11جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سعودی ماہر فلکیات اور Arab Union for Astronomy and Space Science کے رکن ملہم ہندی کا کہنا ہے کہ فلکیاتی سائنس دان نو ستمبر کے منتظر ہیں جب زمین کے لیے خطرناک سیارچوں کی فہرست میں شامل چوتھے سیارچے کے زمین کے نزدیک آنے کی توقع ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ہندی نے کہا کہ اس سیارچے کا نام 2006 QV89ہے اور اس کا انکشاف 2006 میں ہوا تھا۔ مذکورہ سیارچے کا قطر تقریبا 30 میٹر ہے اور یہ درمیانے حجم کے سیارچوں میں شمار ہوتا ہے۔ زمین کی سطح سے اس سیارچے کا فاصلہ 62.5 لاکھ کلو میٹر ہے۔ یہ زمین سے چاند تک کے فاصلے کا 15 گُنا ہے۔ہندی کے مطابق سیارچے کے درمیانے حجم کے لحاظ سے یہ بہت بڑا فاصلہ ہے لہذا خطرے کا تناسب 0.014% سے زیادہ نہیں ہے،،، اور سیارچہ اللہ کے حکم سے بحفاظت گزر جائے گا۔ سعودی ماہر فلکیات نے بتایا کہ یہ اس سیارچے کے زمین کے نزدیک آنے کا پہلا موقع نہیں ہے۔ گذشتہ صدی میں 50ء اور 60ء کی دہائی میں ایسا کئی بار ہو چکا ہے۔ سال 2013 میں بھی یہ زمین کے قریب سے گزرا تھا۔ ہندی کے مطابق یہ سیارچہ ہمیشہ بحفاظت اور سلامتی کے ساتھ زمین کے نزدیک سے گزرے گا۔ماہرین فلکیات کے مطابق کوئی بھی سیارچہ جو زمین سے 75 لاکھ کلو میٹر کی دوری سے کم فاصلے پر آ جاتا ہے وہ سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ایسے سیارچے کو ماہرین کی جانب سے Near-Earth object شمار کیا جاتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here