ڈاکٹر سلیم خان

25جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)یہ نہایت دلچسپ حسنِ اتفاق ہے کہ نئی حکومت کے اولین پارلیمانی اجلاس میں جہاں بی جے پی طلاق ثلاثہ کا بل پھر سے پیش کرے گی وہیں کانگریس پارٹی کے رہنما پریم چندرن سبری مالا مندر میں ہندو خواتین کے داخلہ پر پابندی کا نجی بل پیش کریں گے۔ یعنی ایک مسلمان خواتین کے ساتھ ہمدردی کا ڈھونگ رچائے گا اور دوسرا ہندو مذہبی اقدار و روایات کے تحفظ کا ناٹک کرے گا حالانکہ ان میں سے نہ کسی کو مسلم خواتین سے ہمدردی ہے اور نہ کوئی اپنے مذہب کا وفادارو محافظ ہی ہے۔ ان منافقانہ رویوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قومی سیاست کا واحد المیہ فسطائیت نواز بی جے پی کا برسرِ اقتدار آجانا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ سیاسی جماعتوں نظریات سے عاری ہوجاناہے۔ بدقسمتی سے تمام ہی قابلِ ذکر سیاسی جماعتوں نے اصول و ضوابط کو دریا برد کرکے ابن الوقتی اور موقع پرستی کو اپنا شعار بنا لیاہے۔اس دگر گوں صورتحال کیمیں وطن عزیز کے اندر امت مسلمہ کے علاوہ (جس کے پاس ایک منفرد نظام حیات ہے) دو اور نظریاتی گروہ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہندوتوا کا پیرو کار سنگھ پریوار ہے اور دوسرے اشتراکیت کا علمبردارسرخ پرچم ہے۔حالیہ قومی انتخاب کے دوران اور بعد زعفرانیوں پر تو خوب لکھا گیا اور اس میں بہت حدتک مبالغہ بھی ہوا لیکن اشتراکی تحریکات پر سیر حاصل گفتگو نہیں ہوئی۔ تریپورہ کمیونسٹ پارٹیوں کا مضبوط قلعہ تھا جو صوبائی انتخاب میں پوری طرح ڈھے گیا اور وہاں کی ایک پارلیمانی نشست بھی حسب توقع بی جے پی کی جھولی میں چلی گئی۔ اسی کے ساتھ مغربی بنگال میں ۳۵ سال تک حکومت کرنے والی کمیونسٹ پارٹی کا بھی سپڑا صاف ہوگیا۔ کیرالا میں صوبائی حکومت کے باوجود وہ صرف ایک نشست پر کامیاب ہوسکی۔ فی الحال بام مورچہ کے پانچ میں سے چار ارکان پارلیمان تمل ناڈو سے آتے ہیں۔ اس کامیابی کا سہرہ اسٹالن کے سر ہے۔ اتفاق سے اس نام کے اسٹالن کا اشتراکی نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس تناظر میں مغربی بنگال اور کیرالا کا منظر نامہ اہم ہوجاتا ہے۔کیرالا سے۲۰۱۴ ؁ میں بائیں محاذ نے۸نشستوں پر کامیابی درج کرائی تھی۔ اس وقت کانگریسی صوبائی حکومت پر قابض تھے۔ گزشتہ ریاستی انتخاب میں بی جے پی کے کانگریسی محاذ کے ووٹ میں سیندھ لگائی اس کا فائدہ بائیں محاذ کو ملا اور وہ اقتدار پر فائز ہوگیا۔ اس مرتبہ چونکہ صوبے میں سی پی ایم کا وزیر اعلیٰ تھا اس لیے بہتر کارکردگی کی توقع تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کیرالا کے اندریو پی اے نے ۲۰ میں سے ۱۹ نشستیں جیت لیں اور ایک نشست پر کمیونسٹ پارٹی (مارکسسٹ) کے کے ایم عارف کامیاب ہوگئے۔ الا پذو حلقۂ انتخاب سے یہ کامیابی بھی ہندو رائے دہندگان کے سبب نہیں ہوئی۔ یہاں پر بی جے پی کو ایک لاکھ ۸۸ ہزار ووٹ ملے جبکہ عارف نے کانگریس کے عثمان کو صرف دس ہزار ووٹ کے فرق سے ہرایا۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس واحد امیدوار کی کامیابی بھی مسلمانوں و عیسائیوں کی مرہون منت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیرالا کے ہندو رائے دہندگان نے کمیونسٹ پارٹی سے منہ موڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس سوال کا جواب جاننا اشتراکی حضرات کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ ان طبقات کا اعتماد حاصل کیا جاسکے۔اس انتخاب سے قبل عدالت عظمیٰ نے کیرالا کے دو معاملات کے اہم فیصلے کیے۔ ان دونوں کا فائدہ اٹھانے کی بی جے پی نے بھرپور سعی کی لیکن اس کو منہ کی کھانی پڑی۔ پہلا معاملہ نومسلم ڈاکٹر ہادیہ اور شافین کے نکاح کا تھا۔ ابتدا میں اس کو‘‘لوجہاد ’ کا نام دے کر ہندو عوام کے جذبات کو مشتعل کیا گیا۔ نفرت کے شعلوں کو ہوا دینے کے لیے شافین کو داعش تک سے جوڑ دیا گیا لیکن بالآخر سپریم کورٹ نے ہادیہ کو والد کے جابرانہ چنگل سے نکال کر شافین کا گھر بسانے کی اجازت دے دی۔ اس مقدمہ میں شافین کی مستقل مزاجی اور ہادیہ کی ثابت قدمی نے سب کے دانت کھٹے کردیئے اور بی جے پی نے محسوس کیا کہ اس کو طول دینے سے رسوائی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لیے بہ سہولت اس کو بھلا دیا گیا۔انتخاب سے چند ماہ قبل کیرالا کے سبری مالا مندر کی بابت عدات عظمی نے ایک اور فیصلہ سنادیا۔ سچ تو یہ ہے ملک کیروشن خیال دانشور اس معاملے کو بلاوجہ عدالت میں لے کرگئے۔ سبری مالا مندر میں جانا سارے ہندووں کے لیے لازم نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس طرح عبادتگاہوں میں داخلہ پر وہ لوگ اصرار کرتے ہیں جو عام حالات میں کسی عبادتگاہ کے قریب نہیں پھٹکتے۔ ہندو خواتین سبری مالا کے ایپاّ مندر کے علاوہ اس کے دیگر مندروں میں جاسکتی ہیں لیکن ان لوگوں نے سبری مالا میں داخلہ پر اصرار کیا اور اپنا یہ حق منوانے کے لیے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت عظمی نے مذہبی جذبات و روایات کا پاس و لحاط کیے بغیر جنسی مساوات کے نام پر معروضی انداز میں ۵۰ سال سے کم عمر کی خواتین پر مندر میں داخلہ کی پابندی کو ختم کردیا۔ طلاق ثلاثہ کیفیصلے کو سراہنے والی بی جے پی اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر اتر آئی۔ اس کو امید تھی کہ وہ ہندووں کے جذبات بھڑکاکرکے انہیں اپنا ہمنوا بنا لے گی لیکن انتخابی نتائج نے اسیغلط ثابت کردیا۔سبری مالا کے فیصلے نے کمیونسٹ پارٹی کو دوہرے دھرم سنکٹ کا شکار کردیا۔ نظریاتی سطح پر جنسی مساوات کے نام پر کیے گئے اس فیصلے کی مخالفت کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا اور ریاستی اقتدار کے سبب سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرنا اس کی آئینی ذمہ داری بھی تھی۔ اشتراکیوں نیبحالت مجبوری خواتین کے مندر میں داخلے کو نہ صرف یقینی بنایا بلکہ اس کی خوب پذیرائی کی جس سے ہندو عوام کی دلآزاری ہوئی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر بی جے پی بہ آسانی ان کی ہندو مخالف شبیہ بنا نے میں کامیاب ہوگئی۔ عام ہندوستانی چونکہ مذہبی اقدار و روایات میں دخل اندازی برداشت نہیں کرتا اس لیے اشتراکیوں کا ہندو ووٹر ان سے برگشتہ ہوگیا۔ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے کانگریس نے بی جے پی کی مخالفت میں ملحدانہ ا فکار کی حمایت کرنے کے بجائے نرم ہندوتوا کا موقف اختیار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کردی۔ یہ حکمت عملی مفید ثابت ہوئی کیونکہ اشتراکیوں سے ناراض ہندو رائے دہندگان کے سامنے کانگریس اور بی جے پی کی صورت میں دومتبادل آگئے۔ کیرالا میں بی جے پی کامیابی کا امکان نہیں تھا اس لیے کمیونسٹوں کو سبق سکھانے کی خاطرہندو کانگریس کے ہمنوا بن گئے۔کانگریس پارٹی اس حقیقت سے واقف تھی کہ بی جے پی کی مخالفت مسلمانوں کی مجبوری ہے لیکن انتخاب جیتنے کے لیے ان کی حمایت کافی نہیں ہے۔ مسلمانوں کی مخالفت بی جے پی کی بھی مجبوری لیکن اس بار اس کے سامنے مسلمان نہیں بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نافذ کرنے والے کمیونسٹ کھڑے تھے۔ مسلمان پہلے سے طلاق ثلاثہ کو لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے سے نالاں تھے اور حکومت کے ذریعہ قانون سازی کرکے شریعت میں مداخلت سے پریشان تھے اس لیے انہوں نے مذکورہ فیصلے کی مخالفت شروع کر دی اس سے بی جے پی کے لیے سبری مالا معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا غیرممکن ہوگیا۔۔ صبح و شام کانگریس کے نرم ہندوتو پر تنقید کرنے والے دانشوروں کے لییکیرالا کے نتائج میں سامانِ عبرت ہے۔ مسلمانوں کو اس سے یہ سبق حاصل ملتا ہے کہ ہر مسئلہ میں زعفرانیوں کی مخالفت برائے مخالفت کرکے اپنے فسطائی دشمنوں کا آلۂ کار بننے کے بجائے حکمت و ذہانت کے ساتھ ان کے پر کترنازیادہ اہمیت کا حامل ہے۔انتخابی نتائج سے کانگریس کو سبری مالا کی سیاسی ا فادیت کا ادراک ہوگیا ہے اور کمیونسٹ پارٹی نے اپنی غلطی محسوس کرلی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت کے اولین اجلاس میں جہاں بی جے پی طلاق ثلاثہ کا بل لاکر اپنے شدت پسند حامیوں کو خوش کرنا چاہتی ہے وہیں کولم کے کانگریسی رکن پارلیمان پریم چندرن نیسبری مالا میں خواتین کے داخلہ پرپابندی کو ختم کرنے کی خاطر ایک نجی بل پیش کردیا ہے۔ اس بل سے کانگریس ملک ہندووں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہندو دھرم اور روایات کی حقیقی محافظ بی جے پی نہیں بلکہ وہ ہے۔ ایسے میں توقع تو یہ تھی کہ سپریم کورٹ میں اکاون خواتین کے اب تک مندر میں داخل ہونے کا اعلان کرنے والی کیرالا کی کمیونسٹ حکومت اس بل کی مخالفت کرتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔کیرل کے بائیں بازو کی حکومت میں مذہبی امور کے وزیر کداکم پلی سندرم نے اخباری نامہ نگاروں سے کہا کہ ‘‘ سب کو پتہ ہے نجی بل کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال پھر سے پیدا نہ ہو اس کویقینی بنانے کے لیے بی جے پی کی ریاستی شاخ کو اپنی حکومت سے عقیدتمندوں کے عقائد کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کرنا چاہیے’’۔ سندرن نے اس معاملے میں نہ صرف اپنے نظریہ سے انحراف کیا بلکہ کانگریس کے بالمقابل بی جے پی کو اس سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ افسوس کہ مغربی بنگال میں اسی طرح کی غلطی کا خمیازہ بھگتنے کے بعد بھی کمیونسٹ پارٹی نے سبق سیکھنے کی زحمت نہیں کی۔مغربی بنگال اورکیرالا یہ مماثلت ہے کہ دونوں مقامات پر بی جے پی کو ایک سے زائد جماعتوں سے مقابلہ درپیش ہے۔ مغربی بنگال اس کے سامنے ترنمول کانگریس، کمیونسٹ اور کانگریس ہے جبکہ کیرالا میں اسے کانگریس کے متحدہ محاذ اور کمیونسٹ محاذ سے لوہا لینا پڑ رہا ہے لیکن دونوں مقامات پر اس کی کامیابی میں نمایاں فرق ہے۔اس کی وجہ معلوم کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے بی جے پی کے بجائے کانگریس اور اشتراکیوں کو اپنا حریف اول سمجھا اور ان کی بیخ کنی پر ساری توانائی صرف کردی۔ اس کا ردعمل یہ ہوا کہ اشتراکی جماعتوں نے بھی ترنمول کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھ کر اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ کردیا۔ ممتا بنرجی کی اس حکمت عملی میں کامیابی کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ عوام کے سامنے صرف ترنمول اور بی جے پی دو متبادل بچ گئے۔ اس لیے ممتا کی حکومت سے ناراض سارے رائے دہندگان بی جے پی کی جھولی میں چلے گئے۔کیرالا میں ایسا نہیں ہوا۔ وہاں پر عوام کے سامنیدو غیر فسطائی مضبوط جماعتیں موجود تھیں اس لیے لوگوں نے دوسرے کو بی جے پی پر ترجیح دے کر کامیاب کیا۔ بی جے پی کے سارے دھرندر ہار گئے۔ سبری مالا کا مسئلہ اٹھانیو الا شعلہ بیان رہنما تیسرے نمبر پر پہنچ گیا۔ نہ تو میزورم سے استعفیٰ دے کر آنے والے گورنر کوکامیابی ملی اور مرکزی وزیر کی دال گلی۔ راہل گاندھی نے جب کیرالا کے وائناڈ حلقۂ انتخاب سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہاں کے مسلمانوں نے انہیں وزیراعظم نریندر مودی سے زیادہ ووٹ دے کر کامیاب کیا۔ اس موازنہ کا اہم سبق یہ ہے کہ اگر ترنمول جیسی نام نہاد سیکولر علاقائی جماعت اصول و نظریات کو بالائے طاق رکھ کر دیگر غیر فسطائی جماعتوں کو ختم کردے اور جواباً اشتراکیوں کی مانند عارضی طور پر سہی یہ جماعتیں فسطائیوں کی حمایت پر مجبور کردی جائیں تو اس سے بی جے پی اتنی مضبوط ہوجائے گی کہ اپنے تمام مخالفین کو بہ آسانی نگل سکے۔مغربی بنگال میں بھی فی الحال تشدد کا بازار گرم ہے اور وہاں بھی بی جے پی رام کے نام پر مذہبی جذبات کو بھڑکا رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے اس تشددکا مقابلہ تشدد سے کرنے کا راستہ اختیار کر رکھا ہے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے یہ حربہ بی جے پی کے خلاف کامیاب نہیں ہوتا۔ کیرالہ میں پچھلے ۳۰ سالوں میں ۲۰۰سیاسی قتل ہوچکے ہیں۔ اس صدی میں مقتولین کی تعداد ۱۷۲ ہے جن میں سے ۸۵ سی پی ایم کے ہیں اور ۶۵ بی جے پی سے تعلق رکھنے والیافراد ہیں۔ ۱۱کا تعلق کانگریس و مسلم لیگ اتحاد سے ہے۔ ایک ایسا قتل بھی ہیجس میں مسلم لیگی نظیرالدین کے قتل کا الزام ایس ڈی پی آئی پر ہے۔ حالیہ کمیونسٹ سرکار میں بھی دس کا اوسط قائم ہے۔ ۲۰۱۹ ؁ کے پہلے تین ماہ میں کانگریس کے دوکارکن قتل کیے گئے۔ بی جے پی کے دو اور کانگریس و سی پی ایم کے ایک ایک آدمی کا قتل ہوا۔ ۲۰۱۷ ؁ کے چاروں مقتول بی جے پی کے تھے۔ ۲۰۱۶ ؁ میں مئی کے بعد بی جے پی اور سی پی ایم کے تین تین اور مسلم لیگ کے دولوگوں کا قتل ہوا۔ اس انتخاب میں سی پی ایم نے کانگریس کے کرپیش اور سرتھ لال کے قتل میں ماخوذ جئے راجن کوٹکٹ دے دیا۔ اس کا فائدہ اٹھا کر کانگریس نے بائیں محاذ کو کوخوب بدنام کیا اور زبردست فائدہ اٹھایا۔ ممتا کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایل ڈی ایف کے زیر اقتدار قتل و غارتگری کی واراتیں زیادہ ہوئیں لیکن اس کا فائدہ کانگریس کو ہوا نیز وقت گزرنیکے ساتھ بی جے پی بھی مضبوط ہوتی چلی گئی۔۲۰۱۴ ؁ میں اس کے بنگال سے بام مورچے کے جملہ آٹھ ارکان منتخب ہوئے تھے لیکن اس بار کوئی کامیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی بنیادی وجہ غیر حکیمانہ ابن الوقتی ہے۔ ابھی تک کیرالا میں کمیونسٹوں کا موقف ان کے نظریہ سے ہم آہنگ تھا مگر مغربی بنگال میں ان لوگوں ممتا بنرجی کو بی جے پی سے بڑا دشمن قرار دے کر اس کو ہرانے کے لیے بی جے پی کی حمایت کرنے والا خودکشی کافیصلہ کیا جسکی بھاری قیمت ان کو چکانی پڑی۔ اس احمقانہ حکمت عملی کا بہت بڑا فائدہ بی جے پی کو ہوا اور اس کے ووٹ کا تناسب ۴۰ فیصد تک پہنچ گیا۔ اس میں شک نہیں کہ ممتا بنرجی ۴۶ فیصد ووٹ حاصل کرکے بی جے پی کو زیر کردیا لیکن جوکمیونسٹ ووٹ بی جے پی کی جھولی میں چلا گیا ہے اس کا مستقبل قریب میں واپسی کا امکان نہیں ہے۔ بی جے پی بڑی چالاکی ان لوگوں کا جذباتی استحصال کررہی ہے۔ مغربی بنگال اور کیرالا میں بائیں بازو کی حالت زار پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ؎

یہ جبر بھی دیکھا ہیتاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here