تحریر: غوث سیوانی،نئی دہلی

10جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)مدرسہ میں پڑھ کو کوئی آئی اے ایس افسر کیسے بن سکتا ہے؟ایک حافظ قرآن، ڈاکٹر کیسے بن سکتا ہے؟ مولوی انجینئرینگ کی پڑھائی کیسے کرسکتا ہے؟ اس قسم کے سوال اب بے کار ہوچکے ہیں کیونکہ اب مدرسے صرف عالم دین ہی نہیں پیدا کر رہے ہیں بلکہ سرکاری افسر، ڈاکٹر، انجینئر، سائنٹسٹ اور دوسرے شعبوں کے ماہرین بھی پیدا کر رہے ہیں۔ آج تک کسی کالج نے عالم دین پیدا نہیں کیا،کسی یونیورسٹی نے حافظ قرآن نہیں فارغ کیا،کسی عصری اسکول سے پڑھ کرکوئی مفسریا محدث نہیں بنا مگر یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ مدرسے جن کا مقصد وجود ہی دینی تعلیم ہے اورجہاں اسلام کی تعلیم پر زور دیا جاتا ہے آج مختلف شعبوں کے ماہرین پیدا کر رہے ہیں۔اس کی ایک مثال تو حال میں دیکھنے کو ملی جب مولاناحافظ شاہد رضامصباحی نے سول سروسیز کے مشکل ترین امتحان میں کامیابی پائی۔ حالانکہ اس میدان میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی فارغین مدارس یوپی ایس سی، JEE,NET,NEETاور کچھ دوسرے امتحانات نکال چکے ہیں۔چند سال قبل مولاناوسیم الرحمٰن قاسمی نے بھی سول سروسیز کا امتحان پاس کیا تھا اور چرچا میں آئے تھے۔اس طرح اب تک کئی علماء وحفاظ محنت کرکے ڈاکٹر، انجینئر،لکچرر اور مختلف شعبوں کے ماہر بن چکے ہیں۔ UPSC اور نیٹ کے نتائج میں، مدرسوں کے طلبہ کا جگہ بنانا کم بڑی بات نہیں ہے کیونکہ یہ دوسرے طلبہ کے لئے ایک مثال ہے اور پوری ملت کے لئے امید کی کرن۔مدرسے سے یوپی ایس سی تکاس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مدرسوں میں وہی بچے پڑھنے جاتے ہیں جو بے حد غریب خاندان سے آتے ہیں۔ یہ بچے اگر مدرسوں میں نہ جائیں تو ان کا بچپن کہیں اور برباد ہوجائے اورہمیشہ کے لئے جہالت کے ’بلیک ہول‘ میں گم ہوجائیں۔ چند بچے لورمڈل کلاس کے بھی ہوتے ہیں۔ حالیہ ایام میں سول سروسیز میں اپنی جگہ بناکر سرخیوں میں آنے والے شاہد رضا خان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہے جن کے والدین نے مالی دشواریوں کے سبب انھیں ایک نجی اسکول سے نکال کر مدرسہ میں داخل کردیا تھا۔ تاہم،گزشتہ UPSC کے نتائج میں، انہوں نے 751 واں مقام پایا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مدرسوں میں پڑھنے والے اسٹوڈنٹس بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ دہلی کے جے این یوسے پی ایچ ڈی کر ر ہے، مولاناشاہدرضاخان کا کہنا ہے کہ میرے بھائی دانتوں کے ڈاکٹر ہیں۔ جب میں 17 سال کا تھا تب ہی انھوں نے مجھے سول سروسیز میں جانے کے لئے حوصلہ افزائی کی تھی۔ جب میں جنرل نالج کی کوئی کتاب پڑھتا تھا تو میرے ساتھی کہتے تھے کہ میں سلیبس کے علاوہ کچھ پڑھ رہا ہوں۔ واضح ہوکہ وہ قصبہ مبارک پور، اعظم گڑھ واقع دینی ادارے الجامعۃ الاشرفیہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ مولاناشاہدرضا کا کہنا ہے کہ کسی مدرسہ، مسجد یا مذہب کو قدامت پسند نہیں ہونا چاہئے۔ مذہب ہمیں انسانیت کی خدمت کرنے کی تعلیم دیتا ہے، میں وہی کروں گا۔ غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ چند سال قبل مولاناڈاکٹر وسیم الرحمٰن قاسمی نے بھی یوپی ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا۔ وہ ہمدرد یونیورسٹی نئی دہلی سے بی یوایم ایس کرنے کے بعد سول سروسیز کے امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے۔فی الحال وہ انکم ٹیکس کمشنر کی حیثیت سے آندھرا پردیش میں کام کر رہے ہیں۔ سول سروسیز کی تیاری کے مراکزحالیہ دنوں میں، اتر پردیش سمیت بہت سی ریاستوں میں، مدرسوں نے اپنے تعلیمی نصاب میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ ان کے علاوہ، بہت سے غیر سرکاری ادارے بھی ابھرے ہیں، جو ڈاکٹر، انجنیئر، آئی اے ایس وغیرہ بننے کے خواہش مند مسلم طلباء کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ اس میں تعاون بھی کرتے ہیں۔ ایسے ہی اداروں میں دہلی کازکوٰۃ فاؤنڈیشن ہے۔ ہمدردیونیورسٹی کا ہمدرد اسٹڈی سرکل بھی اس میدان میں کام کرتا ہے نیز جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی سول سروسیز کے لئے تیاری شروع کرائی ہے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر نے بھی گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ وہ مسلم بچوں کو یوپی ایس سی کے لئے تیار کرے گا۔علاوہ ازیں کچھ دوسرے کوچنگ سنٹرس بھی ہیں جو موٹی فیس لے کر تیاری کراتے ہیں۔زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر سید ظفر محمود کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال 65 اسٹوڈنٹس کا سول سروسیز کی کوچنگ کے لئے اڈمیشن لیتے ہیں۔ ان میں سے، 5-6 طلبہ مدرسوں کے پڑھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، میں ان کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں دیکھتا۔ ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ ایک امتحان کے ذریعے کیا جاتا ہے، یہ واضح ہے کہ ان کی سطح بھی عام طلبا کی طرح ہے۔جہاں حافظ قرآن بنتے ہیں ڈاکٹربیدر،کرناٹک کا شاہین گروپ گزشتہ کچھ برسوں سے ایک نیا تجربہ کر رہا ہے۔ یہاں اسٹوڈنٹس کو حافظ بنانے کے ساتھ ساتھ NEETاور دوسرے مسابقتی امتحان کے لئے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ ادارہ کا ”حفظ القْرآن پلس کورس“ انقلابی ثابت ہورہا ہے اور اب اسے کل ہند سطح پر پھیلایا جارہا ہے۔ اس کورس کے ذریعے طلبہ وطالبات کو دینی اور عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ NEET اور دوسرے امتحانات کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں 21 طلبہ وطالبات نے امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی اور ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا۔ جن حافظ طلباء و طالبات نے NEET میں جگہ بنائی، ان کی رینک یوں ہیں: حافظ وحید عبداللہ 3295، حافظ قرۃ العین 7446، حافظ ثاقب احمد 63511، حافظہ امۃ اللہ فاتحہ 15270، حافظ فواز احمدخان 17681، حافظہ شوا فاطمہ خانم28443، حافظہ اْم الودود 94871، حافظ ابوذر مجتہدی 106878، حافظ ولی الرحمن 127154،حافظ ابو لیث مجددی 137520، حافظ فاروق 266935 اور حافظ محمدعبداللہ سلیمانی 279912۔گورکھ پور کے رہنے والے حافظ عبداللہ نے 15 سال کی عمر میں شاہین گروپ جوائن کیا تھا۔یہاں سے پڑھنے کے بعد، انہوں نے NEETکا امتحان دیا اور 579 نمبر حاصل کیا۔ اب وہ AMU سے میڈیکل کی پڑھائی کر ر ہے ہیں۔ انھیں کی طرح، ایک اور مدرسے کی طالبہ حافظہ رابعہ باسرین نے بھی شاہین گروپ کے تحت تعلیم پائی اور اب وہ بنگلور میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کر رہی ہیں۔ شاہین ادارہ جات بیدر کے کورس سے استفادہ کر اسٹوڈنٹس صرف ڈاکٹر ہی نہیں بنے ہیں بلکہ انجینئرنگ اور دوسرے پیشہ ورانہ کورسز میں بھی داخل ہوئے ہیں۔ اس ادارے کے 32 مراکز چل رہے ہیں۔ ادارہ پہلے امتحان وانٹرویو کے ذریعے حفاظ کو منتخب کرتا ہے اور پھر تین یا چار سال کی تیاری سے انھیں اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ میڈیکل، انجنیئر نگ، مینجمنٹ جیسے دیگر پروفیشنل کورسوں میں داخلہ لے سکیں یا ریاستی اور مرکزی سطح کے مسابقتی امتحانات میں حصہ لے سکیں۔ ادارہ کے ذمہ داروں کی طرف سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پانچ سال کی مدت میں 12ریاستوں کے 200 سے زائد حفاظ اس کے کورس سے استفادہ کرچکے ہیں۔ متعدد حفاظ، سرکاری میڈیکل کالجوں، انجنیئرنگ کالجوں اور دیگر پروفیشنل کورسوں کے سرکاری کالجوں میں بھی مسابقتی امتحان کے ذریعہ داخلہ لے چکے ہیں۔کرناٹک کی حکومت نے شاہین گروپ کو سال 2013 میں ”راج اتسو“ ایوارڈ بھی دیا تھا۔ بہرحال اس راستے پر چلنے کی مزید کچھ ادارے کوشش کر رہے ہیں۔ سیوان (بہار)کے رہنے والے علی زاد جو کہ تعلیم کے میدان میں ”مشن تعلیم“کے ساتھ کام کرتے ہیں،عنقریب ایک ایساہی پروگرام لانچ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علم قرآن کی بدولت اللہ تعالی حافظوں کا سینہ علم کے لئے کھول دیتا ہے۔وہ اس پروگرام کا آغاز اپنے گاؤں لکڑی درگاہ کے مدرسے سے کر نے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مدرسے کے باہر الگ پہچاناس میں شک نہیں کہ بیشتر مدرسوں کا نصاب عصری تقاضوں سے آج بھی ہم آہنگ نہیں ہے، باجود اس کے فارغیں مدارس کی مدرسوں میں ایسی تربیت ہوجاتی ہے کہ وہ محنت ومشقت کرکے دوسرے شعبوں میں بھی اپنے لئے جگہ بنالیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹرریحان ملک فلاحی جو کہ مولانا آزادنیشنل اوپن یونیور سٹی حیدر آبادمیں سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسرہیں، اعظم گڑھ کے معروف ادارے جامعۃ الفلاح بلریاگنج سے فارغ ہیں۔ صلاح الدیب ایوب فلاحی ایک اکنومسٹ ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرر کھاہے اور فی الحال اس سے متعلق ایک سرکاری پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ وہ جامعۃ الفلاح بلریاگنج سے فارغ ہیں، اسی مدرسے کے ایک دوسرے فارغ شفیق الرحمٰن غازی بھی معاشیات کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ محمد یحیٰ، مہاراشٹر کی ایک فائننس کمپنی میں اچھے عہدے پر ہیں۔ وہ بھی اسی مدرسے سے فاضل ہیں۔ ان کے والد مولانااسماعیل فلاحی یہاں ایک مدت تک درس وتدریس سے جڑے رہے ہیں۔ابوبکر سباق فلاحی،جنھوں نے پہلے ماس میڈیا کی پڑھائی کی، پھر ایم ایس ڈبلیو کیا مگر پیشہ انھوں نے وکالت کا اختیار کیا اور اب دہلی میں ایک کامیاب وکیل ہیں۔پروفیسراشتیاق احمد ظلی اصلاحی، علی گڑھ مسلم نیورسٹی میں ہسٹری پڑھاتے ہوئے ریٹائرڈ ہوئے۔ ان کی تعلیم جامعۃ الاصلاح اعظم گڑھ میں ہوئی ہے۔ دہلی مائناریٹی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرظفرالاسلام ایک انگلش اخبار ”ملی گزٹ“کے ایڈیٹرہیں،ان کی تعلیم بھی مدرسے سے ہوئی ہے۔وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان لوگوں کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں ایسے فارغین مدارس موجود ہیں جو مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں۔ مدرسوں کے بچے چونکہ ابتدا سے اردو، عربی اور فارسی سے بخوبی آگاہ ہوجاتے ہیں لہٰذا وہ انگلش سیکھ کر بہترن ٹرانسلیٹر بن جاتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں ایک جلیس نصیری شامل ہیں جومدرسہ پس منظر کے ہیں اور ٹرانسلیشن کے میدان میں اپنے نمایاں کام کے لئے جانے جاتے ہیں۔ مدرسے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہت سے طلبہ گریجویشن کرتے ہیں اور ٹرانسلیشن وغیرہ میں بہتر کارکردگی کے سبب نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں آسانی ے جاب پالیتے ہیں اور اچھی سیلری پاتے ہیں۔بیشترمدرسوں کے نصاب عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔ البتہ جماعت اسلامی ہند کے مدارس اس معاملے میں دوسرے مدرسوں سے مختلف ہیں۔ اس کا فائدہ یہاں کے طلبہ وطالبات کو مل رہا ہے۔ اگر مدارس اپنے نصاب میں دینیات کے ساتھ ساتھ پروفیشنل علوم کو بھی شامل کریں تو بڑا بدلاؤ آسکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here