4جولائی (سیدھی بات نیوز سرویس/ذرائع) برطانیہ کی علاقائی حکومت کے مطابق پابندیوں کے باوجود شام کو تیل فراہم کرنے والے ایک مشتبہ آئل ٹینکر کو جبرالٹر کے مقام پر ضبط کر لیا گیا ہے۔

جمعرات کو علی الصباح شاہی میرینز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عملے نے آئل ٹینکر کا کنڑول سنبھال لیا۔

جبرالٹر حکومت نے ایک بیان میں بتایا کہ ’’ان کے پاس ایسی قابل یقین معلومات ہیں کہ گریس -1 نامی آئل ٹینکر پر خام تیل لدا ہوا تھا جسے شام میں بانیاس آئل ریفائنری لے جایا جا رہا تھا۔‘‘

جبرالٹر کے وزیر اعلی فیبئین پیکارڈو کے مطابق ’’ہمیں یقین ہے کہ گریس-1 شامی آئل ریفائنری بیاناس کے لئے خام تیل لے کر جا رہا تھا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ بیاناس آئل ریفائنری ایسے شامی عناصر کی ملکیت ہے جن پر یورپی یونین نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں.

یاد رہے کہ شامی حکومت نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ بانیاس شہر میں زیر سمندر تیل کی متعدد پائپ لائنز کو ’’تخریبی‘‘ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں شامی حکومت کی وزارت تیل اور معدنی دولت کے ذرائع نے بتایا کہ بانیاس آئل ریفائنری پائپ لائنز پر پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے وقتی تعطل کے بعد جلد دوبارہ کام شروع کر دے گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریفائنری پر موجود آئل ٹینکر میں ایک ملین بیرل خام تیل موجود ہے، جس ریفائنری پر ان لوڈ کیا جانا باقی ہے۔

بانیاس کا کنڑول روس کے ہاتھ میں
تیل صاف کرنے والی بانیاس ریفائنری شام کے مغربی ساحل پر بانیاس شہر کے شمال میں واقع ہے۔ اس ریفائنری کا کنڑول روس کے پاس ہے جو شامی حکومت کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔ بانیاس آئل ریفائنری شام کی سب سے بڑی اور اکلوتی تیل کی بندرگاہ ہے۔

دو ہزار سولہ میں شامی حکومت نے یہاں سے اپنے تمام ملازمین واپس بلا کر بندرگاہ کا کںڑول روس کے سپرد کر دیا تھا۔ روسی افسر اور فنی ماہرین اب تک وہاں مقیم ہیں اور فوجی کارروائیوں سمیت بندرگاہ آپریشن کے تمام امور سرانجام دے رہے ہیں۔ شامی اپوزیشن کا الزام ہے کہ روسی حکام وہاں ملازمین کے انتظامی امور بھی خود کنڑول کر رہے ہیں۔

بانیاس
یورپی یونین نے شامی حکومت اور اس کے مقرب افراد کے خلاف 2011 سے شامی جنرل پٹرولیم کارپوریشن پر پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔
دو ہزار اٹھارہ میں یورپی اتحاد نے ان پابندیوں میں مزید ایک برس کی توسیع کر دی۔ یہ اقدام شامی حکومت کی اپنے شہریوں کے خلاف ظالمانہ پالیسیوں کے تسلسل کی وجہ سے اٹھایا گیا۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here