حفیظ نعمانی

11جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)2014ء کے نتیجہ کے بعد پوری کانگریس اور خاص طور پر راہل گاندھی دہل گئے تھے اور نومبر 2016 ء تک سب کا یہی حال رہا کہ مودی جی پارلیمنٹ میں بل پیش کراتے تھے اور ہاؤس اسے پاس کردیتا تھا۔ یہ تو حزب مخالف کی خوش قسمتی تھی کہ وزیراعظم مودی نے اچانک رات کو آٹھ بجے اعلان کردیا کہ رات کے 12 بجے کے بعد ایک ہزار اور پانچ سو والے نوٹ بند کئے جاتے ہیں اب یہ صرف بینکوں سے بدلے جائیں گے یا سرکاری ریل اور بس کے کرایہ میں دیئے جائیں گے یہ اعلان جسے نوٹ بندی کا نام دیا گیا اس نے حزب مخالف کے ہاتھ کھول دیئے اور ہر بینک کے سامنے جتنی بڑی بڑی لائن لگیں مخالف لیڈروں کی زبانیں اتنی ہی لمبی ہوتی گئیں اور نوبت یہ آگئی کہ وزیراعظم گھبرا گئے اور انہوں نے روتے ہوئے لہجے میں کہا کہ مجھے صرف 50 دن دے دو اگر اس کے بعد اپنا دیش کندن بن کر نہ نکلے تو جس چوراہے پر چاہو کھڑا کرکے مجھے سزا دے دینا۔ اور میں تو فقیر ہوں جھولا اُٹھاکر کہیں بھی چلا جاؤں گا۔ملک اور قوم کی بدنصیبی تھی کہ اس وقت سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے پاس صرف 44 سیٹیں تھیں کاش اس کے یا کسی کے پاس 144 ہوتیں تو آج ملک کی تصویر کچھ اور ہوتی۔ اپوزیشن میں کوئی ایسا نہیں تھا جو 50 دن کے بعد باری باری ہر چوراہے پر کھڑا کرتا اور فقیر کو جھولا اُٹھاکر جانے پر مجبور کردیتا۔ حزب مخالف کی کمزوری کا جائزہ لے کر مودی جی نے ایک ملک ایک ٹیکس (جی ایس ٹی) نافذ کردیا اور یہ طے کیا کہ ہر چیز مٹی سے سونے تک پر مرکزی حکومت ٹیکس لگائے گی۔ اور پھر وہ جہالت اور اناڑی پن کیا ہے کہ نوٹ بندی کی مار سے جو کاروباری اور صنعتکار آنسوؤں سے رو رہے تھے وہ چیخیں مارکر رونے لگے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں کاروبار بند ہونے کے قریب ہوگئے اور ملک میں ایک بھی ایسا نہیں بچا جس نے اپنے ملاموں کو کم یا زیادہ نہ نکالا ہو جس کے نتیجہ میں کروڑوں ورکر بے روزگار ہوگئے۔وزیر اعظم کے ان دو فیصلوں نے کاروباریوں اور خریداروں میں جو بداعتمادی پیدا کی اس نے سب سے زیادہ کانگریس میں جان ڈالی اور راہل گاندھی کا لہجہ دھاردار ہوتا چلا گیا۔ وہ راہل گاندھی جن کو مودی جی نے پپو بنا دیا تھا وہ رفتہ رفتہ اپنی محنت سے مودی کے برابر گنے جانے لگے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس کے بعد کیا ہوا کہ جس 2019 ء کے الیکشن کو انہیں اس طرح لڑنا تھا کہ ان کے اوپر بھی ووٹ برسنے لگیں وہ ان علاقائی پارٹیوں کی جڑیں کاٹنے میں لگ گئے جو اپنی طاقت اور وسائل کی حد تک بی جے پی کو اُکھاڑ رہے تھے۔ اس نئی افتاد سے ان پارٹیوں بی ایس پی، ایس پی، ترنمول وغیرہ وغیرہ کو اس کانگریس سے لڑنا پڑگیا جس کے مشن کو وہ پورا کررہے تھے۔