از: غلام غوث،بنگلور۔ فون:9980827221

(پہلی قسط)

28جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)کیا ہم مسلمانوں میں کوئی ہے جو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے مشہور زمانہ خفیہ ایجنٹ وکٹر آسٹروسکی Victor Ostrosky کا نام اور اس کے کارنامے سنے اور پڑھے ہیں؟اسرائیل جو فلسطینیوں،عربوں اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ کیا کرتا ہے، کیسے انہیں اپنے فائیدے کے لئے استعمال کر تا ہے،کیسے ان کی خفیہ ایجنسیوں اور اداروں میں گھس کر انہیں اندر ہی اندر کھوکھلااور کمزور کر دیتا ہے اور عرب ممالک کو کیسے خفیہ انداز میں آپس میں لڑا تا ہے اور کیسے اپنے فائیدے کے لئے نفرتوں کو ہوا دیتا ہے تو آپکو وکٹر آسٹروسکی، Bar-Zohar, Peter Wright کی لکھی ہوی کتابوں کا مطالعہ کرنا ہو گا۔انمیں کچھ ایسی کتابیں ہیں جو امریکہ اور یوروپ میں بھی دستیاب نہیں ہیں کیونکہ اسرائیل نے ان سب کو خرید کر جلا دیا ہے اور دوبارہ شائع کرنے پر روک لگا دیا ہے۔ان میں سے ایک کتاب The Other Side of Deception 2002 سے 2018 تک نہ امریکہ میں ملی اور نہ ہی یوروپ میں۔عرب ممالک کو تو بھول ہی جائیے کیونکہ انہیں عیش و عشرت اور موج مستی سے فرصت ملے تب نا۔ مشکل سے 2018 کے آخر میں اس کتاب کے چند اقتباسات ملے۔میری مذہبی حضرات سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ ان کتابوں کا مطالعہ کرے یا ایسا لکھنے والوں کے مضامین اخبارات میں پڑھ لیں۔ان کتابوں میں ان رازوں اور واقعات پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے جن پر یقین کرنا مشکل ہے۔سیاسی قتل اس طرح کئے جاتے ہیں کہ کرتا کوئی ہے، گمان کسی اور پر جاتا ہے، پکڑا کوئی اور جاتا ہے مگر سزا کسی اور معصوم کو دی جاتی ہے۔موساد کے اس طریقہ کار کو کئی ممالک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اپنے سیاسی حریفوں کو ختم کرنے کے لئے بھی۔ 11.9.2011 کو امریکہ میں جس انداز سے نیو یارک میں ٹاورس کو گرایا گیا، صدر کینڈی کو جس طرح قتل کیا گیا، جنرل ضیا الحق کو کس طرح مارا گیا،عراق، افغانستان اور لبیا کو جس طرح بہانا بنا کر تباہ و برباد کیا گیا یہ سب اْسی خطرناک کھیل کی ایک کڑی ہے جو شاطر دماغ خفیہ ایجنسیوں نے کیا۔ وکٹرآسٹروسکی 28.11.1949 میں کینڈا میں پیدا ہوا کیونکہ اس کا خاندان روس سے نکل کے کینڈا میں بس گیا تھا۔بعد میں وہ اپنی ماں کے ساتھ اسرائیل آ کر بس گیا تھا۔ 18سال کی عمر میں وکٹر اور اس کی بیوی Bellan اسرائیلی فوج میں بھرتی ہوگئے۔ 1977 میں وکٹر اسرائیلی بحریہ میں کیپٹن کے عہدے پر فائز رہا اور پانچ سال بعد لیفٹنٹ کمانڈر بن گیا۔اس کی قابلیت کو دیکھ کر بڑی کوششوں اور ڈرانے دھمکانے کے بعد موساد نے اسے خود میں شامل کر لیا۔موساد ایک چھوٹاجاسوسی ادارہ ہے جس میں صرف تیس سے چالیس کیس ورکرس ہوتے ہیں اور انہیں جاسوسی کے تمام داو پینچ سکھا ئے جاتے ہیں جیسے چوری کر نا، کسی کا پیچھا کر نا، مارنا،معلومات حاصل کرنا وغیرہ۔ وکٹر ایک نڈر انسان تھا مگر اسے موساد کا طریقہ کار اور اس کا نظریہ پسند نہیں تھا جیسے جھوٹ بولنا،اپنے مفاد کے لئے معصوموں کو قتل کرنا، آپس میں لڑانا، فسادات کرانا، جھوٹی خبریں پھیلانا وغیرہ۔جب وکٹر نے اس طریقہ کار کے خلاف آواز اٹھائی اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کی تو اسے موساد سے نکال دیا گیا اور ڈرایا گیا کہ موساد کے اندر سیکھے ہوے کسی بھی راز کو افشا نہ کرے۔ موساد کے اندر اس کے کچھ ہمخیال بھی تھے۔ اس کے ایک ہمخیال افرائم Ephraim نے بتایا کہ موساد کے اندر کچھ ایسے افسر موجود ہیں جو موساد کو ملک کے فائیدے سے زیادہ اپنے فائیدے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔یہ گروپ نہیں چاہتا تھا کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان مفاہمت ہو۔وہ چاہتے تھے کہ دنیا بھر کے ممالک جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں اسکے پیش نظر اسرائیل ایک زبردست ملٹری قوت رہے۔ موساد کے یہ افسر نہیں چاہتے تھے کہ انکے ساتھ ایسے افسر رہے جو اسکے کاموں کی مخالفت کر تے ہوں۔ ویسے بھی کچھ اسکے ہمخیال وکٹر کی دلیری اور حق گوئی کودیکھکر چاہتے تھے کہ وہ موساد کے تمام راز جاننے کے بعد موساد سے باہر نکل جائے اور انکا ساتھی بن کر اسرائیل اور عربوں کے درمیان مفاہمت کے سلسلہ میں کام کرے اور موساد کے اس کھیل سے پردہ اٹھائے۔(ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے اندر کچھ ایسے با اقتدار لوگوں کا گروپ ہے جو امن نہیں چاہتا بلکہ چاہتا ہے کہ یہ لڑائی ہمیشہ چلتی رہے، نئے نئے ہتھیاروں کی خرید و فروخت ہوتی رہے اور ان لوگوں کی تجوریاں بھرتی رہیں چاہے کتنی بھی جانیں جائیں اور کتنی بربادی ہو جائے۔مصر اور اردن نے اسرائیل سے بات چیت کے ذریعہ سمجھوتہ کر لیا اور تمام خون خرابہ بند ہو گیا۔ویسے ہی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کچھ لے دے کر بات چیت کے ذریعہ سمجھوتہ ہو گیا تو پورے مشرق وسطی میں امن ہو جائے گا اور ہتھیاروں کی دوڑ بند ہو جائے گی۔)وکٹر اور اس کے دس ساتھیوں نے موساد کے ان افسروں کے ارادوں پر پانی پھیرنے کے لئے ان کے رازوں سے پردہ اٹھانا شروع کر دیااور یہ کام وہ لوگ خفیہ طریقہ سے کرنے لگے۔ یہ سب کچھ 1986 میں ہو رہا تھا۔موساد میں کام کرنے والے تمام کے فون خفیہ طریقہ سے ٹیاپ کئے جاتے تھے۔ وکٹر نے اپنے دوستوں کی صلاح کے مطابق موساد کے تمام رازوں کے کاغذات اور سی ڈی ایک سوٹ کیس میں ڈال کر لنڈن نکل پڑا اور اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو وہیں رہنے دیا۔اسے ڈر تھا کہ موساد کے اسکے مخالف اسے جان سے مار دینے کی کوششش ضرور کریں گے۔ ایسے ہی خیالات رکھنے والے موساد کے ہونے والے نئے چیف جنرل Yekutiel Adam کو جون 1982میں بیروت میں جنگ کے دوران مروا دیا گیا کیونکہ وہ ضرور انکے غلط کام میں روڑے اٹکا سکتا تھا اور انکے خفیہ ارادے کو منظر عام پر لا سکتا تھا۔کوئی بھی شخص اگر موساد کے اس گروپ کی خفیہ کاروائیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کر تا ہے تو اسے کسی ایکسیڈنٹ کے ذریعہ موت سے ہمکنار کر دیا جاتا ہے۔وکٹر اور اس کے ساتھیوں نے نہایت ہی دلیری کے ساتھ اس مشن کو انجام دیا۔ان لوگوں کی کوشش تھی کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان بات چیت ہو اور مفاہمت ہو جائے تاکہ یہ روز روز کے اموات اور بربادی ختم ہو جائے۔فلسطینیوں کو اپنے اعتماد میں لینے کے لئے انہوں نے اپنے ساتھی Yako Barsimon کے ذریعہ سے امریکہ کے اسسٹینٹ ملٹری اٹاچی چارلس رابرٹ ریے کی مدد لی۔ چارلس رابرٹ کا خیال تھا کہ ایسی مفاہمت سے امریکہ کو بھی فائیدہ ہو گا اور دنیا میں امریکہ کی عزت بھی برقرار رہے گی۔ یہ راز نہ جانے کیسے اس مخالف گروپ کو معلوم ہو گیا اور انہوں نے دونوں کو پر اسرار طریقہ سے شوٹ کر دیا اور اْس رائفل کو ایک فلسطینی ادارے کے آفس میں رکھ دیا۔