ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سابق وائس چیئرمین، بہار انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کونسل

25جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)وزیر اعظم ہند شری نریندر دامودار داس مودی نے 2019کے لوک سبھا انتخاب میں اپنی پارٹی کی شاندار جیت کے بعد پارلیامنٹ کے سنٹرل ہال میں اپنے نو منتخب ارکان کے سامنے جو خطاب کیا اور دستورِ ہند کے سامنے جس طرح سرجھکاکر دستور سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا، اتنی شاندار جیت کے بعد ان کا یہ طرزِ عمل بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن تھا اور کچھ کے نزدیک ایک خوش کن تبدیلی کا مظہر۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ ہمیں وزیر اعظم کے اس اشاریہ پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کی طرف دست تعاون دراز کرنا چاہیے۔ تو کچھ کی رائے میں اتنی جلد بازی سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آگے آگے دیکھئے کہ ہوتا ہے کیا۔دراصل کسی فرد یا گروہ کی دہنی ساخت اور اس کا تہذیبی ماحول نہ ایک دن میں بنتا ہے اور نہ بدلتا ہے۔ اس لیے اگر ہم اعتماد بھی کرتے ہیں تو جامہ سے باہر نہ ہوں بلکہ محتاط رویہ رکھیں۔ ظاہر سی بات ہے اس وقت وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ان کی پارٹی مرکز اور بیش تر ریاستوں میں برسرِ اقتدار ہے گویا سیاہ و سفید کا اختیار ان کے ہاتھ میں ہے اور انھوں نے اتنی بڑی جیت ہماری حمایت کے بغیر حاصل کی ہے۔ اگر ہم ان پر اعتماد نہیں کرتے ہیں تو ہم ان کا کچھ بگاڑ بھی نہیں سکتے ہیں۔ لیکن اعتماد کرنے کے لیے صرف ایک بیان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ٹھوس اقدام ضروری ہے۔ہندوستان میں ایک مضبوط لابی ہے جو دن رات یہ پروپیگنڈہ کرتی رہتی ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی منہ بھرائی ہورہی ہے گویا مسلمان استحقاق یافتہ شہریوں کا وہ گروہ ہے جس کے چشم و ابرو کے اشارے پر حکومت کی پالیسیاں اور قوانین تدوین کی جاتی ہیں اور انہیں ہر طرح کے مراعات اور تحفظات حاصل ہیں۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے کہ آج تک سورج کے نیچے اس دھرتی پر کبھی نہیں اور کہیں نہیں بولا گیا ہے، پھر بھی کچھ لوگ دن رات اس کو دہراتے ہیں اور پروپیگنڈہ کا زور اتنا ہے کہ ایک بڑی تعداد اس پر اعتماد کرتی ہے۔ مگر یہ بات اندھے اور ہاتھی کا معاملہ نہیں ہے جس کو دیکھا اور سمجھا نہیں جاسکتا ہے۔ آزادی کے بعد تمام دستوری تحفظات کے باوجود اور مسلمانوں کو فرد اور گروہ کی حیثیت سے یکساں شہری حقوق حاصل ہونے کے باوجود جس طرح مسلمانوں کو مستقل نفسیاتی دباؤ میں رکھا گیا، ان کی جان و مال، عزت و آبرو، مساجد، مدارس، قبرستان، تعلیم گاہوں، زبان، پرسنل لا اور دیگر چیزوں کو نشانہ بنایا گیا اس کی وجہ سے مسلمان مستقل خوف اور بے یقینی کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ فرقہ پرستی اور تشدد کے واقعات عام ہیں نتیجہ یہ ہے کہ جہاں ملک کی تمام مذہبی اور سماجی اکائیاں ترقی کررہی ہیں اور آگے بڑھ رہی ہیں مسلمان روز بہ روز حاشیہ پر ڈھکیلے جارہے ہیں۔ سچر کمیٹی نے پورے ملک کا سروے کرکے اور مستند سرکاری ڈاٹا کی بنیاد پر مسلمانوں کے پچھڑے پن کو ظاہر کردیا ہے جس نے منہ بھرائی کے ٹائر کی ساری ہوا نکال دی ہے۔ اس کااعتراف خود وزیر اعظم کو بھی ہے۔میں ان کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ مسلمان کسی پارٹی کے زر خرید غلام نہیں ہیں اور نہ کوئی پارٹی ان کے لیے اچھوت ہے۔ جس طرح ملک کے تمام لوگ اپنی بھلائی کے لحاظ سے اپنا سیاسی فیصلہ لیتے ہیں مسلمان بھی اپنی بھلائی کے لحاظ سے سیاسی فیصلہ لیں گے۔مسلمان کیا چاہتے ہیں؟ مسلمان کوئی خصوصی رعایت اور مہربانی نہیں چاہتے۔ وزیر اعظم نے جس دستور کے سامنے سرجھکا کر اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے، مسلمان صرف یہ چاہتے ہیں کہ ملک کے آزاد شہری ہونے کی حیثیت سے ان کو جو دستوری اختیارات حاصل ہیں ان کو بلا کسی بھید بھاؤ کے دینا متحقق کیا جائے اور ایک مذہبی، لسانی اور تمدنی گروہ کے طور پر دستور نے ان کو جو ضمانتیں دی ہیں ان کو اس کے الفاظ اور اسپرٹ کے مطابق عطا کیا جائے۔ ہم حکومت سے چاند کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں۔ اپنے حصے کی روٹی، اپنے حصے کی نوکری، اپنے حصے کی معاشی کفالت اور حکومت اور انتظام ملکی میں اپنی واجبی حصہ داری کے طالب ہیں۔ ہم نہ دوسرے درجے کے شہری ہیں اور نہ بننا چاہتے ہیں۔ ہم پہلے درجے کے شہری ہیں اور بننا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں منہ بھرائی نہیں، بھیک نہیں بلکہ حق اور حصہ داری چاہیے۔ بس ہم اتنا ہی مطالبہ کرتے ہیں۔کی جو تم نے ہم سے وفا تو ہم تیرے ہیں.

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here