از: غلام غوث، بنگلور۔فون: 9980827221

25جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)اس میں کوئی شک نہیں کہ IMA ایک پانزی کمپنی ہے جسے ایک اناڑی نے نہایت ہی چالاکی اور چالبازی سے بد نیتی کے ساتھ شروع کیا۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسکا منافع جو وہ ڈپازٹرس کو دے رہے تھے وہ حلال نہیں تھا۔مذہبی حضرات اور ڈپازٹرس دونوں شروع سے لے کر اب تک اس مسلہ کے حرام یا حلال ہونے کو لے کر الجھے رہے۔چند لوگوں نے دلائل کے ساتھ بتایا کہ یہ منافع حرام ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی بزنس میں ایک لاکھ روپیے کے عوض ہر ماہ تین ہزار روپیے منافع نہیں دیا جاتا۔بینک صرف آٹھ فیصد کے حساب سے ہر ماہ ایک لاکھ روپیے ڈپازٹ پر آٹھ فیصد یعنی 840روپیے سود دیتی ہے۔کچھ لوگوں نے IMA سے ڈونیشن اور رشوت لے کر اس کے حلال ہونے کا فتوی دے دیا۔لالچی اور آرام طلب عوام نے حلال کہنے والوں کے خیال کو بغیر سوچے سمجھے اپنا لیا۔کچھ سیاستدانوں اور مذہبی حضرات نے بزنس کی چھان بین کا دعوی کرتے ہوے عوام کو یقین دلا دیا کہ دوسری ایسی کمپنیوں کی طرح یہ کمپنی ڈوبنے والی نہیں ہے۔عوام ایسے سیاستدانوں اور مذہبی حضرات کے حلیہ اور چرب زبانی کے دھوکے میں آ گئے اور دھڑا دھڑ اپنی محنت کی کمائی ہوی رقم IMA میں ڈپازٹ کرنے لگے۔ IMAنے آج تک یہ نہیں بتایا کہ اس کا بزنس کیا ہے اور اس کی حمایت کرنے والوں نے بھی کچھ نہیں بتایا کہ اس کا بزنس کیا ہے سوائے اس کے کہ وہ سونے کا کاروبار کر تے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ سونے کے بیوپار میں سال میں زیادہ سے زیادہ 25 سے 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔آج تک نہ کوئی نفع نقصان کا حساب پیش ہوا اور نہ ہی کوئی بیلنس شیٹ۔اصل میں یہ کچھ سیکریٹ بزنس تھا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ مالداروں اور سیاست دانوں کے کالے دھن کو سفید کر نا ہے، monitization de کے دوران انکی دولت کو بچانے کا ہنر تھا یا جوا تھا۔کمپنی شروع ہونے کے چھ مہینے بعد ہی Centre for Conteporary Studies نامی ادارہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ کوئی غیر قانونی پانزی کمپنی ہے جس کا بزنس کسی بھی طرح حلال نہیں ہے۔ چناچہ اْس ادارے کی طرف سے میں نے منصور خان صاحب سے بات چیت کی اور کہہ دیا کہ انکی کمپنی ایک دھوکہ ہے۔انہیں اس بات پر اصرار تھا کہ ان کا بزنس حلال ہے اور وہ پانزی کمپنی نہیں ہے۔جبکہ میرا صرار اس کے بر خلاف تھا۔میں نے پوچھا کہ کمپنی میں ان کے ذاتی روپیے کتنے ہیں۔ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا انہیں ریزرو بینک نے اجازت دی ہے اور وہ ذمہ داری لینے تیار ہے تو آپ نے نفی میں جواب دیا۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا حکومت نے آپکو کوئی گیارنٹی دی ہے تو جواب نفی میں ملا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بھروسہ اور ایمان کی بات ہے۔ یہ سب باتیں فون اور ای میل پر ہوتی رہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس مسلہ کو لے کر ہمارے ادارے کے ساتھ عوام کے سامنے ڈبیٹ کر نے تیار ہیں تو انہوں نے فورا حامی بھر لی۔ پھر کئی دن تک ان سے فون اور ای میل کے ذریع بات ہوتی رہی مگر انہوں نے نہ تاریخ دی اور نہ ہی ڈبیٹ کے لئے تیار ہوے۔ میرے ایک دوست سید تنویر احمد صاحب کا بھی یہی تجربہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ لوٹے بھی ہیں تو مذہب کا نام لے کر لوٹے ہیں۔ہر ملازم کی زبان پر الحمدواللہ، ماشا اللہ، سبحان اللہ ہو تا تھا اور سب کے سب داڑھی، ٹوپی اور پورے مذہبی لباس میں ہو تے تھے۔اس سلسلہ میں میں نے IMA کا نام لئے بغیر دو مضمون روز نامہ سالار میں لکھ دیے اور ایک مضمون پانزی اسکیم کے بانی کے متعلق بھی لکھ دی۔لوگوں کی اکثریت جو اخبار نہیں پڑھتے انہوں نے اسے اہمیت نہیں دی۔میں نے ایسی کئی ڈوبی ہوی کمپنیوں کے نام بھی لئے تھے۔ قریبا 27 ایسی مسلم کمپنیاں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کواللہ کا نام لے کر دھوکا دیا اور فرار ہو گئے۔اب جبکہ IMA ڈوب چکی ہے تو میں چند اہم نکات پر روشنی ڈالوں گا۔پہلے پہلے تو IMA نے ایک لاکھ ڈپازٹ پر ہر ماہ چار سے پانچ ہزار روپیے منافع دیا اور بعد میں یہ منافع تین ہزار ہو گیا۔اس حساب سے ایک لاکھ کی ڈپازٹ کو ہر سال 36 ہزار روپیے منافع دیا گیا۔جن لوگوں نے 2010 میں ایک لاکھ روپیے ڈپازٹ کئے انہوں نے 2018کے آخر تک آٹھ سال میں دو لاکھ 88 ہزار روپیے پائے۔ جن لوگوں نے 2014 میں ایک لاکھ رکھا انہوں نے 2018 کے آخر تک چار سال میں ایک لاکھ 44 ہزار پائے۔ 2016 میں رکھنے والوں نے 72 ہزار پائے اور 2017 میں رکھنے والوں نے 36 ہزار روپیے پائے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے 2014 تک ڈپازٹ رکھے انہوں نے اپنا اصل بھی پا لیا اور منافع بھی۔ اب نقصان میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے 2015 کے بعد رقم ڈپازٹ کی۔ 2015 سے پہلے رکھنے والوں کو چیخ و پکار کر نے کی ضرورت نہیں لگتی۔اصل مسلہ ہے 2015 سے لے کر اب تک ڈپازٹ کر نے والوں کا۔ اب غور اس بات پر کرنا ہے کہ کیا یہ پوری قوم کی مالی تباہی کا مسلہ ہے؟ اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ یہ روپیے کیسے لوٹائے جائیں؟ ۱) جن جن اداروں نے، مدرسوں اور اسکولوں نے،مسجدوں نے، قبرستانوں نے، مذہبی حضرات نے، سیاست دانوں نے اور بلیک میل کر نے والوں نے یا رشوت لینے والوں نے اور حکام نے ڈونیشن یا رشوت لئیے ہیں ان کی فہرست بنائی جائے اور روپیے وصول کئیے جائیں۔ IMA کا ایسی فہرست دینا بہت ضروری ہے۔ ۲) IMA کا سونا اور جائداد فروخت کی جائے۔ ۳) IMAکے ڈئیرکٹرس کی ذاتی جائداد ضبط کر لی جائے۔۔سب سے پہلے 2015 کے بعد کے ایک لاکھ دو لاکھ روپیے ڈپازت کر نے والوں کی رقم لوٹائی جائے اور اس کے بعد دوسروں کی۔ آخر میں 2015 سے پہلے والوں کی رقم لوٹانے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلہ میں اور بے شمار نکتے ہیں جنہیں اس چھوٹے مضموں میں پیش کر نا مشکل ہے۔اگر منصور خان میں ہمت اور ایمانداری ہوتی تو وہ ملک چھوڑ کر فرار نہ ہونے بلکہ ان تمام لوگوں کی فہرست بنا کر عوام کے سامنے رکھ دیتے جنہوں نے رشوت، ڈونیشن، اور بلیک میل کر کے روپیے لئیے تھے۔ یہ کام وہ اب بھی جہاں ہیں وہیں سے کر سکتے ہیں اگر وہ واقعی ایماندار ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here