از: غلام غوث، بنگلور۔فون:9980827221
(دوسری قسط)

29جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)5.4.1986کو خود موساد کے ایجنٹوں نے جرمنی کے Belle Discothege La کلب میں بم اڑادیے جس میں ایک امیریکن کے ساتھ کئی لوگوں کی جانیں چلی گئیں اور کئی زخمی ہوگئے۔ موساد کا منشا تھا کہ امریکہ غصہ میں آ کر لبیا پر بمباری کر دے اور دنیا کو بتا دے کہ لبیا کے صدر معمر قدافی ایک پاگل دہشت گرد ہیں۔مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ لبیا کی کاروائی نہیں ہے مگر امریکہ کو یقین ہو گیا کہ یہ لبیا ہی کی کاروائی ہے۔ امریکہ جسکو موساد پر یقین تھا اس نے جب پوچھا تو موساد نے لبیا ہی کو ذمہ دار بتا دیا۔ امریکہ کے صدر رونالڈ ریگن نے لبیا کے شہر ٹرپولی پر بمباری شروع کر دی۔ اس طرح امریکہ اور حسب اللہ کے درمیان دشمنی بڑھ گئی ، قدافی دہشت گرد قرار دے دیے گئے اور امریکہ کی نظروں میں موساد کی اہمیت بڑھ گئی۔ 14.4.1986 کو امریکہ کے 160 بمبار قریباً ساٹھ ٹن بم ٹرپولی پر گرائے جس میں ترپولی ایر پورٹ، باب العزیز بیرکس، صدی بلال بحری اڈڈاہ اور بین غازی ایر پورٹ تباہ ہو گئے۔کچھ بمبار ایر کرافت سمندر میں موجود ایر کرافٹ کیرییر Coral Sea سے بھی حملے میں شامل ہوے۔اس حملہ میں چالیس شہری اور معمر قدافی کی بیٹی بھی شہید ہو گئے۔امریکہ کا صرف ایک پائلٹ اور ایک افسر مرا۔یہ حقیقت بعد میں وکٹر آسٹروسکی کے ذریعہ دنیا کو معلوم ہوی۔ایسے بہت سے موساد کے راز تھے جنہیں اگر وکٹر اور اسکے ساتھی اسرائیل کے وزیر اعظم کو بتا تے تو وہ ایک انکویری کمیٹی بٹھا دیتا مگر اس دوران اْن شکایت کر نے والوں کو مار دیا جاتا جیسا کہ ہر ملک میں ہو رہا ہے۔اس لئے وہ خود خفیہ طریقہ سے موساد کو نا اہل اور ظالم ثابت کر نے لگے تھے۔وہ اسرائیل کو بچانا چاہتے تھے نہ کہ موساد کو۔لبیا کے بعد موساد نے عراق کو اپنا نشانہ بنایا۔ عراق کا نیوکلیر پلانٹ اسرائیل پہلے ہی تباہ کر چکا تھا۔ اسرائیل اپنے ہتھیار خفیہ طریقہ سے عراق کو جنوبی افریقہ کے ذریعہ فروخت کر نے لگا۔ کچھ ہتھیاروں میں خفیہ جاسوسی کے آلات بھی رکھ دیے تھے۔ موساد کے عراقی ایجنٹوں نے عراقیوں کو بتا دیا کہ کویت کی تیل کی کونسی لائن کو کہاں اڑا دیا جا سکتا ہے۔پائپ لائن اڑاتے تھے اسرائیلی ایجنٹ مگر نام آتا تھا عراقیوں کا جو اس مقام پر موجود ہوتے تھے۔ نتیجہ میں کویتی حکمران سمجھنے لگے کہ عراق کویتی حکومت کو تباہ کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔اسرا ئئیل ایسا اس لئے کر رہا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اس وقت کی عراق ایران جنگ میں کویت جو عراق کی مکمل مدد کر رہا تھا وہ بند کر دے۔اسرائیلی سیاستدانوں میں اور خصوصاً موساد میں ایک گروپ ایسا تھا جو چاہتا تھا کہ اردن کے ساتھ صلح ہو جائے اور ساتھ میں فلسطینیوں کو انکی زمین لوٹا کر انکے ساتھ بھی صلح کر لے اور اس طرح پورے خطہ میں امن قائم ہوجائے۔ مگر ایک گروپ یہ نہیں چاہتا تھا بلکہ فلسطینیوں کو خوب مارنا اور تنگ کرنا چاہتا تھا اور چاہتا تھا کہ انہیں ایک انچ زمین بھی نہ دیں بلکہ اردن پر زور ڈال کر تمام فلسطینیوں کو اردن میں جگہ دلوا دیں اور اسی کو فلسطینی ریاست کا نام دے دیں۔ایسا کرنے کے لئے وہ اردن میں خانہ جنگی کروانا چاہتے تھے۔سب سے پہلے انہوں نے اردن میں جعلی کرنسی پھیلائے اور مارکیٹ میں افرا تفری پھلا دی۔پھر مذہبی جنونیوں کو ہتھیار سپلائی کرنے لگے جیسے کہ انہوں نے حماس اور مصر کی اخوان المسلمین کو دے رہے تھے۔کچھ ان لیڈروں کو قتل کر دیے جو ملک میں استحکام کی کوشش کر رہے تھے۔ تعلیمی اداروں میں جھگڑے کروائے، اور حکومت کو مجبور کر نے لگے کہ وہ ان تمام کے خلاف سخت اقدامات کرے اور اپنی مقبولیت کھو بیٹھے۔ عربوں کی نادانی اور بیوقوفی کا فائیدہ اٹھا کر وہ اس کام میں کافی حد تتک کامیاب بھی ہو گئے۔عرب اپنی انا، نادانی اوور معلومات کی کمی کے سبب تب بھی آپس میں لڑ رہیے تھے اور آج بھی لڑ رہے ہیں۔(ایران کو دشمن اور اسرائیل کو دوست سمجھ رہے ہیں) عربوں کی یہ عادت تھی اور آج بھی ہے کہ وہ اسرائیل سے بات کرنا نہیں چاہتے اور جو کوئی بھی بات کر نے کا مشورہ دیتا ہے اسے غدار کہہ دیا جاتا ہے۔اس ڈر سے اردن اور اسرائیل کے درمیان صلح کی بات چیت خفیہ طریقہ سے ہونے لگی۔ مگر اسرائیل کی ایک بری عادت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ان مزاکرات کا راز فاش کر دیتا تھا۔وکٹر نے یہ تمام باتیں اردن کے ذمہ داروں کے سامنے رکھ دیں اور اردنی برگیڈیر جنرل ظہیر کو بتا دیا اور یہ بھی کہدیا کہ اردن کے بادشاہ کی زندگی کو خطرہ ہے۔ یہ سن کر اردن کے جنرل ہکا بکا رہ گئے۔وکٹر نے یہ بھی بتایا کہ اردن کے فون اور انکے خفیہ کوڈ سب کے سب اسرائیل کو معلوم ہیں۔ جو خبریں اور خفیہ اطلاعات دوسر عرب ملکوں سے اردن کو آتے تھے انہیں سننے اور روکنے اور غلط اطلاعات پہنچانے کے لئے موساد نے اردن کے شہر عمان میں ایک سائنسی آلات کا خفیہ نظام وہاں رکھ دیا تھا جسے موساد نے نام دیا تھا Unit 8200۔ اسرائیلی ایجنٹ جب کسی مشن پر نکلتے ہیں تو انہیں جتنی رقم کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر شہر میں موجود انکے بینکرس انہیں دے دیتے ہیں اور بعد میں ہیڈ کورٹرس سے انکی رقم لوٹادی جاتی ہے۔جنرل ظہیر کے کہنے پر وکٹر اردن آیا اور انہیں بتایا کہ انکے ملک میں اسرائیلی ایجنٹ موجود ہیں۔ کچھ تو اسپتالوں میں، کچھ فائر برگیڈ میں، کچھ سرکاری ملازموں میں اور کچھ ملٹری میں مگر انہیں پہچاننا مشکل ہے۔ ایسا اس لئے کہ جب بھی کوئی ملک جنگ شروع کر نا چاپتا ہے تو ان تمام محکموں کو تیار کر نے لگتا ہے تا کہ جنگ کے دوران ان کا ٹھیک سے استعمال کیا جا سکے۔ ان محکموں میں جب بھی کوئی معمول کے خلاف ہل چل ہو گی تو اسرائیل کو جنگ سے پہلے ہی معلوم ہو جائے گا۔