Maulana Syed Arshad Madani, President Jamiat Ulema-I-Hind during Press Confrence . in New Delhi .on Wednasday - Express Photo By Amit Mehra 09 March 2016

 مولانا سید ارشد مدنیمولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلا اب مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکررہے ہیں اور اب 18جولائی کے بعد ہی یہ بات سامنے آئے گی کہ آئندہ عدالت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔

11جولائی (سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع) سپریم کورٹ میں آج رام جنم بھومی اور بابری مسجد زمین تنازعہ معاملے پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار گوپال سنگھ نے کورٹ سے کہا کہ اس مسئلے میں ثالثی کام نہیں کر رہی ہے، ایسے میں سپریم کورٹ کو ہی کوئی فیصلہ سنانا چاہئے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے ثالثی کا وقت دیا، اس کی رپورٹ آنے میں ابھی وقت ہے۔ اب اس معاملہ میں اگلی سماعت 25 جولائی کو ہو گی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر صدارت آئینی بینچ نے ثالثی کمیٹی سے اس مسئلہ پر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ پینل کو یہ رپورٹ آئندہ جمعرات تک سپریم کورٹ میں جمع کرنا ہو گی۔ کورٹ نے کہا کہ اگر پینل کہتا ہے کہ ثالثی کارگر نہیں ثابت ہوتی ہے تو 25 جولائی کے بعد کھلی عدالت میں روزانہ اس کی سماعت ہو گی۔جمعیۃعلماۂند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم تو شروع سے چاہتے ہیں کہ عدالت اس معاملہ میں اپنا فیصلہ دے، لیکن چونکہ عدالت مصالحت کے ذریعہ اس کا حل چاہتی تھی اور اس کے لئے اس نے باضابطہ طورپر مصالحت کاروں کا ایک پینل بھی قائم کردیا تھا اس لئے عدالت کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہم نے مصالحت کاروں کے ساتھ تعاون کیا اور ان کے سامنے اپنا موقف رکھا۔ اجودھیا کیس: ہمیں عدالت پر مکمل اعتماد، ہم انصاف کے خواہاں ہیں: مولانا سید ارشد مدنی مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلا اب مصالحتی کمیٹی کی رپورٹ کا انتظارکررہے ہیں اور اب 18جولائی کے بعد ہی یہ بات سامنے آئے گی کہ آئندہ عدالت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ تاہم اگر 25جولائی سے سماعت کا آغاز ہوتاہے تو اس کے لئے ہمارے وکلا پوری طرح تیارہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم عدالت کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس پر اعتمادبھی کرتے ہیں ہم انصاف چاہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ عدالت محض اعتقادکی بنیادپر کوئی فیصلہ نہیں کریگی بلکہ اس کا فیصلہ ثبوت وشواہد کی بنیادپر ہوگا۔ انہوں نے تمام لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ قانونی عمل پر اعتمادرکھیں اور صبروتحمل کے ساتھ عدالت کے فیصلہ کا انتظارکریں اور ساتھ ہی غیر ضروری بیان بازی سے بھی گریز کریں تاکہ معاشرہ میں کسی قسم کا اشتعال نہ پھیلے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے جو ملکیت سے جڑاہواہے اوراس معاملہ میں ہماراموقف بہت مضبوط ہے۔

نیوز 18

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here