عبدالعزیز

یکم جولائی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)بھاجپا سرکار میں پہلو خان کا جانوروں کی اسمگلنگ کے بہانے بہیمانہ قتل ہوا۔ اس وقت جبکہ راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے، شہید پہلو خان کے دو بیٹوں کے خلاف راجستھان کی پولس نے چارج شیٹ داخل کیا ہے۔ جو لوگ قتل کے ملزم تھے وہ آج بھی آزاد ہیں کل بھی آزاد تھے لیکن جو مارا گیا، جس کا خاندان ستایا گیا اس پر آج بھی جورو ستم جاری ہے۔ عام طور پر مسلمان سمجھتے ہیں کہ کانگریس بی جے پی سے بہتر ہے لیکن یہ کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو اس کا چولا بدل جاتا ہے اور وہ بھی بی جے پی کے بھیس میں نظر آنے لگتی ہے۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم روا رکھنے لگتی ہے۔ ہجومی تشدد کے خلاف کانگریس کے لیڈران لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بولتے نہیں تھکتے لیکن جب ان کی حکومت ہجومی تشدد کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور ہجومی تشدد کے نتیجے میں جو شخص مارا گیا ہے اس کے خاندان والوں کو پولس کے ذریعے ستایا اور پریشان کیا جارہا ہے تو منہ میں زبان نہیں ہے۔ اشوک گہلوٹ کو راہل گاندھی یا ان کے خاندان کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے اور ان سے یہ امید تھی کہ ان کی سربراہی میں راجستھان میں جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف کرے گی مگر ایسی خبریں آرہی ہیں کہ اشوک گہلوٹ وہی کچھ کر رہے ہیں جو راجستھان میں پچھلے دس سال سے وسندھرا راجے سندھیا اپنی حکومت میں کر رہی تھیں۔ پہلو خان شہید، ان کے بیٹوں اور ساتھیوں کوبھی چارج شیٹ میں ملزم قرار دیا گیا ہے؛ جبکہ پہلو خان قانونی طور پر جانوروں کی تجارت کرتے تھے اور ان کے پاس دستاویزات بھی تھے۔ جب ظالموں کو کاغذات دکھانے لگے تو اسے ظالموں نے پھاڑ دیا۔ آج بھی ویڈیو میں ظالموں کی ظالمانہ حرکتوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں قاتلوں کا مکروہ چہرہ بھی نظر آتا ہے۔ ان سب کے باوجود انھیں رہائی مل گئی اور آج بھی ان کے خلاف کانگریس سرکار کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے۔ کانگریس کی حکومت کے قیام کو چھ مہینے ہوگئے، آج تک وزیر اعلیٰ کا دفتر ان کی ماتحت وزارت داخلہ اس سلسلے میں خاموش ہے۔ اس وقت جبکہ پہلو خان کے خاندان کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے اور صرف ان ہی کے خاندان کو نہیں بلکہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کانگریس اپنے آپ کو کس طرح ظلم اور ناانصافی کرنے سے بچاسکتی ہے؟ شہید پہلو خان کے دونوں بیٹے راجستھانی سرکار سے اس قدر پریشان ہیں کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس سے اچھا ہوتا کہ سرکار ہمیں بھی گولی مار دیتی۔ بیٹوں کا کہنا ہے کہ انھیں کانگریس سے امید تھی کہ انصاف ملے گا لیکن کانگریس بھی بی جے پی کے نقش قدم پر گامزن ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ انھیں ان کا حق ملنا چاہئے۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اپنے داغ دار دامن کو بچانے کیلئے گزشتہ روز کہا کہ پہلو خان کے معاملے کی جانچ گزشتہ حکومت میں ہوئی تھی اور جانچ پوری ہونے تک چارج شیٹ پیش کی گئی۔ اگر اس جانچ میں کوئی خامی پائی گئی تو وہ پھر اس معاملے کی تفتیش کرائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ وزارت داخلہ کا محکمہ ان کے زیر نگرانی ہے تو کیسے ان کے دیکھے بغیر چارج شیٹ جو بی جے پی سرکار کے زمانے میں تیار ہوئی تھی اب داخل کی جارہی ہے۔ اگر داخل بھی کی جارہی تھی تو اسے موجودہ حکومت نظر ثانی کرسکتی تھی۔ کوئی معمولی معاملہ نہیں تھا بلکہ ایک بے گناہ اور ایک بے قصور کو قتل کیا گیا تھا اور بلا وجہ ان کے خاندان کو پریشانی اور حیرانی سے دوچار ہونا پڑا۔ اگر اس حکومت میں بھی مسلمانوں کیلئے کچھ بدلا نہیں ہے سب کچھ ویسا ہی ہے تو آخر مسلمان کانگریس کو بی جے پی سے کیسے اور کیونکر بہتر کہہ سکتے ہیں؟ کانگریس کی حکومت کی تاریخ انتہائی خراب ہے۔ اگر اس کے اوراق الٹے جائیں تو کانگریس کے سیاہ کارناموں کی اتنی بڑی لمبی فہرست ہے کہ وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے گی۔ کانگریس ہی کے زمانے میں 50 ہزار سے زائد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں۔ کروڑوں اربوں کی جائیدادیں مسلمانوں کی تباہ و برباد کی گئی ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر کر دیئے گئے ہیں۔ نیلی، میرٹھ، ملیانہ، ہاشم پورہ، جبل پور، بھاگل پور، جمشید پور، احمد آباد، مظفرنگر، بمبئی، کلکتہ کون سا ایسا شہر ہے جہاں چھوٹے یا بڑے پیمانے پر ایک بار نہیں کئی بار فسادات ہوئے۔ کسی بھی فساد میں فسادیوں کو قرار واقعی سزا نہیں دی گئی۔بی جے پی کا گزشتہ پانچ سال سے جو ظلم و ستم مسلمانوں پہ روا ہے اس کی وجہ سے مسلمان کانگریس کے ظلم و ستم کو بھولتے جارہے تھے لیکن کانگریس کی راجستھان کی حکومت نے پھر مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر فرق ہے تو ناموں کا فرق ہے لیکن دونوں کا عمل ایک ہے۔ ایک کا وار سامنے سے ہوتا ہے اور دوسرے کا پیچھے سے۔ کہا جاتا ہے کہ پیچھے سے وار کرنے والا دشمن زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ کانگریس کو یاد ہو یا نہ ہو جب مہاراشٹر کے مسلمان کانگریس سے اور اس کی بدبختی سے ناراض ہوگئے تھے تو کانگریس کے بجائے شیو سینا کو ترجیح دینے لگے تھے۔ الیکشن میں شیو سینا ہی کو ووٹ دیا۔ کانگریس سے ناراضگی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ مسلمانوں کانگریس کو شیو سینا سے بھی بدتر سمجھنے لگے۔ کہیں وہ دور پھر کانگریس کیلئے نہ آجائے کہ مسلمان کانگریس کو بی جے پی سے بھی بدتر نہ سمجھنے لگیں۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ کانگریس میں جو مسلمان لیڈر ہیں غلام نبی آزاد، احمد پٹیل، اور دیگر مسلم لیڈران راجستھان کی موجودہ حکومت کے رویے کے بارے میں کیا انداز اپناتے ہیں۔ کیا اشوک گہلوٹ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں یاخاموش رہتے ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here