8جولائی (سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع) ہر بالغ اہل ایمان پر جوآمدورفت کے اخراجات برداشت کر سکے حج فرض ہے۔ حج کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کامل طور پر خداوند کے سپرد کر دے۔ جیسا کہ اس گھر کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دیا تھا۔قرآئن مجید میں ان کے بارے میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ: ”وَاِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْن(۲:۱۳۱)یعنی جس وقت ابراہیم علیہ اسلام سے اس کے رب نے کہا کہ کاملاََ ہمارے تابع اور فرمابردار ہو جاتو اس نے فوراََ جواب دیا کہ میں سرتاپا پرورادگار عالم کا تابع فرمان ہو گیا۔“ اور اس کے بعد انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے ہر ایک سے اپنا تعلق منقطع کرکے اپنا مستقل رشتہ اپنے پروردگار سے جوڑ لیا یہاں تک کہ جب باپ،برادری،قوم اور بادشاہ سب نے انہیں آگ میں ڈالنے کا بالاتفاق فیصلہ کرکے اور گائے کے چمڑے میں سی کرآگ میں پھینکنے کیلئے گوپے میں بھی رکھ دیا تو جبرائیل علیہ لاسلام تشریف لائے اور گوپے کا رسہ تھام کر آپ سے عرض کیا:”ھَلْ لَکَ اِلَیَّ مِنْ حَا جَۃِِ؟یعنی ابراہیم مرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائے۔“حضرت ابراہیم نے جواب دیا: ”اَمَّا اِلَیْکَ فَلَا یعنی اگر مدد دینے وال تو ہے تومجھے آپ سے کسی مدد کی کوئی حاجت نہیں۔“جبرائیل علیہ اسلام نے بے قرار ہو کر عرض کیا تو پھر اپنی حاجت اللہ ہی سے مانگئے۔آپ نے جواب دیا:”حَسْبِیْ مِنْ سُؤَالِیْ عِلْمُہٗ بِحَا لِیْ۔یعنی اس سے عرض کرنے کی ضررت نہیں ہے،اس کو علم ہے کہ میں کس حال میں ہوں۔“حج کی ساری حقیقت حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے اسی اسوہ میں مضمر ہے اور اس کا اصل مقصود بندے کے اندر اسی جذبہ اور خداوند تعالیٰ سے اسی طرح کا تعلق پیدا کرنا ہے۔حج کی اصل حقیقت کیا ہے وہ حضرت جنید ؒ کے حسب ذیل بیان سے بھی ظاہر ہے:
ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ حج کرکے آیا ہوں۔حضرت جنید ؒ نے حیرت سے دریافت کیا: کیا تو نے حج کیا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں،حضرت جنید ؒ نے اس سے پوچھا کہ جب تم نے حج کے ارادہ سے گھر سے کوچ کیا تو کیا تو نے اس وقت اپنے گناہوں سے بھی کنارہ کیا یا نہیں؟ اس شخص نے جواب دیا کہ نہیں،میں نے تو اس کا خیال نہیں کیا۔حضرت جنید ؒ نے فرمایا کہ پھر تو تم حج کے لئے نکلے ہی نہیں۔پھر پوچھا کہ اس سفر میں تو نے جو منزلیں طے کیں اور راتوں کو جو مقام طے کئے کیا خدا کے تقرب کی منزلیں طے کیں ار اس راہ کے مقامات طے کرنے کا بھی اہتمام کیا؟ اس نے جواب دیا کہ اس کا تو میں نے اہتمام نہیں کیا۔حضرت جنید ؒ نے فرمایا کہ پھر تو تم نے خدا کے گھر کی طرف سفر نہیں کیا اور نہ اس کی طرف کوئی منزل طے کی۔پھر آپ نے پوچھا جب تم نے احرام باندھا اور اپنے روز مرہ کے کپڑے اتارے تو ان کے ساتھ تم نے اپنی بری صفات اور عادات سے بھی علیحدگی اختیار کی یا نہیں؟اس نے کہا کہ اس طرف تو میں نے توجہ ہی نہیں کی۔آپ نے فرمایا کہ پھر تو تم نے احرام بھی نہیں باندھا۔اس کے بعد حضرت جنید ؒنے پوچھا جب تو عرفات میں کھڑا ہوا تو کیا تجھے مشاہدے کا کشف حاصل ہوا یا نہیں؟ یعنی تو نے اپنے اندر یہ کیفیت پائی یا نہیں کہ گویا تواللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے موجود دیکھ رہا ہے۔اس نے جواب دیا نہیں ایسا نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا کہ پھر تو تو گویا عرفات میں گیا ہی نہیں۔اس کے بعد آپ نے اس سے پوچھا جب تو مزدلفہ گیا تو کیا تو نے نفسانی خواہشات کو چھوڑا یا نہیں؟اس نے جواب دیا کہ میں نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔آپ نے فرمایا کہ بس تو پھر مزدلفہ بھی نہیں گیا۔آپ نے پوچھا جب تو نے خانہ کعبہ کا طواف کیا تو کیا اس وقت تو نے جمال خداوندی کے لطائف دیکھے یا نہیں؟اس نے کہا کہ نہیں،میں نے تو ایسی کوئی شے نہیں دیکھی۔آپ نے فرمایا کہ پھر تو نے طواف بھی نہیں کیا،پھر آپ نے پوچھا کہ جب تو نے صفا اور مروا کے درمیان سعی کی تو کیا اس وقت تونے صفااور مروا اور ان کے درمیان سعی کی حقیقت اور اس کے مقصود کا بھی ادراک کیا یا نہیں؟میں ان کے مقصود کو نہیں سمجھا۔ آپ نے فرمایا کہ پھر ابھی تک تونے سعی بھی نہیں کی۔آپ نے پوچھا کہ جس وقت تو نے نحر کی جگہ قربانی کی تو اس جگہ اپنے نفس اور خواہشات کو بھی تو نے خدا کی راہ مین قربان کیا یا نہیں۔اس نے جواب دیا کہ نہیں،اس طرف بھی میری توجہ نہیں گئی۔آپ نے فرمایا کہ بس پھر تو نے قربانی بھی نہیں کی۔پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ جب تو نے جمرات پر سنگریزے پھینکے تو کیا تو نے اپنے ہم نشیں برے ساتھیوں اور بری خواہشات کو بھی اپنے سے دور پھینکا یا نہیں۔اس نے عرض کیا کہ نہیں۔آپ

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here