نازش ہما قاسمی

10جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)جی سیاسی لیڈر، جمہوری حکومت میں عوامی سروں کی گنتی سے منتخب ہونے والا، چور، اچکا، ڈاکو،،شعبدہ باز، دھوکہ باز، وعدہ وفا نہ کرنے والا، طاقتور، ظالم، منشیات فروخت کرنے والوں کی پشت پناہی کرنے والا، نشہ مکت مہم چلانے والا، حقیقی لیڈر، زمینی سطح پر کام کرنے والا، محسن، غم خوار، عوامی فلاحی کام کرنے والا، اچھا، برا، خراب، بدمعاش، شریف، رذیل، پڑھا لکھا، جاہل، اجڈ، گنوار، تعصب پرست، مذہب بیزار، کور چشم، عوام میں مقبول سیاسی لیڈر ہوں۔ اس پارٹی سے اس پارٹی میں جانے والا، ایک ہفتہ اس پارٹی میں رہ کر اس پارٹی کو برا بھلا کہہ کر کوسنے والا اور دوسرے ہفتے میں جسے کوسا اسی کی پارٹی میں داخل ہوکر اس کے گن گان کرنے والا لیڈر ہوں۔ ہر ملک میں پایا جانے والا عالمی لیڈر، مقامی طور پر مشہور مقامی لیڈر، علاقائی طور پر معروف علاقائی لیڈر، ملکی سطح پر مجہول غیر معروف لیڈر ہوں۔ ہاں میں وہی لیڈر ہوں جو صبح کو رام رام کرتا ہوں اور شام کو اللہ اللہ۔۔۔مَیں عوام کو تو دھوکہ دیتا ہی ہوں بھگوانوں کو بھی دھوکہ دینے کا ہنر جانتا ہوں۔ ہاں میں وہی لیڈر ہوں جو صبح وشام رام جی کا نام جپتا ہوں، حقیقی معنوں میں رام جی کی تعلیمات کو پھیلاناچاہتا ہوں، ہاں میں وہی لیڈر ہوں جو صبح وشام اللہ اللہ کرتا ہوں اور اللہ کی سرزمین پر مخلوق خدا کیساتھ انصاف کرنا چاہتاہوں، ہاں میں وہی لیڈر ہوں جو عوام کو پانچ سال تک بے وقوف بناتا ہوں، انہیں بے وقوف بنانے کاہنر کوئی ہم سے سیکھے، کس طرح انہیں جذباتیات میں الجھا کر اپنی روٹی سینکتا ہوں، کبھی فساد کروادیتا ہوں اور ہندو مسلم کے نام پر لڑوا کر ان ہی کی لاشوں پر روتا ہوں اور رہبر وقائد بن جاتا ہوں، ان کی خوشی میں غم لاکر بھی مقبول رہتا ہوں، انہیں آپس میں لڑا کر اپنا کام نکالتا ہوں۔ دو فریقوں کو لڑاکر ان کے درمیان مصالحت کرانے کے ہنر سے بھی بخوبی واقف ہوں، اگرہندوستانی جس طرح ماضی میں رہتے تھے اگر رہیں تو ہماری لیڈری نہ چمکے، ہمیں کوئی گھاس تک نہ ڈالے، اگر ہم عوام کے کام کردیں تو کوئی ہمیں پوچھے تک نہیں؛ اس لیے ہم ان کے کاموں کو الجھائے رکھتے ہیں، دو دن میں ہونے والے کام کو سالہا سال تک گھسیٹتے رہتے ہیں اور الیکشن کے وقت اسے عوام کے سامنے لاکر کریڈٹ حاصل کرکے اپنا کام بناتے ہیں۔ ہاں میں وہی سیاسی لیڈر ہوں جو دلتوں کی ا?