عارف شجر،حیدرآباد،(تلنگانہ)
8790193834

یکم جولائی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی سکے کے ایک ہی پہلو ہیں دونوں کی ذہنیت میں بہت حد تک مماثل ہے، دونوں کے کام کاج کے انداز میں ذرا بھی فرق نہیں ہے بس فرق یہی ہے کہ کانگریس نے سیکولر کا لبادہ اڑھ کر پردے کے پیچھے اپنے فرقہ وارنہ ذہنیت کو انجام دیا تو بی جے پی نے کھل کر فرقہ پرستی کا کھیل کھیلا اور کھیل رہی ہے۔ دونوں نے مسلمانوں کی پیٹھ پر بیٹھ کر سیاسی روٹی سینکنے کا کام کیا ایک نے 70 سال سے پردے کے پیچھے سے مسلمانوں کے ساتھ ظلم بر بریت کی حد کر دی تو دوسرے نے کھل کر مسلمانوں کو مارنے کا کام کیا اور مسلمانوں کوپاکستان جانے کی بات کرتے ہوئے انہیں ذہنی زود کوب کرتے رہے اور انکی یہ کاروائی ہنوز جاری ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کانگریس نے سیکولر کا لبادہ اوڑھ کر جسطرح سے مسلمانوں کے اقتصادی، تعلیمی اورسیاسی میدان میں انہیں کمزور کرنے کی کوشش کی وہ سب پر عیاں ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے کانگریس کا دامن نہیں چھوڑا یعنی انہوں نے جمہوریت کی بقا کے لئے سیکولر پارٹی کہے جانے والی کانگریس کا ساتھ دیا لیکن مسلمانوں کوکیا پتہ تھا کہ کانگریس آستین میں خنجر رکھ کر مسلمانوں کا گلا کاٹنے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کر رہی ہے۔ مسلمانوں کا کانگریس سے ویسے بھی آہستہ آہستہ بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے جسکا 2019 لوک سبھا انتخابات کا نتیجہ سامنے ہے لیکن کانگریس پر اب بھی اعتماد کرنے والے بیشتر مسلمانوں کا بھروسہ تب اٹھا گیا جب اپریل 2017 میں راجستھان کے الور میں ہجومی تشدد کے شکار مرحوم پہلو خان پر ہی گائے کی اسملنگ کرنے کا الزام لگا کر پولیس نے چارج شیٹ داخل کر دی۔حیرت کی بات تو یہ کہ مرحوم پہلو خان انکے بیٹے محمد ارشاد چھوٹے بیٹے محمد عارف اور پک اپ وین ڈرائیور کا نام بھی چارج شیٹ میں داخل کرکے مظلوم کو ظالم اور مقتول کو قاتل بنا دیاگیا۔2017 میں جب پہلو خان ہجومی تشدد کے شکار ہوئے تو اس وقت راجستھان میں بی جے پی کی حکومت تھی یعنی وسندھرا راجے سندھیا سی ایم تھیں۔ پہلو خان کے بیٹوں نے تو اپنے والد کے قاتلوں کے خلاف معاملہ تھانے میں درج کرا دیا تھالیکن انہیں یہ امید نہیں تھی کہ بی جے پی حکومت میں انہیں انصاف ملے گا کیوں کہ جو کچھ بھی انکے والد کے ساتھ ہوا تھا وہ کسی نہ کسی کے اشارے پر ہوا تھا جسکا تار بی جے پی سے جڑا ہو ا تھا یہی وجہ تھی کہ انہیں انصاف کی امید بالکل نہیں تھی لیکن جب2018 میں راجستھان کی فرقہ پرست حکومت گری اور سیکولر پارٹی کہی جانے والی یعنی کانگریس کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو پہلو خان کے بیٹوں میں کانگریس کے تئیں اعتماد اور بھروسہ بڑھا اور انہیں امید ہونے لگی کہ کانگریس یعنی گہلوت حکومت سے انہیں انصاف ضرور ملے گا لیکن کانگریس نے بھی انکی امید پر پوری طرح پانی پھیر دیا، انکے اعتماد اور بھروسے کو چکنا چور کر دیا۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ کانگریس حکومت میں انکے والد اگائے کے اسمگلر ہو جائیں گے اور بیٹے قاتل۔ چارج شیٹ درج ہونے کے بعد اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کانگریس نے بی جے پی کا بھر پور ساتھ دیا ہے یعنی اس کا حق ادا کرتے ہوئے چارج شیٹ کے معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے جو بی جے پی حکومت میں ان پر الزام عائد ہوا تھا وہ من و عن ہے اس میں نہ تو دوبارہ کسی طرح کی جانچ کی گئی اور نہ ہی پہلو خان کے بیٹوں پر کوئی رحم ہی کیاگیا۔ اب پہلو خان کے بیٹوں نے میڈیا کے سامنے آ کر کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں میرے والد کو بے رحمی کے ساتھ پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا اب ہمیں کانگریس حکومت بھی پیٹ پیٹ کر مار دے حساب برابر ہو جائے گا۔ جس طرح سے پہلو خان کے بیٹوں نے اپنے درد کا اظہار کیا ہے اس سے تو ایک بات صاف ہو گئی ہے کہ کانگریس کی حکومت میں بھی انہیں انصاف سے محروم رہنا پڑے گا اور انکے والد مرحوم پہلو خان پر بھی کیس چلے گا یعنی کانگریس بی جے پی سے دو قدم آگے نکل گئی ہے جس کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے عیاں ہو گیا ہے۔ راجستھان گہلوت حکومت کے اس رویہ سے مسلم دانشورں، مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور مسلمانوں میں کانگریس کے تئیں کافی بے چینی پائی جا رہی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کانگریس کی اس معاملے میں سخت نکتہ چینی کی ہے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اقتدار میں آتے ہی کانگریس بی جے پی جیسی ہو جاتی ہے، اسد الدین اویسی نے مسلمانوں کو بھی غفلت کی نیند سے جاگنے اور کانگریس پر آنگھ بند کرکے اعتبارکرنے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں انہوں نے کہا کہ اب مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ”اقتدار میں آتے ہی کانگریس۔ بی جے پی جیسی بن جاتی ہے۔ انہوں نے خصوصی طور سے راجستھان کے مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینے کی صلاح دی اور کہا کہ ان لوگوں اور اداروں کی مخالفت کرنی چاہئے جو کانگریس پارٹی کے لئے کام کرتے ہیں۔ انہیں اپنا سیاسی پلیٹ فارم تیار کرنے کی کوشش شروع کر دینی چاہئے۔ اسد الدین اویسی نے کانگریس سے کہا کہ 70 سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اب مہربانی کر کے بدل جائیں۔بہر حال! ملک کے مسلمانوں کو راجستھان میں کانگریس کی کار کردگی سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ کانگریس کی2019 میں کراری شکست کے بعد سے اس نے سافٹ ہندوتو کو چھوڑ کر سخت گیر ہندوتو کا راستہ اپنا لیا ہے۔ یہی وجہ کہ اس نے پہلو خان معاملے میں اپنا دامن جھاڑ لیا ہے تاکہ ملک کا اکثریت ان سے خوش رہے، اس میں ذرا بھی حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ کانگریس نے سیکولر کا لبادہ اوڑھ کر جس طرح سے ملک کے مسلمانوں کے املاک چاہے وہ مذہبی ہوں یا پھر ذاتی، نقصان پہنچایا ضرور ہے، کانگریس کا زمانہ ہی تھا جہاں ملک کے ہر گوشے میں فرقہ وارانہ فسا دات برپا ہوئے، مسلمانوں کے گھر کے گھر تباہ و برباد ہوئے، عورتوں اور معصوم بچیوں کے ساتھ عصمت ریزی کرکے انکا قتل کر دیا گیا اسے مسلمان کبھی بھی بھول نہیں سکتا۔ بابری مسجد سے لیکر بہار کے بھاگلپور فساد تک مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا وہ تاریخ کے صفحوں پر درج ہے۔ یہ بات تو سب پر عیاں ہے بی جے پی مسلمانوں کی کٹر دشمن ہے بی جے پی پردے کے پیچھے نہیں بلکہ کھل کر مسلمان کے ساتھ ظلم و ستم کر رہی ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں لیکن کانگریس سیکولر کا لبادہ اوڑھ کر جس طرح سے مسلمانوں کے پیٹھ پر خنجر گھونپنے کا کام کر رہی ہے اس سے بیشتر مسلمان نہیں سمجھ پا رہے ہیں کانگریس کی عیاری اور سیاسی پالیسیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کی تازہ مثال ہمارے سامنے پہلو خان کا معاملہ ہے جس کو لے کر کانگریس کا متعصبانہ رویہ صاف جھلک رہا ہے، یا یوں کہیں کہ پہلو خان کے بہانے کانگریس نے بی جے پی کا حق ادا کر دیا ہے مطلب یہ ہوا کہ بی جے پی اور کانگریس ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here