عبید اللہ ناصر

22 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)آخری مرحلہ میں داخل ہوتے ہوتے وزیر اعظم نریندر مودی کی سانس لگتا ہے پھولنے لگی ہے کیونکہ ان کے jhunjhulahat نمایاں ہونے لگا ہے آنجھنانی وزیر اعظم راجیو گاندھی پر انہوں نے جو شرمناک حملہ کیا ہے اس سے انکی تقریروں کا گرتا معیار ہی نہیں بلکہ انکی جھنجھلاہٹ اور نا امیدی جھلک رہی ہے -سیاسی مبصرین اس بات تو متفق ہیں کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں ملیگی سیٹوں کی متوقع تعداد کو لے کر بھلے ہی ان میں اختلاف رہے لیکن بی جے پی کو ۰۵۱سے زیادہ سیٹیں دینے پر کوئی بھی سیاسی پنڈت تیار نہیں ہے- یہی نہیں بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے گزشتہ دنوں یہ کہ کر صورت حال مزید واضح کر دی کہ بی جے پی اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر سرکار بنایگی وزیر اعظم نریندرا مودیانے ممتا بنرجی اور مایاوتی کو لے کر جو نرم رویہ دکھایا ہے وہ خالی ازمقصد نہیں ہے حالانکہ دونوں مایاوتی اور ممتا بنرجی کا مودی کو لے کر رویہ پہلے کی ہی طرح سخت ا ا ور جارحانہ ہے لیکن سیا ست کا کھل کب کیا پانسہ پھینک دے کچھ کہا نہیں جا سکتا یہی وجہ ہے کہ سبھی پارٹیوں کی قیادت نے انتخابی مہم کے ساتھ ہی ساتھ نتائج کے بعد کے حالت کو لے کر بھی اپنی اپنی بساتیں بچھانا شروع کر دیا ہے یہ تو یقینی ہے کہ اگر بی جے پی کو دوسری پارٹیوں سے ایک سیٹ بھی زیادہ ملی تو رات دو بجے بھی صدر جمہوریہ مودی کی دوبارہ حلف برداری کرا کے انھیں لوک سبھا اکثریت ثابت کرنے کے لئے اچّھا وقفہ دے دینگے اس کے بعد پھر وفاداریاں خریدنے اور ضمیر فروخت کرنے کا کام شروع ہو جایگا ظاہر ہے اس کام کے لئے جوسرمایہ درکار جوگا اس میں بی جے پی کا کوئی دوسری پارٹی مقابلہ نہیں کر سکیگی نہ صرف نوٹوں کے بورے بلکہ سی بی آء انکم ٹیکس انفور سمنٹ
ڈائریکٹریٹ جیسے محکمہ بھی اپنے کام میں لگ جاینگے اور مودی جی کو اکثریت ثابت کرنے میں کوئی خاص دقت نہیں ہوگی -ایک امکان یہ بھی زہر کیا جا رہا ہے کہ حلیفوں کے کہنے پر بی جے پی مودی کی جگہ کسی نسبتا اعتدال پسند لیڈر کو بطور وزیر اعظم پیش کر سکتی ہے لیکن مودی جی کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے یہ خام خیالی لگتی ہے کیونکہ مودی جی با لکل ایسا نہیں ہونے دینگے وہ میں نہیں تو کوئی نہیں کے فارمولہ پر یقین رکھتے ہیں حالانکہ نتن گڈکری اور راجناتھ سنگھ کے نام بہت عرص سے آگے کئے جا رہے ہیں انتخاب کے بعد معلق لوک سبھا تشکیل ہونے کی صورت میں سبھی علاقائی پارٹیوں کے لیڈران اپنے لئے بھی موقعہ تلاش کر رہے ہیں ان میں سر فہرست ہیں بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو مایاوتی یہ درست ہے کہ اتر پردیش میں سماج وا دی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی شاندار کامیابی کی جانب گامزن ہیں اور جیسا کہ رجحان سے ظاہر ہے دونو پارٹیوں کا گٹھ جوڑ پچاس سے پچپن سیٹیں تک حاصل کر سکتا ہے اگر حسب وعدہ اکھلیش یادو اپنے والد ملایم سنگھ یادو کے دعوے کو خارج کرتے ہوئے مایاوتی کو وزیر اعظم کے طور پر قبول بھی کر لیں تو اول تو قوی امکان ہے کہ خود سماج وادی پارٹی میں ملایم کی حمایت میں پھوٹ پڑ سکتی ہے دوسرے جب تک دوسرے علاقائی لیڈران خاص کر ممتا بنرجی کے چندر شکھر راو اور دیگر لیڈران نہ رازی ہوں تب تک مایاوتی محض اتر پردیش کے ممبران کے بل پر وزیر اعظم نہیں بن سکیں گی اور یہ علاقائی لیڈران جو اکیلے مایاوتی سے زیادہ ممبران لے کر آ ینگے انھیں وزیر اعظم کیوں بن جانے دینگے اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بغیر کسی قومی پارٹی کانگریس یا بی جے پی کے کوئی ب حکومت بن ہی نہیں سکیگی اور کیا کوئی قومی پارٹی اب نبے کی دھائی والا سیاسی کھیل کھیلیگی جب چندر شیکھر دیوے گوڈا اور اندر کمار گجرال صاحبان کی چند چند ماہ کی سرکاریں بنی تھیں ملک نے اس سیاسی عدم استحکام کی کیا قیمت ادا کی تھی یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں اور خود قومی پارٹیوں خاص کر کانگریس کا کتنا سیاسی نقصان ہوا تھا یہ بھی صاف ہے اس لئے اب کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے یہ قدم نقصان دہ ہو سکتا ہے خاص کر بی جے پی اتر پردیش میں مایاوتی کی متعدد بار حمایت کرنے کا جو خمیازہ بھگت چکی ہے وہ بھولی نہیں ہوگی کانگریس بھی اتر پردیش بہار اور مرکا زمیں سمجھوتہ کر کے اپنا خاصہ نقصان کر چکی ہے اس لئے اب گاڑی گھوڑے کے آگے لگیگی اسکا امکان کم ہی دکھایی دیتا ہے حالانکہ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا اس لئے محض قیاس آراایوں پر کوئی نتیجہ نہیں اخذ کیا جا سکت-ا آثار تو یہ بتا رہے ہیں کہ اس بار دہلی کا راستہ جنوبی ہند سے بھی ہو کر آ سکتا ہے مرکزی حکومت کی تشکیل میں جنوب کی ریاستیں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اندھر ا پردیش کے وزیر ا علی چندرا بابو نائیڈو اور تلنگانہ کے وزیر ا علی چندر شیکھر راؤ خاص? سرگرم بھی ہو گئے ہیں چندر شیکھر راؤ علاقائی پارٹیوں پر مشتمل وفاقی مورچہ یا فیڈرل فرنٹ کی تشکیل پر زور دے رہے ہیں انکی کئی علاقائی منسبداروں سے گفتگو بھی ہو چکی ہے لیکن بات گھوم پھر کر پھر وہی آجاتی ہے کہ کوئی بھی علاقائی مسنبدار اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ وہ باقی سب کو اپنے زیر سایہ لے سکے یہ کیکڑوں کو ڈبہ میں بند کرنے جیسا کار دارد ہے کیونکہ اس لنکا میں کوئی بھی خود کو باون گز سے کم کا سمجھنے کو مشکل سے ہی تیار ہوگا اور اب وی پی سنگھ یا ہر کشن سنگھ سرجیت جیسی قد اور شخصیت بھی کوئی نہیں ہے جو سب کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کر سکے گھوم پھر کر اس علاقائی لیڈروں کو ایک قومی پارٹی کے پرچم تلے متحد ہونا پڑیگا یہ قومی پارٹی اور لیڈر کون ہوگا یہ ابھی پس پردہ ہی ہے جس پر پردہ اٹھنے سے قبل ایک بہترین سیاسی ڈرامہ دیکھنے کو ملیگا یہ یقینی ہے –عام انتخابات آخری مرحلہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ساتھ اب سیاسی پنڈتون سیاستدانوں اور عوام کی توجہ پولنگ سے منتقل ہو کر حکومت سازی کی طرف ہو گئی ہے کسے اکثریت ملیگی کون سرکار بنایگا اکثریت نہ ملنے کی صو رت میں کون پارٹی کس کے ساتھ چلی جائیگی وزیر اعظم کون ہوگا اب سیاسی گفتگو چا? خانوں کی گپ پازیوں اور کافی ہاؤس کی بیٹھکو ں اور ڈرائنگ روم کے تبادلہ خیالات کا یہی موضوع گفتگو ہے عام خیال یہی ہے کہ کسی پارٹی کو مکمل اکثریت نہیں ملیگی اور سیاست کی منڈی میں وفاداریاں بکینگی -عام خیال یہ بھی ہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں اور وہاں کے علاقائی منصبدار کنگ میکر کے کردار میں ہونگے خاص نظر تلنگانہ کے وزیر ا علی ا کے چندرشیکھر راو پر ہے جو کانگریس کے بدترین مخالف رھے ہیں خاص کر راہل گاندھی پر انکے سخت جملوں کو لوگ اب بھی بھولے نہیں ہیں دوسرے اہم کھلاڑی وائی اس آر کانگریس کے جگن ریڈی ہیں انہیں بھی کانگریس سے ذاتی پرخاش ہے تو کیا یہ دونو ں وقت پڑنے پر نریندر مودی کے مشکل کشا ہو سکتے ہیں یہ سوال سیاسی مبصرین سینئر صحافیوں اور اہل نظر کو چکراے ہے کہا جاتا ہے کہ تلنگانہ اسمبلی کا الیکشن قبل از وقت کرا کے چندرا شیکھر راؤ نے مودی کی حمایت کی صورت میں ریاست کے?? فیصد سے زا ید مسلم ووٹروں اور اپنے خاص حلیف اسد الدین اویسی کی ناراضگی کے نقصان کو پانچ سال کے لئے ٹال دیا ہے جس طرح کئی برسون قبل چندرا بابو نائیڈو نے اچانکاٹل جی کی حمایت کر کے اسد الدین ا ویسی کے مرحوم والد کو دھوکہ دے کر انھیں چیں بجبیں کر دیا تھا ہو سکتا ہے نئی لوک سبھا میں تاریخ پھر خود کو دوہرا ے جگن ریڈی کو بھی کانگریس سے بدلا چکانا ہے کیونکہ انکے والد کے ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت کے بعد کانگریس ا انھیں متحد اندھرا پردیش کا وزیر ا علی نہیں بنایا تھا جس سے ناراض ہو کر انہون نے اپن الگ پارٹی بنا لی تھی اگر چہ وہ اندھرا یا تلنگانہ میں حکومت تو نہیں بنا پاے لیکن دونوں ریاستون میں انکی مضبوط سیاسی گرفت ہے -ایسا لگتا ہے ملک میں ایک بار پھر نبے کو دہائی کی سیاسی تاریخ دوہرا ی جایگی اور علاقائی لیڈران ہی ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرینگے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here