نئی دہلی:25جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) ایم ایس ایم ای اور مویشی پروری کے ریاستی وزیر پرتاپ چندر سارنگی نے سوموار کو پارلیامنٹ میں اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے سوال پوچھا کہ کیا وندے ماترم نہ کہنے والوں کو ملک میں رہنے کا حق ہونا چاہیے۔ قابل ذکر ہیکہ سارنگی اڑیسہ کے بالاسور سے پہلی بار رکن پارلیامان بنے ہیں۔اسکرال ڈاٹ ان کے مطابق، سارنگی نے سوال اٹھایا،‘ کیا وندے ماترم نہیں کہنے والے لوگوں کو ملک میں رہنے کا حق ہونا چاہیے؟‘ انہوں نے کہا،‘ ملک ٹکڑے ٹکڑے گینگ کو کبھی قبول نہیں کرے‌گا۔ ملک وزیر اعظم کے ساتھ ہے۔‘اس کے ساتھ ہی انہوں نے پوچھا،‘ کیا افضل گرو کی تعریف کرنے والوں کو ملک میں رہنے کا حق ہونا چاہیے۔ اس دوران حکومت کے لوگوں نے ان سوالوں کے جواب میں بنچ تھپتھپائی اور کہا کہ نہیں، کسی قیمت پر نہیں۔‘غور طلب ہے کہ، سارنگی کا یہ بیان اس واقعہ کے کچھ دن بعد آیا ہے جس میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیامان شفیق الرحمن نے پچھلے ہفتے حلف برداری کے دوران وندے ماترم کہنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ اسلام کے خلاف ہے۔اپنی تقریر میں سارنگی نے کہا،‘ بی جے پی نے تمام طبقے کے لوگوں کا اعتماد جیتا ہے اور ان کی شراکت داری سے حکومت چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا، کانگریس کی قیادت والی حکومت کے 10 سال کے دوران خراب حکومت اور بد عنوانی تھی۔‘اڑیسہ بجرنگ دل کے ریاستی کنوینر رہے سارنگی اپنے ہندتووادی رخ کے لئے جانے جاتے ہیں۔سال 2002 میں بجرنگ دل سمیت رائٹ ونگ گروپ کے ذریعے اڑیسہ اسمبلی پر کئے گئے حملے، آگ زنی اور فسادات سمیت کئی دیگر الزامات میں سارنگی جیل جا چکے ہیں۔سارنگی کے انتخابی حلف نامہ کے مطابق، سارنگی 10 مجرمانہ معاملوں میں ملزم ہیں، لیکن کسی میں ایک میں بھی مجرم نہیں ٹھہرائے گئے ہیں۔(بشکریہ دی وائر)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here