باوجود بے یار ومددگار اور لاچار ہوچکے ہیں۔اگر مسلمانوں کو طبقہ اپنے اقراء کے حکم کو مان کر اپنے حال و مستقبل کو بنانے کی فکر کرتی تو یقیناً آج مسلمان قوم سب سے طاقتور قوم بن سکتی تھی۔ملک کے مسلمان تعلیمی لحاظ سے بے حد کمزور ہوچکے ہیں او رمسلمانوں کا بڑاطبقہ پڑھنا اور پڑھانا تو چاہتا ہے لیکن ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔حال ہی میں میں نے ایک نجی تعلیمی ادارے کا رخ کیا تھا،وہ تعلیمی ادارہ ایک آشرم کے ماتحت آتا ہے،یہاں ابتدائی تعلیم سے بارہویں جماعت تک کی تعلیم دی جاتی ہے،اور یہ آشرم کے ماتحت آنے کے باوجود داخلوں کیلئے رعایت نہیں دیتا بلکہ طئے شدہ فیس کے حساب سے ہی فیس وصول کرتا ہے۔اس کے علاوہ اس آشرم کے اسکول کو ان کے مذہب کے تاجروں کی جانب سے سالانہ ایک فیس مقررکی گئی ہے جو انہیں ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے اور یہ تاجران اپنی قوم کے بچوں کو میعاری تعلیم دینے کیلئے بڑے پیمانے پر فیس بھی بلا جھجک اور بلا تاخیر ادا کرتے ہیں۔اس رقم کو یہ لوگ طلباء کے داخلوں کی فیس میں جمع نہیں کرتے بلکہ تعلیمی اداروں کو فروغ دینے اور وسیع کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ان کایہ منصوبہ بغیر کسی مفادات کیچل رہا ہے۔حالانکہ ان سے کہیں زیادہ آمدنی اور زکوٰ? مسلمانوں کے یہاں ہے،لیکن مسلمان اپنے زکوٰ?اور ڈونیشن کو تعلیمی اداروں پر خرچ کرنے کے بجائے ایسے کاموں پر خرچ کرتے ہیں جس سیمسلم قوم ہمیشہ خود مختار ہونے کے بجائے دوسروں کے چندوں پر جینے والی قوم بنتی جارہی ہے۔یہ بات اور ہے کہ کچھ سالوں سے زکوٰ? انڈیا فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں مسلمانوں کے زکوٰ? اورعطیات کو لیکر ایسی ٹیمیں تیار کررہے ہیں جو سرکاری محکموں میں اعلیٰ عہدوں پرفائز ہوسکیں۔آج بھی ہندوستان بھر میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سرکاری سہولیات ملنے کے باوجود تعلیم حاصل کرنے میں ناکام ہے،کیونکہ جو انہیں سرکاری وظیفے ملتے ہیں وہ ان کے تعلیمی اخراجات کیلئے ناکافی ہیں۔رمضان کا مہینہ آتا ہے تو ہم صدقہ وخیرات اور زکوٰ? وعطیات کے نام پر ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں،کوئی راشن کٹ تقسیم کرتا تو کوئی رمضان کٹ تقسیم کرنے میں مقابلہ کرتا ہے،کوئی مدرسوں کو تعمیر کرنے کیلئے چندے دیتا ہے تو کوئی مسجدوں کو ہی اپنی آمدنی کا ایک حصہ چندے کے طو رپر دینے کو افضل سمجھتا ہے۔مگر اْن بچوں کا خیال نہیں کیا جاتا جو تعلیم حاصل کرنے کاشوق رکھتے ہیں اور وہ وسائل کی کمی کے باعث اخراجات کوپورا نہیں کرپاتے۔اگر ہم مسلمان اس سمت میں سوچنے لگے کہ مسلمانوں کو خوددار قوم بنانا ہے تو اس کیلئے ہمیں ابھی سے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہر محلے یا شہرمیں زکوٰ? فنڈ یا چاریٹبل سوسائٹی کا قیام کرتے ہوئے محلے کے لوگ ہی اپنی استطاعت کے مطابق زکوٰ?،عطیات جات اور اپنی آمدنی کے ایک حصہ کواس فنڈمیں جمع کرنے لگیں گے تو ضرورت مند اور مستحق طلباء کی تعلیمی کفالت کی جاسکتی ہے۔قوم بھلے ہی اپنے ہاتھوں میں اسمارٹ فون اسمارٹ گاڑیاں لیکر گھوم رہی ہو،وہیں اسی قوم کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے کسی نہ کسی طرح کی مددکا انتظار کرتا ہے۔آج اْمت میں تعلیم کافقدان ہے،جس کی وجہ سے ہمارے نوجوان ہماری نمائندگی کرنے سے قاصر ہیں۔اگر نوجوانوں میں تعلیم کوعام کیا جائے،ضرورت مند طلباء کوتعلیم کیلئے مالی امداد کے ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی کروائی جائے تو یہ قوم کیلئے بہترین سرمایہ بن سکتے ہیں۔ان طلباء سے بھلے ہم آج قوم کی بہتری کی توقع نہ کریں لیکن کل ضرور یہ کسی اعلیٰ مقام پرپہنچ کر قوم سے لئے گئے قرض کو چکانے کیلئے قوم کیلئے کام کرینگے۔ اپنے اپنے محلوں میں چھوٹے پیمانے پر اس کام کو شروع کیا جاسکتا ہے۔اگر کسی شہرمیں 25 مسجدیں ہیں اوران25 مسجدوں میں ہفتہ وار سطح پر چاریٹبل فنڈ ایک ہزار روپئے کی اوسط سے وصول کیاجاسکتا ہے تو ایک دن کے 25 ہزار روپئے اور مہینے کے ایک لاکھ روپئے بن جائینگے،سال کے12 لاکھ روپئے کا فنڈ25 مساجد سے جمع ہوگا۔یہ صرف اوسط رقم ہے اس سے زیادہ بھی رقم جمع ہوسکتی ہے،اس کیلئے محض قوم کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی،مسجدوں کے ذمہ داروں کو اس سمت میں کام کرناہوگا،ائمہ وعلماء کو اس سلسلے میں عوام کے سامنے بیداری لانی ہوگی تو یقیناً ہرسال12 لاکھ روپئے کی بڑی رقم سے کم ازکم100 بچوں کی کفالت کی جاسکتی ہے اور قوم کو کچھ ہی سالوں میں ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ نوجوانوں کی دی جاسکتی ہے،یہ ناممکن نہیں ہے بلکہ تھوڑی سے حکمت اور حرکت کرنے کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here