غزہ:11جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ صہیونی حکام نے انتقامی پالیسی کے تحت غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ سے منسلک خاندانوں پر جیلوں میں قید ان کے اقارب سے ملاقات پر دو سال سے پابندی عاید کر رکھی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ انسانی حقوق کے گروپ ماضی کی طرح حماس کے اسیرارکان اور ان کے خاندان کے افراد کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر صہیونی حکام کی طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ریاض الاشقر نے بتایا کہ اسرائیل کے انتہا پسند وزیر داخلہ ‘گیلاد اردان’ نے جون 2017ء میں غزہ میں حماس سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی ان کے اسیر اقارب کے ساتھ ملاقات پر پابندی عایدکی تھی۔ یہ پابندی غیرمعینہ مدت کے لیے عاید کی گئی جس کے بعد غزہ سے تعلق رکھنے والے حماس کے 100 قیدی اپنے اقارب سے ملاقات سے مسلسل محروم ہیں۔انہوں‌ نے کہا کہ اسرائیلی ریاست حماس کے اسیران کی ملاقاتوں پر پابندی کو بلیک میلنگ اور دبائو کے لیے حربے کے طور پر استعمال کررہی ہے تاکہ حماس دبائومیں آکر غزہ میں سنہ 2014ء میں جنگی قیدی بنائے گئے صہیونی فوجیوں اور یہودی آباد کاروں‌کیباریمیں تل ابیب کو مفت معلومات فراہم کرے۔انہوں نے مزیدکہا کہ حماس کے اسیران کی طرف سے اسرائیلی عدالتوں میں اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ ملاقاتوں پر پابندی کے خاتمے کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں مگر صہیونی عدالتوں‌ نے فلسطینی اسیران کی درخواستیں‌ مسترد کردی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here