7جولائی (سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے تقریباً نصف فوجیوں کو واپس بلانے کے اعلان کے بعد ایک اوراعلان سامنے آیا ہے کہ افغان فریقین پر مشتمل امن مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 7/ اور 8/ جولائی کو ہونگے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق جرمنی کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان مارکوس پوٹزیل نے ایک بیان میں کہا کہ جرمنی اور قطر مشترکہ طور پر مذاکرات کو اسپانسر کررہے ہیں اور اس سلسلے میں دعوت نامے بھی مشترکہ طور پر دئیے گئے۔اس سے قبل امریکہ نے کابل میں کار بم حملے اور فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اپنے دیگر افغانوں کی بات سننے پر تیار نہیں،طالبان گھناؤنے اقدام سے امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔2/ جولائی کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکت افسوس ناک ہے،طالبان اس گھناؤنی اقدام سے امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے، اس حملے سے امن کی کوششوں کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کی طالبان اپنے دیگر افغانوں کی بات سننے پر تیار نہیں ہیں جو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ تنازعہ کا فوری اور پرامن حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔واضح رہے کہ امریکہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ ہفتہ افغانستان کے دوریکے موقع پر کہا تھا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کیلئے تیار ہے لیکن واشنگٹن نے طالبان کو فوج کے انخلاء کا کوئی وقت نہیں دیا ہے۔ افغانستان میں 28/ ستمبر کو صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں اس سے قبل ہی امن معاہدہ کیلئے کوششیں تیز تر دکھائی دیتی ہے اب دیکھنا ہے کہ امریکہ، جرمن اور قطر کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان اقتدار کے حصول تک اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اگر طالبان بھی صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے اپنا امیدوار کھڑا کرتے ہیں تو یہ قیام امن کیلئے ایک اہم کوشش قرار دی جاسکتی ہے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۰۰۰

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here