حفیظ نعمانی

21 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا ملک ہندوستان دو مہینے سے انتخابی بخار میں مبتلا تھا۔ ہندوستان کا یہ پہلا الیکشن نہیں تھا اس سے پہلے اور 1952 ء کے بعد ہر پانچ سال کے بعد الیکشن ہوا ہے اور اپنی کچھ یادیں چھوڑ گیا ہے۔ لیکن 2019 ء کا الیکشن جس طرح لڑا گیا یہ پچاس برس کے بعد بھی یاد رہے گا۔ ابتدا میں الیکشن کمیشن ہوا تو کرتا تھا لیکن وہ اپنا کام کرتا تھا اور پارٹیاں اپنا۔ گذشتہ 30 برس سے چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کے عمل کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ایسی تبدیلیاں کیں کہ الیکشن کی شکل ہی بدل گئی۔کہا یہ جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن خودمختار ادارہ ہے وہ حکومت کا پابند نہیں ہے۔ 2014 ء میں یہ خود مختار اس لئے تھا کہ وزیراعظم یا حکومت اس کے معاملات میں دخل نہیں دیتی تھی لیکن 2014 ء کے نتیجہ میں جو وزیراعظم بنے ان کی حکومت میں خود مختاری نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ نام کے وزیراعظم ہیں اور ان کی کابینہ بھی نام کی ہے جس کی حیثیت نورتن کی بھی نہیں ہے وہ راجہ ہیں اور ایسے راجہ جو ہر ماتحت کو غلام سے زیادہ درجہ نہیں دیتے۔ گذرے ہوئے پانچ سال میں چیف الیکشن کمشنر کئی آئے اور گئے لیکن ہر کسی نے وہ کیا جس کا حکم دیا گیا ایک کمشنر نے تو حد ہی کردی کہ ریٹائر ہوکر گھر جانے والے دن میں عام آدمی پارٹی کے 20 ممبران اسمبلی کو ”آفس آف پرافٹ“ کے الزام میں برطرف کردیا اور حکم کی تعمیل کرکے صدر صاحب کو بھی بھیج دیا اور چلے گئے۔ آگے کی کہانی سب کو یاد ہوگی کہ ہائی کورٹ سے خود بھی ذلیل ہوئے صدر محترم کی بھی کرکری ہوئی اور راجہ صاحب بھی ذلیل ہوگئے۔موجودہ وزیراعظم کا ریکارڈ سامنے ہے وہ گجرات میں بارہ برس وزیراعلیٰ بن کر رہے اور انہوں نے جیسے حکومت کی اس کی کوئی مثال ملک میں نہیں مل سکتی۔ 2014 ء کے الیکشن کیلئے انہوں نے سنیل اروڑہ نام کے ایک ریٹائرڈ افسر کو چیف الیکشن کمشنر بنا دیا۔ ان کے انداز سے پہلے ہی دن معلوم ہوگیا تھا کہ وزیر اعظم کے لئے خط غلامی لکھ کر آئے ہیں۔ سب سے پہلے ان کے سامنے تمام مخالف پارٹیوں نے یہ مطالبہ رکھا کہ الیکشن مشین سے نہ کرایا جائے۔ وہ دلیلیں سب کو یاد ہوں گی۔ جو دی گئیں اور جن کا مظاہرہ الیکشن کے دوران ہوا۔ لیکن انہیں شاید ان کے راجہ نے پڑھ کر لیا ہوگا کہ زمین آسمان ایک کردینا مگر الیکشن مشین سے ہی کرانا اور وہ حکومت سے زیادہ بڑے وکیل بن گئے۔ ایک حکم ان کو اور دیا گیا تھا کہ راجہ مودی اور ان کے دم کے ساتھ رہنے والے امت شاہ اور تیسرے یوگی ان کی طرف نہ دیکھنا کہ یہ کیا کررہے ہیں؟اروڑہ جی نے دو مہینے تک ایسی تابعداری کی کہ پوری دنیا دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اگر اس کی تفصیل لکھیں کہ پورے ملک میں کہاں کیا کیا تو اخبار بھر جائے گا بس یہ دیکھئے کہ انہوں نے بنگال میں کیا ہونے دیا؟ سنیل اروڑہ کو یاد ہوگا کہ برسوں سارا الیکشن پوسٹر، جھنڈوں، بینر اور جھنڈیوں کے ذریعہ ہوتا تھا اور آج یہ حال ہے کہ نہ پوسٹر ہے نہ جھنڈا ہے نہ بینر ہے اور نہ گلی گلی لاؤڈ اسپیکر۔ ظاہر ہے کہ ایک الیکشن کمشنر نے ان سب کو بند کردیا۔ اب ایک وبا چلی ہے جسے روڈشو کہا جاتا ہے ہم نہیں جانتے کہ یہ جو کوئی الیکشن لڑرہا ہے اسے یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ مصروف شہر کی ان سڑکوں پر جہاں کروڑوں کا کاروبار ہوتا ہے اسے اپنے ڈھول تاشوں جلوس نعروں ٹرکوں اور کاروں کے ذریعے ناکارہ بنا دے؟ اور ایک ہی شہر میں ہر دن ریلی اور ہر دن روڈشو کرکے پورے شہر کی فضا کو زہرآلود کردے؟ کیا کوئی الیکشن کمشنر اسے نظر انداز کرسکتا ہے کہ مذہبی دیویوں اور دیوتاؤں کی تصویریں لے کر روڈشو کرے؟ روڈشو اصل میں اُمیدوار کا چہرہ دکھانے یا اس کی حمایت میں اس کی پارٹی کے کسی بڑے لیڈر کی حمایت کا ثبوت دینے کیلئے اس کو سامنے لاکر کیا جاتا ہے۔ لیکن امت شاہ کو سو خون معاف ہیں اس لئے انہوں نے یہ سوچا کہ انہیں دیکھ کر تو کوئی ووٹ دے گا نہیں دیوی دیوتاؤں کے پوسٹر دکھاکر ان کے لئے ووٹ مانگو۔19 مئی کی آخری پولنگ کے بعد ایگزٹ پول کی وبا آئی اور ان کے ذریعہ جو سامنے آیا اس سے اندازہ ہوگیا کہ راجہ مودی کیوں مشین کی ضد کررہے تھے اور وہ جی حضور کہنے والے کو کیوں سبق پڑھاکر لائے تھے کہ ووٹنگ مشین کے ذریعہ ہی ہوگی۔ اس مرتبہ جو تجربہ ہوا ہے اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کا تقرر صرف وزیراعظم کے ذریعہ نہیں بلکہ وزیراعظم لیڈر حزب مخالف اور سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے ذریعہ ہونا چاہئے اور اسے ہی نکالنے کا اختیار بھی ان کے ہاتھ میں ہونا چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرا کوئی مودی جی سے زیادہ بڑا راجہ ہو اور وہ سنیل اروڑہ سے زیادہ وفادار اور تابعدار لے آئے اور الیکشن کا مقصد ہی ختم کردے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here