07 جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ہر قوم میں کو ئی نہ کو ئی ایسا دن ضرور ہوتا ہے جس میں عام طور پر خوشی منا ئی جاتی ہے اور عمدہ لباس پہنا جا تا ہے اور عمدہ کھانے کھا ئے جاتے ہیں ہر قوم کی ایک عید ہو تی ہے اور یہ ہماری عید ہے ہر قوم میں کچھ دستور اور رسمیں اور عا دتیں ہو تی ہیں منجملہ ان کے میلے بھی ہیں اور جن کا تمام متمدن اور غیر متمدن قوموں میں رواج ہے میلے کے دن خواراک لباس اور ملاقات میں نمایاں تبدیلی ہو تی ہے رمضان کا مبارک مقدس مہینہ گذر گیا،اللہ تعالیٰ نے اس مبارک مہینے میں ہمیں آپ کو جو خیر کے کاموں،اعمال صالحہ،روزے،نماز اورتلاوت کی جو توفیق عطا فرمائی اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لا نا چاہیے اور جو کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں اور یقیناہوئی ہونگی ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں توبہ کریں،اللہ تعالیٰ سے التجا ہے کہ ہمیں معاف فرمادیں اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لانا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے اس پر قرآن مجید میں نعمتوں میں زیاد ہ کرنے کا وعدہ بھی فرمایا گیا ہے‘ لہذا رمضان المبارک کی ہر ہر گھڑی کا اور اس میں جو اعمال صالحہ کی ہمیں توفیق بخشی اس پر ہم اللہ رب العالمین کا شکر بجا لانا چاہیئے بلکہ بجا لا تے ہیں مذکورہ خیالات کا اظہار عید الفطر کے موقع پر بروز چہارشنبہ ۵ جون ۹۱۰۲؁ ء کو سر قاضی عید گاہ چامراج پیٹ میں بنگلور سٹی جامع مسجد کے امام و خطیب و مہتمم جامع العلوم بنگلور حضرت مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادنے عید الفطر کے دن بروز چہارشنبہ ۵ جون کو اپنے خطاب میں فر مایا نیز مولانا موصوف نے فر مایا کہ رمضان المبارک کا مہینہ گذرنے کے بعد آج شوال المکرم کا پہلا دن اور پہلی تاریخ ہے اور یہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے عطا فرمودہ دوعیدکے دنوں میں سے ایک دن ہے آج گویا عملی طور پر جمیع امۃ مسلمہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے دو گانہ نماز شکر بجالانے کے لئے عید گا ہ میں جمع ہوتے ہیں اسی لئے آج فجر کی نماز کے بعد کوئی نفل نماز درست نہیں حتی کہ طلوع آفتاب کے بعد اشراق کی جو رکعت دو دو کرکے ادا کی جاتی ہے وہ معاف ہے اور جو مسلما ن ہمیشہ اشراق کی نماز پڑھا کرتے ہیں آج انہیں اشراق کی نمازپڑھے بغیر ہی اس کا اجروثواب پالیں گے اور خاص طور پر آج اللہ تعالیٰ کا یہ انتظام ہے آج مسلمان مالدار اور غریب کے فرق کے بغیر عید گا ہ میں جمع ہوں اور کندھے سے کندھا ملاکر نماز اداکریں اس کے لئے غریب مسلمان بے فکری سے عید کی خوشیاں حاصل کریں اور عید گاہ کو شاداں وفرحاں جائیں اللہ تعالیٰ نے صاحب حیثیت مسلمانوں کو صدقہئ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا اور خاص طور پر حکم ہے کہ اللہ کی کبریائی کا اظہارہر زبان سے اللہ کی کبریائی تکبیرات کے ذریعہ بیان کرنے کا دن ہے۔اسلام کو ئی خشک مذہب نہیں ہے اور نہ جسمانی وذہنی جائز تفریحات کے خلاف ہے بلکہ جائز حدود میں رہ کرہر وہ کام کرسکتے ہیں جس میں آپ کے قلب وروح کو تسکین حاصل ہواور جسم کو طمانیت کا احسا س ہو اور عید الفطر کا دن سال میں ایک بار آتا ہے شریعت کے احکام کی پابندی کرکے اس دن کویاد گار بناسکتے ہیں خوشی ومسرت کا پورامظاہرہ کرسکتے ہیں،اچھا پہنیں اچھا کھائیں،عزیزواقارب اور دوست واحباب سے ملیں اور ان کی خوشی ومسرت کا بھی خیال رکھیں،اسی لئے اس دن روزہ رکھنے کو حرام قراردیا گیا ہے۔نہائیں دھوئیں اور جو کپڑے اچھے ہوں وہ پہنیں،خوشبو لگائیں عید کا دن کسی بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا کا م انجام دنیا عید کی روح کے خلاف ہے،آج ہم عید کو آزادی کا دن سمجھ کر ہر طرح کی خرافات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ رمضان میں جو نمازوں کی پابندی ہورہی تھی،بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ شیطان آزاد ہوچکا ہے عید کے نام پر ہر کام کیا جاتا ہے جس کی عام دنوں میں اجازت نہیں ہوتی چہ جائیکہ عید کے دن ہو اسکا خیال رکھا جائے۔ مولانا نے اس موقع پر دور حاضر کے بڑے فتنے ارتداد کی طرف اشارہ کر تے ہو ئے تو جہ مبذول کرا ئی اور فر ما ئی کہ امت مسلمہ کا اس وقت سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ظاہری دینی مظاہر میں اضافہ کے باوجود نئی نسل میں اسلام پر اعتماد روز بروز کم ہو تا جا رہا ہے اس کا بنیافی سبب بچپن میں اپنی اوالاد کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کرا نے میں والدین اور سر پر ستوں کی کو تا ہی ہے مسلم معاشرہ میں اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کر نے کے جنون اور اس کے معیاری اسکولوں اور کا لجز کے انتخاب نے سر پر ستوں کے ذہنون سے ایمان و شرک حلال و حرام اور جائز و نا جا ئز کے فرق کو مٹا دیا ہے نصابی ضروریات اور ثقا فتی پر و گراموں کے نام سے اپنی اولاد کو ایمان سوز حر کتوں سے رو کنے پر ان کا کمزور ایمان آج کا میاب نہیں ہو رہا ہے مخلوط تعلیم سے کل تک حیا سوز واقعات سامنے آ رہے تھے افسوس اب ایمان سوز اقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے امت مسلمہ کی وہ بہت بڑی تعداد جو ما دیت اور مغربی رہذیب سے متاثر ہر کر دینی تعلیم سے کو سوں دور ہے بلکہ اسلام پر اعتماد کی بڑھتی کمی کے ساتھ و ہ غیر شعوری طور پر الحاد و ارتداد کی طرف جا رہی ہے ان کو بنیادی طور پر دینی تعلیم سے آراستہ رکھنا ہمارا فریضہ ہے عیدکا دن خوشی کا دن ہوتا ہے،بسا اوقات خوشی میں آدمی آخرت سے غافل ہوجاتا اور زیارت قبور سے آخرت یاد آجاتی اس لئے اگر کوئی شخص عید کے دن قبرستان جائے تو مناسب ہے کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر اس کے التزام سے دوسروں کو شبہ ہو کہ یہ چیز لازمی اور ضروری ہے تونہ جانا چاہیئے یا کبھی چھوڑ دینا چاہیئے بہر حال ہر کام ہر معاملے میں شریعت کی پاسداری خیال رکھا جائے۔برادران اسلام کوعید کے موقعہ پر مبارکبا دکے ساتھ ساتھ یہ لمحہ ئ فکریہ بھی ہے کہ عید کی روح کو سمجھیں اسلام کے ماننے والوں کو حکم یہ ہے کہ وہ مسرت کا مظاہرہ کھیل کود،لہو لعب اور تفریحات کے ذریعے نہ کریں بلکہ مسرت کا اظہار اس انداز سے کریں کہ وہ خوشی ان کے ظاہر وباطن سے نمایا ں ہو سکے دلو ں کی گہرایؤں سے سرور کی خوشبوئیں اٹھیں،ذہن ودماغ کے گوشوں سے عطر بیز ہو ائیں پھیلیں اور بدن کا رگ وریشہ اور رواں رواں اظہار مسرت میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔
ایسی دائمی خوشی کے حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انسان جس پروردگار کا بندہ ہے اس کی بندگی کا اظہار کرے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے،پاک وصاف ستھرے کپڑے پہن کرعید گا ہ میں نماز عید ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور پھر مسلمانوں سے ملے دل کی کدورتوں کو دور کرے،بڑوں سے محبت سے ملے،چھوٹو ں پر شفقت کرے وغیرہ اور یہ ایسے کام سے اجتناب کرے جو رب کائنات کی ناراضگی کا سبب ہو۔ اس موقع پر ریاستی وزیر بی زیڈ ضمیر احمد خان صاحب نے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیان جی کا استقبال کیا اور ان کی گل پوشی کی اور ا ن کی سابقہ خدمات جو انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کی تھی اس کو سرا ہا گیا سدرامیا جی نے اپنے خطاب میں مسلما نوں کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور بتایا کہ ریاست کر نا ٹک پر امن ریاست ہے جہاں ہر مذہب والا اپنے اپنے مذہب پر سکون کے ساتھ عمل پیرا ہو تا ہے اس موقع پر دار العلوم فاروقیہ کولار کے مہتمم حضرت مولانا عبد الغفور باقوی وظیفہ یاب پولیس جے اے باوا سی ایم اے کے ذمہ داران میں سکریٹری الحاج ڈاکٹر ظہیر الدین نائب صدرجاوید پٹیل نائب سکریٹری حسین شریف جوائنٹ خازن ریاض احمد اشو کا بیڑی محمد حنیف عرف دادا ردستگیر خان اور بی زیڈ ضمیر احمد خان کے فر زند زید احمد خان سو شیل ورکر ایوب خان وغیرہ حاضر تھے.

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here