بنگلور:یکم جون 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)(محمد فرقان): اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم اور نبی کریم ﷺکے صدقہ و طفیل سے ہمیں رمضان المبارک کا عظیم مہینہ نصیب ہوا۔اب رمضان المبارک کے بس کچھ دن باقی رہ چکے ہیں۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے رمضان المبارک میں دنیاداری کو چھوڑ کر اسکی قدر کرتے ہوئے اپنی مغفرت کروالی۔اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں بھی دنیاداری اور گناہوں کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپنی مغفرت کرواسکے اور اب بھی وہ بدقسمت لوگ دنیاوی کاموں میں مشغول ہیں۔جبکہ رمضان المبارک کے آخری ایام چل رہے ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔شاہ ملت نے فرمایا کہ رمضان المبارک خیر و برکت، رحمت و مغفرت والا مہینہ ہے۔اس ماہ مبارک میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت بارش کی طرح برستی ہے۔مولانا نے فرمایا کہ جس شخص کا رمضان المبارک جیسا عظیم مہینہ غفلت و معاصی میں گزر جائے اور اسکی بداعمالیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اسکی مغفرت اور بخشش نہیں ہوسکی۔ایسے شخص کی تباہی و بربادی یقینی ہے۔کیونکہ کہ حدیث میں رمضان المبارک کی ناقدری کرنے والوں کیلئے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔مولانا نے ایک حدیث کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کو رمضان المبارک جیسا مہینہ ملا اور وہ اپنی مغفرت نہ کرواسکا تو ایسے شخص کیلئے حضرت جبریل علیہ السلام نے تباہی و بربادی کی بدعا کی اور آقا دوعالم جناب محمد الرسول اللہ ﷺنے اس پر آمین کہا۔مولانا نے فرمایا کہ اب بھی رمضان المبارک کے بچے کچے کچھ قیمتی اوقات باقی رہ گئے ہیں۔اب بھی وقت ہے! مسلمان اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اپنی مغفرت کروالیں۔ورنہ انکی تباہی و بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو موقع دیتے ہیں لیکن بندہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع ہونا ہی نہیں چاہتا۔مولانا نے فرمایا کہ عقلمند شخص وہ ہے جسے موقع ملے اور اپنا کام بنالے۔شاہ ملت نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے آخری لمحات چل رہیں ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ان لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے اسکی قدر کریں اور صادق دل سے توبہ کرتے ہوئے اپنی مغفرت کروالیں، نیزاپنا پورا وقت اللہ کو راضی کرنے میں لگا دیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ بڑا رحیم ہے!وہ اپنے بندوں کی مغفرت کیلئے محض ایک بہانہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے ایک اہم مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اکثر مساجد میں ستائیسویں شب کو تراویح میں قرآن مجید ختم کرنے کا معمول رہتا ہے۔لیکن ایک بات ہمیں ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ نماز تراویح اور اس میں قرآن مجیدختم کرنا دو الگ الگ سنتیں ہیں۔لہٰذا ہمارا نمازتراویح میں مکمل قرآن سننے سے ایک سنت ادا ہوجائے گی۔ اور دوسری سنت نماز ترویح عید الفطر کے چاند نظر آنے سے ختم ہوتی ہے،یعنیٰ نماز تراویح کو عید کا چاند نظر آنے سے ایک دن قبل تک ادا کرنی ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here