23 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)لوک سبھا الیکشن کے ابھی تک کے رجحانات کے مطابق بی جے پی پھر سے حکومت بناتی نظر آ رہی ہے۔ کانگریس کی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے۔ اپنے سب سے پرانے گڑھ امیٹھی میں بھی وہ ہارتی نظر آ رہی ہے۔ یوپی میں تو ایس پی۔ بی ایس پی گٹھ بندھن کی بھی بری صورت حال ہے۔ اس کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہاں کانگریس نے ایک طرح سے ووٹ کٹوا کا رول ادا کیا ہے۔ کانگریس پر ’24 اکبر روڈ‘ نامی کتاب لکھنے والے سینئر صحافی رشید قدوائی نے کہا ہے کہ راہل گاندھی کو سیاست چھوڑ دینی چاہئے۔ ان کے بس کا کچھ نہیں ہے۔قدوائی نے فیس بک لائیو میں نیوز ایڈیٹر روی دوبے سے بات چیت میں کہا ’’نہ صرف راہل گاندھی کی حکمت عملی ناکام ہو گئی بلکہ ان کی بہن پرینکا نے بھی تین بڑی غلطیاں کی ہیں۔ پہلا یہ کہ انہوں نے وارانسی سے لڑنے کی بات کی اور پھر وہاں سے نہیں لڑیں۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے کانگریس کو ووٹ کٹوا پارٹی کہا اور تیسری غلطی یہ کہ پوروانچل میں جب آپ کا کچھ تھا ہی نہیں تو وہاں کیوں گئیں۔ وہاں نہ تو کانگریس کی کوئی تنظیم تھی اور نہ ہی امیدوار تھے۔قدوائی نے کہا ’’مجھے لگتا ہے کہ اب شاید کانگریس راہل گاندھی کو پیچھے کر کے پرینکا گاندھی کو آگے لائے گی۔ کیونکہ ان کی بات چیت کا انداز بہتر ہے۔ انہوں نے کانگریسیوں میں اعتماد کا احساس پیدا کیا ہے۔ اس الیکشن میں کئی علاقائی پارٹیوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ اس لئے ان کی سیاسی زمین کانگریس کو گھیرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کانگریس کو زمین پر محنت کر کے خود کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہئے‘‘۔قدوائی نے کہا ’’ملک میں ایک شخص یعنی قدوائی کو لے کر عوام میں یقین اور اعتماد ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہی ان کے مسائل کا بیڑا پار لگا سکتے ہیں۔ یہ ووٹر کا عام رویہ نہیں ہے۔ جن تین ریاستوں میں کانگریس دسمبر 2018 کے الیکشن میں آئی تھی ان میں بھی بی جے پی آتی نظر آ رہی ہے‘‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here