کانگریس کی امتیازی پہچان تو اس کا سیکولرازم تھا اصلی کانگریسیوں کو اس وقت کتنا زبردست جھٹکا لگا جب گجرات میں راہل گاندھی مودی سے برسرپیکار تھے اور مسلمانوں کی طرف سے ایسے منھ پھیرے ہوئے تھے جیسے منکوحہ کے سامنے عیاش، داشتہ سے بے تعلقی ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسلمانوں کا کلیجہ اور بی جے پی کے مقابلہ میں کانگریس سے تعلق کا نتیجہ تھا کہ اس کے باوجود مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ بھی دیئے اور جیتے ہوئے ایم ایل اے بھی۔ اور حیرت کی بات ہے کہ جب مودی جی نے کہا کہ اگر ہندوؤں نے ہمیں ووٹ نہیں دیئے تو کانگریس پاکستان کی مدد سے احمد پٹیل کو وزیر اعلیٰ بنا دے گی۔ اتنی گندی گالی کو بھی راہل گاندھی نے حلق سے اتار لیا اور جواب میں نہیں کہا کہ جس دن احمد پٹیل گجرات کا وزیراعلیٰ بن جائے گا اس دن اس کی قسمت کھل جائے گی۔ ان باتوں کے بہت دنوں کے بعد جب لوک سبھا کا الیکشن ہو رہا تھا تو دہلی کے مسلمانوں نے عام آدمی پارٹی کو دل چاہنے کے باوجود ووٹ نہیں دیئے اس کے بجائے دل نہ چاہنے کے باوجود کانگریس کو دیئے کہ اسے حکومت بنانے میں مدد ملے گی یہ ہے وہ سیکولرازم جس کی محبت میں مسلمان کانگریس سے رشتہ بنائے ہوئے ہے۔ اگر کانگریس سیکولر پارٹی کے بجائے شیوسینا یا وشوہندو پریشد جیسی پارٹی بن جائے تو اس کے ذمہ دار راہل گاندھی ہوں گے۔راہل گاندھی نے پانچ برس میں آٹھ سیٹیں جیتی ہیں۔ بیشک یہ کارکردگی اتنی ہی شرمناک ہے کہ ان کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ لیکن اسے کیسے تاریخ سے مٹایا جائے کہ کانگریس کی پرورش آنند بھون میں ہوئی ہے۔ موتی لعل نہرو سے راہل گاندھی تک کانگریس کے صدر کامراج رہے ہوں یا دھیرو بھائی کا حکم نہرو یا اُن کی اولاد کا ہی چلا ہے۔
مشہور کامراج پلان اصل میں نہرو پلان تھا مولانا حفظ الرحمان نے کانگریس سے مایوس ہوکر مسلم کنونشن بلانے کا اعلان کیا تو نہرو جی نے صدر دھیرو بھائی سے کہلایا کہ وہ کنونشن نہ بلائیں۔ اندراجی نے اپنے زمانہ میں صدر بنایا تو اس نے اندرا اِز انڈیا، انڈیا اِز اندرا کا نعرہ لگادیا۔ راہل صدر چاہے جسے بنادیں اگر وہ من مانی کرے گا تو بی جے پی کے نقش قدم پر چلے گا ورنہ پردہ کے پیچھے سے جو راہل کا حکم ہوگا وہ کرے گا اس لئے بزرگ کانگریسیوں کو چاہئے کہ وہ راہل جی کو استعفیٰ واپس لینے پر آمادہ کریں۔ وہ جو امیٹھی کے زخم کی تکلیف کو بھلانے کیلئے کرالہ میں روڈشو کررہے ہیں یہ مقبولیت اور محبوبیت وقتی ہے امیٹھی کے زخم کی ٹیس تو اب زندگی کے ساتھ رہے گی اس کے لئے استعفیٰ دے کر فرار اختیار کرنے کے بجائے میدان میں آکر مقابلہ کے بارے میں سوچیں کیونکہ موجودہ حکومت کے سربراہ امت شاہ ہیں اور اُن کی بے لچک فطرت کی وجہ سے نتیش کمار جیسے نہ جانے کتنے گھٹن محسوس کررہے ہیں۔راہل گاندھی کو سمجھنا چاہئے کہ ہارنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے وہ آئیں اور 2019 ء میں جو ہوا اس کی معافی مانگیں کیونکہ انہوں نے صرف اپنا نہیں ان سب کے راستہ میں کانٹے بچھائے ہیں جو مودی جی کو روکنے کے لئے ہاتھ میں ننگی تلوار لئے کھڑے تھے۔ راہل گاندھی کو مان لینا چاہئے کہ انہوں نے خود کیا یا مشوروں سے کیا مسلسل غلط کیا سندھیا کو مدھیہ پردیش اور پائلٹ کو راجستھان نہ دینا غلطی ہی نہیں حق تلفی تھی اور انہوں نے کمل ناتھ اور گہلوت کے بیٹوں کو ٹکٹ کیوں دیا؟ جنہوں نے زمین کھودی وہ منھ دیکھتے رہیں اور جو ایئرکنڈیشن میں بیٹھے رہے ان کی اولاد پر بھی نوازشوں کی بوچھار؟راہل گاندھی تین دن سے اپنے حلقہ وائناڈ کے ووٹروں کا شکریہ ادا کررہے تھے وہاں انہوں نے روڈ شو بھی کئے اور ریلیاں بھی اور ان ریلیوں میں مودی جی کے خلاف بھڑاس بھی نکالی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ان کی انتخابی مہم جھوٹ، زہر اور نفرت سے پرُ تھی۔ راہل کے اس الزام میں مبالغہ نہیں ہے لیکن یہ بھی غلط نہیں ہے کہ مودی نے راہل گاندھی کی بولتی پاکستان سے دوستی کا الزام لگاکر بند کردی تھی۔ بالاکوٹ کے معاملہ میں سوشل میڈیا اور گودی میڈیا نے کہا کہ کیمپ میں تین سو دہشت گردوں کو مار دیا۔ پاکستان اور دنیا بھر کے میڈیا نے کہا کہ ایک چوہا بھی نہیں مارا۔ مودی جی کے اہم وزیروں نے کہا کہ مارنے کا منصوبہ ہی نہیں تھا بس ڈرانا تھا لیکن وزیراعظم نے نہ تائید کی نہ تردید بس یہ کہتے رہے کہ ہم بدلہ لیتے ہیں اور ہم نے بدلہ لے لیا۔ اور جب کانگریس کی طرف سے معلوم کیا گیا کہ کتنے مارے اور کہاں مارے؟ تو کانگریس پر الزام لگادیا کہ پاکستان کی محبت میں ثبوت مانگ رہے ہیں اور راہل گاندھی دباؤ میں آگئے اور ڈر گئے کہ اگر تردید کی تو ہندو بھاگ جائیں گے۔
کانگریس کو سب سے بڑا نقصان راہل کی اس بات نے پہنچایا ہے کہ وہ بالا کوٹ کے جھوٹ پر اس لئے چپ رہے کہ ہندو بھاگ جائے گا اور رام مندر کے نام پر مسجد میں تالا ڈالنے سے لے کر تالا کھلوانے تک کا عمل کانگریس کا ہونے کے باوجود بی جے پی کے سامنے اس لئے چپ ہیں کہ اگر تائید کردی تو مسلمان بھاگ جائے گا۔ یہی ڈر تھا جس نے راہل کو 52 سیٹوں پر روک دیا۔ راہل اگر ایسی ہی کانگریس بناتے ہیں جس پر مسلمان کا سایہ بھی نہ ہو تو پھر اچھا ہے کہ پارٹی کو ختم کردیں کیونکہ کانگریس اور بی جے پی کا فرق سیکولرازم یعنی مسلمان کی نمایاں نمائندگی ہے اور اگر وہ یہ چاہیں کہ مسلمان ووٹ تو دیتے رہیں مگر ان کا چہرہ پردہ میں رہے تو مسلمان اسلام کے لئے تو یہ کرسکتا ہے سیاسی پارٹی کے لئے نہیں اور اگر موجودہ روش کو باقی رکھا تو ایک بزدل ہندو پارٹی میں مسلمان کیوں رہے گا وہ بی جے پی یا شیوسینا میں چلا جائے گا۔ یا سرگرم سیاست سے کنارہ کرلے گا اور جیسے شاہ نواز، مختار عباس نقوی، ایم جے اکبر جیسے مٹھی بھر مسلمان بی جے پی میں ہیں ایسے ہی چھاگلا جیسے مسلمان کانگریس میں چلے جائیں گے اور عام مسلمان روزگار کی تلاش میں وقت گذاریں گے کسی پارٹی کے روڈشو کی رونق کیوں بنیں گے؟۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here