عارف عزیز(بھوپال)

11جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ایک جانداراور سیکولر زبان کی حیثیت سے اردو کا اعتراف، اس کی شیرینی کی تعریف اور اس کے مستقبل کے بارے میں تشویش آج ایک رواج بن گیا ہے لیکن جہاں تک عملی اقدامات کا تعلق ہے اس پر توجہ نہیں دی جاتی، قول وفعل کے اسی تضاد کا نتیجہ ہے کہ اردو زبان دن بدن بے حال ہورہی ہے، اردو کتابوں اور اخباروں کے قارئین کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور اس سے زیادہ قلت اردو لکھنے والوں کی ہے، اسی طرح اردو پڑھنے والے طلباء اپنے مستقبل سے مایوس ہیں کیونکہ اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں روزگار کی گارنٹی نہیں، سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اردو کے اس حال زار میں حریفوں سے زیادہ حلیفوں کا حصہ ہے جو اردو کا دم ضرور بھرتے ہیں اس کی تہذیب کے نمائندے کہلانے میں فخر بھی محسوس کرتے ہیں لیکن اپنی اولاد کو اردو کی تعلیم دلانا کسر شان سمجھتے ہیں۔آنجہانی فراق گورکھپوری کہا کرتے تھے کہ ہندوستان میں زیر تعلیم نئی نسل میں نظم وضبط کی کمی، تعلیمی پسماندگی، اساتذہ اور طلباء کے درمیان مستحکم رشتوں کا فقدان اور تعلیمی اداروں میں لاقانونیت، اس وجہ سے ہے کہ ہم اردو اور اس کے کلچر سے دور ہوگئے ہیں، آج اردو کلچر کے مذکورہ پہلوؤں سے کتنے لوگوں کو آگاہی ہے، جو لوگ خود اپنی زبان کو زندہ رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ان کے سامنے اردو کے کلچر کا حقیقی تصور کیونکر ہوسکتا ہے۔بات تلخ ہے لیکن سچ ہے کہ آج اردو کی لڑائی، ان لوگوں سے ہے جو اردو بولتے ہیں، اردو کی روٹی کھاتے ہیں، اردو کے مشاعرے پڑھتے، اردو میں فلمیں لکھ کر ہندی کے نام سے بیچتے ہیں، اردو کے گانوں پر ہندی سرٹیفیکٹ برداشت کرتے ہیں، ان لوگوں کے بچے اردو نہیں پڑھتے، ان کے گھروں میں اردو کے اخبار نہیں آتے۔آج جو عناصر اردو کے بارے میں ہو حق کرلیتے ہیں ان کی اکثریت کو کبھی اس بات کی توفیق نہیں ہوتی کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور غور وفکر کے بعد اردو زبان کی بقاء اور تعلیم و تدریس کے مسائل کا معقول اور کارگر حل تلاش کریں، اس کے بجائے جلسے اور جلوسوں کے ذریعہ اردو اور اس کی ابتدائی تعلیم کی زبوں حالی پر ماتم تو ہوتا ہے، مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے بجائے نام ونمود کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اپنی زبان کی عاقبت اور آخرت کی بہتری کے لئے نیک خواہشات کا اظہار ہوتا ہے اور اس کو اخبارات کی زینت بھی بنا دیا جاتا ہے، اس کے آگے اپنی مادری زبان کے شب وروز بہتر بنانے کی عملی کوشش نہیں ہوتی، حالانکہ جلسے، جلوسوں، کانفرنسوں اور سیمی ناروں کے صرف شرکاء اس کا فیصلہ کرلیں کہ وہ اپنی زبان کو اپنے گھر اور معاشرہ میں زندہ رکھیں گے تو اردو کے چہرے پر پھر رونق آسکتی ہے۔اس لئے ضروری یہ ہے کہ دوسروں کو تنقید ومخالفت کا ہدف بنانے کے بجائے اہل اردو خود اپنا احتساب کریں اور کم از کم اپنی یہ ذمہ داری طے کرلیں کہ اردو ان کے گھر اور خاندان میں زندہ رہے گی اگر وہ یہ نہیں کرسکتے تو اردو کے نام پر صرف محفلیں سجانے اور دلوں کو گرمانے کا انہیں حق نہیں ہے۔
اسی طرح اردو کے نام پر کام کرنے والی انجمنوں، اکادمیوں اور اداروں کا جائزہ لینا ضروری ہے، جن کے اسٹیج سے اردو کے حق میں دل نشیں تقاریر کرکے اہل اردو کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہندوستان کی کوئی مقبول عام زبان ہوسکتی ہے تو وہ اردو ہے، جس کا ادب بالخصوص شاعری دوسری دنیا پر راج کررہی ہے، اس کی غزلیں آج بھی ہر محفل میں اپنا رنگ جما دیتی ہیں، یہ وہی زبان ہے جو ایک صدی سے فلمی دنیا پر حکمرانی کرتی آرہی ہے اور اس کے مکالموں پر داد وتحسین کے نعرے بلند ہوتے ہیں، لیکن کوئی زبان کھوکھلے نعروں یا صرف تالیوں سے زندہ رہی ہے، جو اردو زندہ رہے گی؟مذکورہ باتیں اگرچہ واقعاتی طور پر درست ہیں اور کوئی بھی صحیح دماغ ان سے انکار نہیں کرسکتا، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں اردو کا ارتقا رک گیا ہے، نئی نسل کا اس زبان کے رسم الخط سے رشتہ منقطع ہورہاہے، اردو شاعری ماضی کے خمار کے درجہ پر پہونچ گئی ہے اور کوئی بھی خمار زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہتا، ہر عوامی زبان کے لئے لازم ہے کہ اس سے عام لوگوں کے پڑھنے لکھنے کا تعلق برقرار رہے اور زبان اسی وقت تک زندہ رہتی ہے جب روزی روٹی سے اس کا تعلق استوار رہے۔ آج لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ فلم اور ٹی وی کی زبان اردو ہے، لیکن حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ دیوناگری میں لکھی جانے والی ”ہندوستانی“ ہے، کیونکہ کسی بھی ٹی وی اور فلم کے اسکرپٹ کو اٹھاکر دیکھیں تو اردو میں نہیں، دیوناگری میں ملے گا، وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ اپنی تن آسانی اور بے توجہی سے اہل اردو اپناسارا سرمایہ ہندی والوں کے نذر کررہے ہیں، وہ نہ تو خود اردو رسم الخط کا استعمال کرتے ہیں، نہ ہی اپنی اولاد کو اس سے واقف کرارہے ہیں، حالانکہ کسی بھی زبان کی شناخت میں اس کے رسم الخط کا اہم رول ہوتا ہے۔ اہل سیاست اور عالمی منڈی کے ذمہ دار بھی، اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ اردو کا دائرہ سکڑرہا ہے اور اس زبان کا دم بھرنے والے اس سے اعراض کرنے لگے ہیں، ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہندوستانی زبان میں فروخت ہونے والی مصنوعات پر انگریزی سے زیادہ اور انگریزی سے پہلے ہندی میں نام اور اس کے خواص درج ہونے لگے ہیں اور سوائے ہمدرد کے کوئی اردو کو اپنی مصنوعات کی تشہیر میں نمائندگی دینے پر تیار نہیں ہے۔ اس تلخ نوائی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل اردو اپنی زبان کو بچانے کے لئے زبانی جمع خرچ کے حصارسے باہر آئیں اور ایثار وجدوجہد کے لئے خودکو تیار کریں، اس کے بعد حکومت سے توقع کرنا بجا ہوگا، ایک اور بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ہندوستان میں اردو کے مستقبل کا انحصار دوسرے ملکوں میں اس کی ترقی یا نئی بستیاں بسانے پر نہیں ہے نہ ہی اس بات پر ہے کہ الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، ہندی فلموں کے نغمے، مکالمے، ڈرامے، یا ہندی شاعری میں اردو الفاظ کا استعمال بڑھ رہا ہے، اردو کی بقاء کا انحصار صرف اس پر ہے کہ اردو زبان سے متعلق کتنے فیصد بچوں کو اسکولوں میں اردو سیکھنے اور پرائمری درجوں میں ذریعہ تعلیم کے بطور اردو اپنانے میں دلچسپی اور مواقع حاصل ہیں، کچھ حد تک آندھرا، مہاراشٹر، بہار اور کشمیر کی صورت حال گوارہ ہے، باقی ہر ریاست میں اردو پڑھنے والوں کے تناسب میں تیزی سے کمی ہورہی ہے اور سال بہ سال اسی طرح دن بدن اردو تعلیم کی سہولتیں گھٹتی جارہی ہیں، یہاں تک کہ اردو پڑھنے پڑھانے کے لئے مطالبات میں بھی کمی آرہی ہے،پچھلا پارلیمانی الیکشن آزادی کے بعد غالباً یہ پہلا الیکشن تھا، جس میں اردو زبان کو یکسرنظر انداز کردیا گیا، کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا کہ بہار کے سوا اردو کو ہر ریاست میں خواہ وہ اترپردیش ہو یا مدھیہ پردیش، راجستھان ہو یا دہلی اسکولوں کے نصاب سے باہر کردیا گیا ہے، جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوتی اردو کے اچھے دن لوٹ آنا ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے، آج دو تین کام ترجیحی بنیاد پر کرنے کی شدید ضرورت ہے اول اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا بہتر سے بہتر انتظام ہو، دوم اردو کی ترقی کیلئے فضا ہموار کی جائے، اس زبان کے بارے میں جو جذبات وتعصبات پچھلے ساٹھ برس میں اہل وطن کے کے ذہن میں گھر کرچکے ہیں، انہیں دور کرنے کی صدق دلی سے کوشش کی جائے، خاص طور پر نئی نسل کویہ بتایا جائے کہ اردو زبان کا ملک کی تقسیم یا پاکستان کے قیام سے کوئی تعلق نہیں، یہ پاکستان میں نہیں ہندوستان کے ان علاقوں میں پھلی اور پھولی ہے جس کو شمالی ہند کہا جاتا ہے اور اس کا تمام تر ادبی سرمایہ ہندوستان کی مٹی میں رچا بسا ہے اور یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی نہیں، عام ہندوستانیوں کی ز بان ہے۔اس کا ایک قومی کردار ہے، جس نے ہمیشہ جوڑنے کا کام کیا توڑنا یا نفاق پیدا کرنا، اس کی سرشت میں داخل نہیں، اس زبان نے اپنی شیرینی وحلاوت سے ہر ایک کو گرویدہ کیا ہے اور اپنے جوش وخروش سے جہادآزادی میں سب کے دل کو گرمایا ہے، آزادی کی قدر وقیمت کا احساس دلایا ہے، آج بھی اردو علاحدگی پسند اور انتشار پھیلانے والی طاقتوں سے جنگ لڑنے میں تیز دھار کے ہتھیار کا کام کرسکتی ہے کیونکہ اس میں گنگا جمنی تہذیب وشائستگی کی جو گھلاوٹ ہے، وہ تخریب وفساد کے علمبرداروں کو رام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ زبان شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک سبھی علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، لہذا شیطانی طاقتوں کا مقابلہ کرنے میں، یہ دوسری زبانوں سے زیادہ معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here