نئی دہلی:12جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کی چوٹی کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے کرگیز جمہوریہ کے دارالحکومت بشکیک جانے کے لئے وزیراعظم نریندرمودی کا طیارہ پاکستان کے فضائی علاقے سے ہو کر نہیں گزرے گا۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پی ایم مودی کے طیارے کے راستے کے بارے میں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بشکیک جانے کے لئے وزیراعظم کے طیارے کے لئے دو راستوں کے متبادل کو تلاش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کا طیارہ عمان،ایران اور وسطی ایشیائی ملکوں کے فضائی علاقوں سے گزرتا ہوا بشکیک پہنچے گا۔اسلام آباد سے آئی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان نے پی ایم مودی کے طیارے کے بشکیک جانے کے لئے پاکستان حکومت سے اپنے فضائی علاقے سے گزرنے کی اجازت طلب کی تھی۔ پہلے وزارت خارجہ کے افسران نے پی ایم مودی کے طیارے کے راستے پر کیے گئے سوالوں کو یہ کہتے ہوئے ٹال دیا تھا کہ وزیراعظم کی سلامتی کے پیش نظر سفرکا راستہ عام نہیں کیا جاسکتا۔پی ایم مودی 13 اور 14 جون کوشنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ملکوں کے سربراہان مملکت کی چوٹی کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے آج رات بشکیک روانہ ہوں گے جہاں ان کی روس کے صدر ولادیمر پوتن اور چین کے صدر شی جنپنگ کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ بھی ہوگی۔ دونوں دن چوٹی کانفرنس میں حصہ لینے کیعلاوہ ان کا کرگیز جمہوریہ میں دو روزہ دورے کا بھی پروگرام ہے۔ بشکیک میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ رسمی یا غیر رسمی میٹنگ کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پی ایم مودی کی پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here