اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ کرناٹک میں جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی کانگریس و جنتادل کی حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

11جولائی(سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع)ممبئی: کرناٹک کے کانگریس و جنتا دل حکومت کو بچانے کے لئے آج جب یہاں کرناٹک کے وزیر شیوکمار ممبئی کے مضافات میں واقع ایک ہوٹل جہاں کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی قیام پذیر ہیں، انہیں منانے کے لئے ہوٹل پہنچے تو پولس کی بھاری جمعیت نے شیوکمار سمیت سابق مرکزی وزیر ملند دیوڑا، کانگریس کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محد عارف نسیم خان کو حراست میں لے لیا اور انہیں ممبئی یونیورسٹی کے گیسٹ ہاوس میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق آج علی الصبح شیوکمار جب پوائی علاقہ میں واقع ریننسن ہوٹل پہنچے تو یہ علاقہ پولس چھاونی لگ رہا تھا۔ مقامی ڈپٹی کمشنر آف پولس اور اعلی پولس افسران نے شیو کمار کو ہوٹل میں جانے سے روک دیا جس کے بعد انہوں نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ آمد باغی اراکین اسمبلی کے مدعو کیے جانے پر ہی عمل میں آئی تھی نیز ان کا اسی ہوٹل میں کمرہ بھی بک تھا لیکن پولس نے نظم و نسق کا بہانہ بنا کر انہیں اس ہوٹل میں قیام کرنے سے روک دیا۔ اس موقع پر باغی اراکین اسمبلی کے کئی ایک حمایتی بھی موجود تھے جنہوں نے شیوکمار واپس جانے کے نعرے بھی لگائے۔ اسی درمیان باغی اراکین اسمبلی نے ممبئی پولس میں شکایت درج کرائی ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لئے انہیں بھرپور تحفظ فراہم کیا جائے۔ شیو کمار کو جب ہوٹل میں جانے سے روک دیا گیا تو وہ ہوٹل کے روبرو ہی ملند دیوڑا، سنجے نروپم اور نسیم خان کے ہمراہ سڑک پر احتجاج کرنے بیٹھ گئے جس کے بعد پولس نے انہیں اور دیگر کانگریسی لیڈران و کارکنان کوحراست میں لے لیا۔ اس موقع پر اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ کرناٹک میں جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی کانگریس و جنتادل کی حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اور جس کے لئے مرکزی حکومت سے لے کر دیگر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کی مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کی جانب سے جمہوریت کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمرانہ ذہنیت رکھنے والی بی جے پی لیڈران کا واحد ایجنڈا حزبِ مخالف کی حکومت نہ چلنے دینے کا ہے۔ اس کے لئے سام، دام، ڈنڈ، بھید کا استعمال اور حکومتی مشینری کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ گوا، منی پور، اروناچل پردیش وبہار میں اسی کا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ہے اوراب مغربی بنگال وکرناٹک میں بی جے پی کی وہی کوشش شروع ہے۔ سابق مرکزی وزیر ملند دیوڑا نے کہا کہ کرناٹک حکومت گرانے کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت بھی کوششیں کر رہی ہے۔ ریاست کے وزراء عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے کرناٹک حکومت گرانے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کے ذریعے کانگریس کے ممبران اسمبلی کو ذاتی طیارے سے ممبئی لاکر فائیواسٹار ہوٹلوں میں انہیں رکھا جا رہا ہے۔ ملک کی سب سے امیر پارٹی بی جے پی کی جانب سے پیسوں کا لالچ دے کر اور اقتدار کا غلط استعمال کرکے دباوڈالا جارہا ہے۔ یہ جمہوریت کی بدقسمتی اور انتہائی افسوسناک باب ہے۔ بی جے پی کی ان حرکتوں سے ملک میں جمہوریت کو زبردست خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اسی درمیان ممبئی پولس نے رینائسنس ہوٹل کے درمیان میں دفع 144نافذ کر دی ہے جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here