غلام مرسلین اشرفی جامعی

11جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)جس طرح علی گڑھ میں ہوئے ” بچی ” کے قتل کو ” ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اس میں میڈیا کاکردار سب سے اہم ہے کیونکہ میڈیا تشہیر اور پروپیگنڈہ کاسب سے اہم اور مو?ثرذریعہ ہے، جھوٹ کو سچ اورسچ کو جھوٹ منوانے اور رائی کا پہاڑبنانے کا فن میڈیا کوبخوبی آتاہے۔لیکن فی الوقت ہمارے اور آپ کے ہاتھوں میں وہ اخبارات ہیں یا ہم وہ نیوز چینلوں کو دیکھتے ہیں جن میں 90 فیصد خبریں یا تو مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہیں یا پھر یہ نمائندگان مسلمانوں کے عکس کے برعکس کرتے ہوئے پیش کرتے ہیں ان حالات میں مسلمانوں کے پاس اگر ذرائع ابلاغ کے وسائل ہیں تو وہ صرف چند ایک اردو اخبارات اور کہیں پر گنے چنے میگزین ہیں جو غیروں کی پہنچ سے باہر ہیں ان سے ہماری تعریف، ہماری سچائی، ہمارا کردار ہم مسلمانوں تک ہی محدود رہتاہے اسکی مثال ایسی ہے کہ ہم خود اپنی پیٹھ تھپ تھپا رہے ہیں اورغیروں کے سامنے ہم پیٹھ پھیر کر کھڑے ہیں اگر ہم مسلمانوں کو موجودہ حالات سے نپٹنے کے لئے کچھ کرنا ہے تو اسکے لئے دوہی راستے ہیں ایک ہماری آنے والی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانا ہے اور دوسرا کام مسلم میڈیا ہاؤس قائم کرنا ہے جہاں پر سچی خبروں کی اشاعت و ترسیل ہو۔ میڈیا کتنا پاؤر فل ہتھیار ہے اس کا اندازہ ہم صرف اس صرف ایک چھوٹی سی مثال کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں کہ گزشتہ سال دادری میں گاؤ کشی کے معاملے میں ایک بے قصور مسلمان کا قتل ہوا، اس قتل کی واردات کو میڈیا نے جس طر ح سے فوکس کیا اسے ذرار دیکھیں ”گا ئے کا گوشت کھانے پر ایک ملزم کو موت کے گھاٹ اتارا گیا“ پھر دوسری خبر ایسی تھی کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے ہندو بھڑک گئے اور مسلمان کا ہوا قتل“ یہاں ایک انسان کی جان سے بڑھ کر گائے کا گوشت مسئلہ تھا اور اس کو میڈیا نے بھرپور ہائی لائیٹ کیا، اگر ان چینلوں کی نمائندگی مسلمان کرتے تو اپنی خبر کو یوں لکھتے کہ ”ہندو شدت پسندوں نے مسلمان کو اتارا موت کے گھاٹ، گاؤ کشی کا تھا الزام“ یا پھر یہ کہتے کہ انسان کی جگہ گائے نے لی، ذبح کے بدلے ذبح ہوا انسان۔لیکن ہمارے پاس ایسا کو ئی میڈیا نہیں ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ دنیا کے۹۸ فی صد میڈیا پر یہودیوں نے قبضہ کرلیا ہے اور ہندوستان کے ۹۸فی صد حصہ پر سنگھیوں کا قبضہ ہے اور ۹۹ فی صد مسلمان میڈیا سے دور ہیں اور اس ملک کے ۲۲کروڑ مسلمان اگر چاہتے تو ہر ایک کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک میڈیا ہاؤس کا قیام کرسکتے تھے لیکن ہمارے پاس اس کے لیے وقت نہیں ہے، آج مسلمانوں کے تعلق سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کو تو صرف میڈیا کو ہی ہتھیار بنانے سے ہے اور ہم بار بار سنگھی و فسطائی طاقتوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے پاس اپنے کچھ ٹی وی چینلس بھی ہیں لیکن یہاں سے صرف دین کی اشاعت کا کام کیا جارہاہے، کچھ چینلس کے ذریعے سے نعت خوانی، قرآن خوانی، قوالیاں اور اسلامی روایتوں پر بحث و مباحثے ہوتے ہیں، کچھ چنیلوں کو مسلمانوں کی اصلاح کے نام پر تشکیل دی گئی ہے تو کچھ چینلس کو اسلامی تبلیغ کے لئے منظر عام پر لایا گیاہے لیکن بتائیں کہ پورے ہندوستان میں کیا کوئی نیوز چینل بھی ہے جو سنگھی میڈیا کا مقابلہ کر سکے! مسلم نوجوانوں کی کاگردگی کو لوگوں میں متعارف کراسکے۔ ملک کے دیہاتوں و شہر وں کی حالت کو ملک کی حکومت کے سامنے رکھ سکے آپ کا جواب نفی میں ہوگا ایسا ایک بھی ٹی وی چینل مسلمانوں کے پاس نہیں ہے اور جو دوسروں کے پاس ٹی وی چینل موجود ہیں وہ مسلمانوں کو دہشت گرد بتاتے ہیں، مسلم نوجوانوں کو داعش کے نمائندے بتاتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ میڈیا مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے لیکن کو ئی اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی زحمت گنوارہ کیوں نہیں کررہاہے۔ ویسے مسلمان بدلہ لینے والی قوم ہے، جب ایک مسجد کی کمیٹی میں اختلاف ہو جاتا ہے ہیں تو ایک ہی گلی میں دوسری مسجد تعمیر ہوتی ہے، ایک مدرسے میں اختلافات ہوتے ہیں تو اسی گلی میں دوسرا مدرسہ بھی مسلمان بنالیتے ہیں، ایک مکتب میں انکی بات نہیں مانی جاتی ہے تو دوسرے مکتب میں کود پڑتے ہیں لیکن جب ایک میڈیا مسلمانوں کے خلاف بات کررہاہے تو اسکے مقابلے میں کیوں کوئی میڈیا قائم نہیں کررہاہے؟! ہم مسلمانوں کو جہاں مقابلہ آرائی کے لئے اترناہے وہاں کام نہیں ہورہاہے اور جہاں اجتناب کرنا چاہئے وہاں پر آستین چڑھائے کھڑے ہوئے ہیں! اور مسلمان اپنے بچوں کو صحافت کی تعلیم سے ا?راستہ کرنے کے بارے میں تصور بھی نہیں کرتے ہیں! یہاں تک کہ ہمارے قومی وملی ادارے اور تنظیمیں بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔ ہندوستان کے مختلف ریاستوں میں لگ بھگ 109? ٹی وی چینلس موجود ہیں جن میں اکثریت برہمن وادوں کے میڈیا ہاؤس ہیں یا پھر دوسری ذاتوں کے میڈیا ہاؤس پر برہمن و دوسری اونچی ذاتوں کے لوگوں کی گرفت ہے۔ ایسے میں سوچنے کا مقام ہے کہ کیوں مسلمان اس سمت میں پہل نہیں کررہے ہیں۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جو میڈیا اب تک سیکولر کہا جاتاتھا اسے بھی سنگھیوں نے خرید لیا ہے اور یہاں تک کہ مسلمانوں کے درمیان پہنچنے کے لئے اردو میڈیا کے قیام کے لئے آگے آناشروع کیا ہے!افسوس اور دکھ اس بات کا ہے کہ ہم مسلمانوں نے اس طر ف ابھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی اور نہ ہی دے رہے ہیں جب کسی مسلمان کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتاہے تو،مانو میڈیا کو محبوب غذامل جاتی ہے اور اسے میڈیا ٹرائل کرکے دہشت گرد ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔جبکہ عدالت سے باعزت بری ہو تے ہی میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔اس کی ایک مثال حال ہی میں باعزت بری ہونے والے کئی ایسے افراد ہیں جنکو دہشت گردی کے الزام میں سلاخوں میں ڈال دیا گیا تھااور اس وقت میڈیا اسے دہشت گرد ثابت کرنے میں زمین وآسمان ایک کردی تھی، لیکن تحقیق کے بعد جب کوئی جرم ثابت نہ ہونے کی بنیادپرعدالت نے باعزت بری کرنے کا اعلان کیاتو میڈیاخاموش تماشہ بنی رہی اور اس کی رہائی کی ایک خبر بھی نشر کرنا گوارا نہ کی۔جب ہر قوم میڈیا کی اہمیت کو جاننے کی کوشش کرتے ہوئے میڈیا کا قیام کررہی ہے تو مسلمان میڈیا کا شکار ہوکر بھی اسکے مقابلے کے لئے میڈیا ہاؤس کو قائم کرنے سے گریز کیوں کررہی ہے۔ اس تعلق سے مسلمانوں کو سوچنے کی نہیں عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here