واز اْٹھاتا ہے، جو مسلمانوں کو کوستا ہے، جو ہندوؤں کو بھڑکاتا ہے، جو عیسائیوں کو ڈراتا ہے، جو اقلیتوں کو ہراساں کرتا ہے، جو گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کا وعدہ کرکے گنگو کی بیٹی کو جمن کے بیٹے سے بیاہ دیتا ہے اور پھر لوجہاد کا نعرہ دیتا ہے، ہاں میں وہی لیڈر ہوں جو لاشوں پر روتا ہے، اور لاشیں بھی بچھوادیتا ہے، ہاں میں اچھا لیڈر ہوں، عوامی فلاح و بہبود کیلیے کام کرتا ہوں، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہوں، ان کے غموں کا مداوا کرتا ہوں، کبھی الیکشن میں جیت جاتا ہوں، کبھی ہار جاتا ہوں؛ لیکن جیتوں یا ہاروں عوام میں یکساں مقبول رہتا ہوں، عوامی خدمات سے کبھی منہ نہیں موڑتا، ہمیشہ ان کے ’ا?ڑے‘ وقت میں ’سیدھا‘ کھڑا رہتا ہوں۔ ہاں میں بدمعاش لیڈر ہوں، چور اچکا ہوں، جاہل ہوں، فسادی ہوں، ہندومسلمان کو جہاں دیکھتا ہوں کہ ایک ساتھ خوش و خرم ہیں، اخوت و بھائی چارگی کا مظاہرہ کررہے ہیں، ترحم و مواسات کے جذبے کے ساتھ باہم شیر وشکر ہوکر رہ رہے ہیں، انہیں آپس میں لڑا دیتا ہوں، کبھی مندر میں گوشت پھنکوادیتا ہوں تو کبھی مسجد پر پتھر مار دیتا ہوں پھر تماشہ دیکھتا ہوں، انہیں اچھے سے لڑاتا ہوں، اچھے سے ان کی معیشت کو تباہ کروادیتا ہوں اور جب دیکھتا ہوں ا?گ زیادہ بھڑک گئی ہے، لاشوں کے گرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے تو پھر ان کا مسیحا بن کر سامنے آتا ہوں، کسی ایک گروہ کی حمایت کرکے دوسرے گروہ کے خلاف مزید آگ بھڑکا دیتا ہوں اس کے بعد کا جو نظارہ ہوتا ہے اسے دیکھ کر شیطان بھی شرمندہ ہوجاتا ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں چرس، افیم، گانجہ، و دیگر منشیات کا کاروبار کرتا ہوں، جب مسلم بچے نشے کے عادی ہوجاتے ہیں اس وقت پورے علاقے میں نشہ مْکت مہم چھیڑ کر عوام کا ہیرو بن جاتا ہوں۔ ہاں میں پڑھا لکھا معتدل، منصف مزاج لیڈر ہوں، روزگار کے تعلق سے سوچتا ہوں، کسانوں کی خودکشی سے دکھی ہوتا ہوں، بے روزگاری دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں، ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کی سوچتا ہوں، قحط سالی کو دور کرنے کا سبب تلاش کرتا ہوں، میں اتنا ایماندار اور امانت دار سیاسی لیڈر ہوں کہ پارلیمنٹ سے ملنے والے فنڈ سے بمشکل تمام اپنا گزارا کرپاتا ہوں، کبھی بھی قومی مفاد کو نظر انداز نہیں کرتا ہوں، ملک و قوم کی ترقی کے لیے جدوجہد کرتا ہوں، کبھی اپنے مشن میں کامیاب ہوجاتا ہوں اور کبھی جاہل، اجڈ، گنوار سیاسی لیڈران کے سیاسی ہتھکنڈوں کا شکار ہوکر اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں کرپاتا ہوں اور عوام میں پھیلی مذہبی اور علاقائی عصبیت کی بنا پر جاہل گنوار، بدمعاش لیڈر کے سامنے ہار جاتا ہوں اور عوام