وکٹر نے اردنی سیکریٹ سرویس کو وہ تمام طریقہ سیکھا دیے جس سے اردن کی فوجوں، کالیجوں اور آفسوں میں موجود اسرائیلی ایجنٹوں کو پہچانا جا تا۔ پھر انہیں کو ڈبل ایجنٹ بنایا جاتا اور انکے ذریعہ اسرائیل کو غلط سلط انفرمیشن دیا جاتا۔ جو اس کام میں ساتھ نہ دیتے انہیں مار دیا جاتا۔وکٹر اور اسکے ساتھیوں کو یقین تھا کہ اردن ان تما م طریقوں کو عراق، ایران اور شام کو ضرور بتا ئے گا۔ وکٹر نے اردن کو یہ بھی بتا یا کہ کیسے اسرائیلیوں کو بغیر کسی شک کے اردن کے ایجنٹ بنا یا جا سکتا ہے اور انکی معلومات اور تجربہ کا فائیدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔فلسطینیوں کی عادت تھی کہ وہ اسرائیل کے اندر گھس کر لڑا کر تے تھے جس میں وہ اکثر مار دیے جاتے تھے یا پکڑ لئے جاتے تھے۔ جنہیں پکڑ لیا جاتا انہیں مردہ اعلان کر دیا جاتا مگر انہیں تل ابیب سے قریب ایک چھوٹے گاوں کے قید خانے لے جا کر ان سے معلومات حاصل کئے جاتے۔مشکل سے وہاں سے کوئی قیدی زندہ نکل پاتا تھا۔اْس قید خانے میں ایک ریسرچ لیباریٹری تھی جہاں ان فلسطینیوں کو چوہے اور خرگوشوں کی جگہ اٹامک اور کیمیکل ریسرچ کے لئے استعمال کیا جاتا۔ وہاں ؓ دوائیاں بنانے کے بعد انہیں اور زیادہ ٹیسٹ کر نے کے لئے انسانی خدمت کے نام پر اسرائیلی ڈاکٹرس کی ایک ٹیم جنوبی افریقہ کے ایک شہر سویٹو میں موجود ایک اسپتال جو وننی منڈیلا اور ڈشمنڈ ٹو ٹو کے مکان سے قریب تھی وہاں مریضوں پر میڈیکل امداد کے نام پر ٹیسٹ کیا جاتا تھا۔لوگ اسے اسرائیل کی جانب سے خدمت خلق سمجھتے تھے مگر اصل میں اسرائیل اسے بھی ایک لباریٹری کے طور پر استعمال کر تا تھا۔اگر یہی ریسرچ کا کام اسرائیل کی اندر کیا جاتا تو دوائیاں بنانے والی کمپنیوں کو کروڑوں ڈالر خرچ کر نا پڑ تا تھا۔ مگر یہاں بہانہ خدمت کا مگر اصل کام ریسرچ کا۔ لنڈن کے ہیدرو Heathrow ا یر پورٹ پر El AL مسافر بردار ہوائی جہاز میں ایک بم پایا گیا جسے لنڈن کی سیکوریٹی نے نہیں بلکہ اسرائیل کی El AL سیکوریٹی نے دریافت کیا اور اسے بیکار کر دیا۔ مشہور کر دیا گیا کہ یہ بم فلسطینیوں نے رکھا تھا مگر سچائی یہ تھی کہ وہ بم خود موساد نے رکھا تھا اور خود اسی نے اسے دریافت کر نے کا ناٹک کیا تھا۔وکٹر کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں موساد کے تین ہزار یہودی مددگار ہیں جنہیں سیانم Sayanimپکارا جاتا ہے اور قریباً تین سو خفیہ مکان Safe Houses ہیں۔ یہ سب جب وکٹر نے برطانیہ کی انٹلیجنس کو بتا یا تو وہ پریشان ہو گئے۔ جب ان خفیہ کھروں اور فلیٹوں کا پتہ لگانے کی بات چلی تو وکٹر نے انہیں بوڈل Bodal کا پیچھا کر نے کے لئے کہا جو ان خفیہ فلیٹوں کو خطوط پہنچا تا ہے اور خود ان فلیٹوں میں رہنے والے طالب العلموں جیسا لگتا ہے اور انہیں کے ساتھ گھل مل کر رہتا ہے۔وہ کبھی سفارت خانہ کی کار یا کوئی بھی چیز استعمال نہیں کرتا۔۔ سیانمس کبھی خفیہ طور پر نہیں ملتے بلکہ وہ ہمیشہ کھلم کھلا دوستوں کی حیثیت سے ملتے ہیں اور پارٹیاں کر تے ہیں۔وکٹر لکھتے ہیں کہ 1986 میں ایران کے پاس امریکہ کے بنائے ہوے لڑاکو ہوائی جہاز فینٹم Fantomتھے جو اسرائیل کے پاس بھی ہوا کرتے تھے۔ چونکہ ایران کا امریکہ کے ساتھ دوستی کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا اس لئے اسے ایر کرافٹ کے پرزے مل نہیں رہے تھے اور ایر فورس پائلٹ بھی تربیت یافتہ نہیں تھے۔انہیں عراق کے ساتھ جنگ کے دوران پرزے اور مہارت کی ضرورت تھی۔ اسرائیل چاہتا تھا یہ دونوں ممالک لڑتے لڑتے اپنا سب کچھ کھو دیں اور قلاش بن جائیں۔ اسرائیل نے جرمنی کی خفیہ ایجنسی سے بات کی اور اسرائیل کے تجربہ کار پائلیٹ جرمنی کی سر زمین پر Schleswig Holstein کے مقام میں ایرانی پائلٹوں کو ٹریننگ بھی دیے اور پرزے بھی ڈینمارک کے ذریعہ سپلائی کئے۔ یہ وکٹر اور اس کے ساتھیوں کا موساد کے خلاف انتقام کہیں تو ٹھیک رہے گا۔(غور و فکر کریں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود اسرائیلی حکومت نے وکٹر کر یہ سب لکھنے کی اجازت دی ہو تاکہ عربوں اور دوسروں کو معلوم ہو جائے کہ اسرائیل کتنا طاقتور ہے اور وہ کسی بھی دوست اور دشمن کے ملک میں کیا کچھ کر سکتا ہے۔یہ بھی بتا نا مقصود ہو کہ وہ عربوں کو ہر میدان میں شکست دے سکتا ہے اور انہیں آپس میں لڑا بھی سکتا ہے۔اس کا فیصلہ خود قارین کریں۔ 27.5.2019 کو سعودی عرب کے سمندری جہازوں پر ہونے والے حملہ کو دیکھیں تو یہ اسرائیل کی خفیہ کاروائی ہو گی جبکہ الزام ایران پر لگا کر اسے بدنام کیا جا رہا ہے۔ قارین یہ نہ سمجھ لیں کے عربوں کی خفیہ ایجنسیاں بہت ہی کمزور اور نا اہل ہیں ۔ وہ بھی بہت ہی تجربہ کار ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے کارنامے کتابی شکل میں یا مضامین کی شکل میں نہیں مل رہے ہیں۔)۔جون 2019 میں امریکہ عرب اسرائل کے مسلہ پر ایک حل صدی کی ڈیل پیش کر نے والا ہے۔ دیکھنا ہے کہ وہ کیا ہے۔ پچھلے پچاس سالوں سے ہم مسلمان رمضان کی آخری جمعہ “یوم القدس “مناتے ہیں مگر خود نہیں جانتے کہ مسلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے۔کب تک عرب لڑڑتے رہیں گے اور مرتے رہیں گے جبکہ عرب ممالک کبھی ان کا عملی ساتھ نہیں دیں گے۔ 30.5.2019 کو جو عرب لیگ کے سر براہوں کا اجلاس ہوا اس کی روداد پڑھنے کے بعد ایسا لگا جیسے وہ کمزوروں اور چاپلوسوں کا اجلاس تھا جس میں صرف باتیں ہی باتیں اور ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف تھی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں میں ڈال چکے ہیں اور سب کچھ امریکہ کے اشارے پر کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔عرب اسرائیل کے مسلہ کے حل کے لئے بات چیت اور کچھ لے اور دے ہی ایک واحد راستہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here