ٹوکیو:12جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے ایران کے تین روزہ دورے پر رہیں گے۔ گزشتہ 40 برسوں کے دوران ایران کا دورہ کرنے والے شنزو آبے پہلے جاپانی وزیر اعظم ہیں۔ اس سے پہلے سال 1978 میں اس وقت کے وزیر اعظم تاكیو فوکیدا نے ایران کا دورہ کیا تھا۔مقامی میڈیا رپورٹ کے مطابق شنزو آبے اس دورہ کے دوران ایران کے صدر حسن روحانی اور سپریم مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کر کے مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے علاوہ مختلف ایشوز پر بات چیت کریں گے۔این ایچ کے نیوز کے مطابق شنزو آبے اور حسن روحانی ایران کے جزوی طور پر تاریخی جوہری معاہدے سے الگ ہونے پر خاص طور پر بات چیت کریں گے۔ شنزو آبے مغربی ایشیا میں موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئے حسن روحانی اور آیتہ اللہ خامنہ ای سے کھلی بحث کرنا چاہتے ہیں۔شنزو آبے کا گزشتہ سال ایران کا دورہ کرنے کا پروگرام تھا لیکن امریکہ کے جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال مئی میں ایران جوہری معاہدے سے اپنے ملک کے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا، اس کے بعد سے ہی اس جوہری معاہدے کی دفعات لاگو کرنے کے سلسلہ میں شکوک و شبہات کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔قابل غور ہے کہ سال 2015 میں ایران نے امریکہ، چین، روس، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ایران نے اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here