جذباتی، داغی لیڈران کے بہکاوے میں آکر پانچ سال تک خون کے آنسو روتے ہیں، ہاں میں زانی لیڈر ہوں، عورتوں کے تحفظ کا نعرہ دے کر ان کا استحصال کرتا ہوں، ان کے جسموں کو نوچتا ہوں، لوٹتا ہوں، گھسوٹتا ہوں اور جب دیکھتا ہوں کہ زمین سرکنے والی ہے تو اسے دھمکی دیتا ہوں، جان سے مارنے کی کوشش کرتا ہوں، کبھی پکڑا جاتا ہوں، کبھی بچ جاتا ہوں، کبھی خود کو بچانے کے چکر میں جسے نوچے رہتا ہوں، اس کے اہل خانہ کو موت کی نیند سلادیتا ہوں؛ لیکن ہماری مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آتی، میں پھر بھی عوام کا مقبول رہنما اور لیڈر رہتا ہوں۔ ہاں میں مجرم لیڈر ہوں، ملزم لیڈر ہوں، جس پر جرم ثابت ہوچکا ہے وہ لیڈر ہوں، لیکن اسمبلی کا ممبر ہوں، جس پر بم دھماکے کا الزام ہے وہ لیڈر ہوں؛ لیکن پارلیمنٹ کا رکن ہوں، مجھے عوام نے منتخب کیا ہے؛ اس لیے جرائم کے تمام داغ، دھبے ’سیاسی پارٹیوں‘ میں شمولیت کے بعد دھل جاتے ہیں۔ سارے گناہ ختم ہوجاتے ہیں، عدالت سے اپنے اوپر عائد الزامات کو ہٹوالیتا ہوں، سیاسی پاور کا استعمال کرکے قاتل سے منصف ہوجاتا ہوں، زانی سے عصمت بچانے والا قرار پاتا ہوں، رہزن سے رہبر تصور کیاجاتا ہوں، تمام الزامات کے ساتھ الیکشن لڑتا ہوں اور منتخب ہونے کے بعد میں معزز ہوجاتا ہوں، مولوی بھی سلام کرتا ہے، پنڈت بھی آداب بجالاتا ہے، عوام بھی سجدہ کرتیہیں۔ ہاں میں وہی لیڈر ہوں جو ہندوستان کے ہر خطے میں پایا جاتا ہوں، ہندی سے محبت کرنے والا ہندی، مراٹھی کو فروغ دینے والا مراٹھی مانس، اردو کی چاشنی سے لبریز محب اردو، تیلگو سے پریم کرنے والا تیلگو، انگلش سے الفت رکھنے والا ساؤتھ انڈین،بنگالی، کوکنی، ملیالم، منی پوری، کشمیری، سندھی، گجراتی بولنے والا لیڈر ہوں، میتھلی بولنے والا بہاری، بھوجپوری بولنے والا یوپی کا لیڈر ہوں، اڑیہ بولنے والا اڈیشہ کا رہنما، حتی کہ ہندوستان کے ہر چھوٹے بڑے علاقے میں چھوٹا بڑا لیڈر ہوں۔ یادو، پاسوان، دلت، مسلم، برہمن، مانجھی، موسہڑ، ہر پچھڑی ذاتی کا، اعلی طبقے کا، متوسط طبقے کا، اقلیتوں کا سیاسی لیڈر ہوں۔ عوام نے مجھے خادم کی حیثیت سے چنا ہوتا ہے؛ لیکن میں مخدوم ہوجاتا ہوں، حقیقت میں عوام کا نوکر ہوتا ہوں؛ لیکن اپنے جائز و ناجائز اختیارات کی وجہ سے ان کا مالک بن بیٹھتا ہوں، ان کے حاصل شدہ حقوق پر ڈاکہ ڈال کر سلب کرلیتا ہوں، ان کے فلاح و بہبود کے لیے جو فنڈ مہیا کرایا جاتا ہے اسے بھی بغیر ڈکار لیے ہضم کرجاتا ہوں، تمام تر برائیوں کے باوجود میں عوام کا چہیتا اور پسندیدہ سیاسی لیڈر ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here