انکا مقصد تھا کہ اس طرح اسرائیل لبنان پر حملہ کر دے اور جنگ چھڑ جائے۔وکٹر نے اپنے آفس کے ساتھی Ephraim کے سمجھانے کے بعد موساد سے باہر ہونے کے سبب انکے گروپ کے ساتھ ملکر موساد کے خلاف کام کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔اسے امید تھی کہ موساد کو اس پر شک نہیں ہوگا۔ یہ لوگ موساد کو ایک سچّا ملک کا وفادار بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔وہ دس آدمی تھے جن میں سے کچھ ابھی تک موساد کے اندر ہی تھے۔وکٹر پلان کے مطابق امریکہ کے نیویارک شہر آیااور پی یل او Palestine Liberation Organization کے آفس جا کر اپنا تعارف کراتے ہوے بتایا کہ انکی فون پر ہونے والی ہر بات موساد کو معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی بتایا کہ مسٹر یاسر عرفات سوائے تیونس کے کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ہیں کیونکہ انکی جان کو ہمیشہ خطرہ ہے۔یہ بھی بتایا کہ اسرائیل میں خود موساد کے اندر ایسے لوگ ہیں جو فلسطینیوں کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں اور دونوں طرف موت اور بربادی کے کھیل کو روکنا چاہتے ہیں۔پی یل او کے آفس چیف مسٹر یاسین نے بھی بتایا کہ انمیں بھی ایسی لوگ ہیں جو اسرائیل سے مفاہمت چاہتے ہیں۔اس طرح وکٹر اور اسکے ساتھی موساد کا ہر راز فاش کر نے لگے۔وہ اسرائیلی حکام کو بھی بتانا چاہتے تھے کے موساد کے اندر ایسے آدمی گھس آئے ہیں جو خود اسرائیل کے لئے خطرہ ہیں اور جو صرف لڑائی جھگڑوں کے حامی ہیں۔وکٹر اور Ephraim نے موساد کی ایک سب سے اہم خفیہ کاروائی پر سے پردہ اٹھا دیا جو کرنل قدافی اور لبیا سے تعلق رکھتا تھا اور جس کے لئے کوڈ نام دیا گیا تھا آپریشن ٹروجن۔ٹروجن ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ دشمن ملک کی پیغام رسانی انہیں کے کوڈ میں کی جاتی ہے تاکہ دوسرے ممالک سمجھیں کے وہ قدافی کے حکم سے دوسرے ممالک میں تقریبی کاروائی کر نے کے احکام جاری کیے جا رہے ہیں۔ احکامات موساد نشر کر تا ہے مگر نام ہو تا ہے لبیا کا۔ اس طریقہ سے وہ دوسرے ممالک میں تقریبی کاروائیاں کرنے کے احکامات جاری کر تا ہے۔پیغام میں فلاں ملک کے اندر توڑ پھوڑ کرنے، انتشار پھلانے اور دہشت گری کرنے کی بات ہوتی ہے۔ 1986 میں سب سے پہلے موساد کے ایجنٹوں نے قدافی کے محل کے قریب موجود نشرو اشاعت کی عمارت کے قریب ایک عمارت کرائے پر لیے اور 17.2.1986 کو ایک جنگی جہاز اور دو چھوٹے آبدوزوں کے ذریعہ ٹروجن کو سمندری راستے سے رات کے اندھیرے میں ٹرپولی کے ساحل پر پہنچایا گیا اور وہاں سے ٹرک کے ذریعہ اس عمارت میں لا کر رکھا گیا۔پھر سمندر میں موجود جہاز سے پہلے ہی ریکارڈ کئے ہوے یوروپ امریکہ اور عرب ممالک کے خلاف پیغامات ٹروجن کو پہنچائے جاتے ہیں اور ٹروجن کے ذریعہ ان پیغامات کو لبیائی کوڈ میں ان ممالک میں موجود اپنے سفارت خانوں کو نشر کیے جاتے ہیں۔ یہ تمام نشریات سی بی آی، یف بی آئی اور یم آئی6 کو بھی مل جاتے ہیں۔ان نشریات میں ھدایت ہوتی تھی کہ اْن ملکوں میں کہاں اور کیسے انتشار پھلانا ہے، کہاں بم پھوڑنا ہے اور کیسے ان ممالک کے مفادات کو دھکا پہنچانا ہے۔ پھر خود ہی موساد کے ایجنٹ وہ سب کچھ کر دیتے ہیں مگر نام آتا ہے معمر قدافی اور لبیا کا۔ (جاری ہے)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here