کرناٹک:21 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا ہے کہ وہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک قانون لانا چاہتے ہیں کیونکہ میڈیا اپنے طنزیہ پروگراموں میں رہنماؤں کی خراب امیج پیش کرتا ہے۔کمارسوامی نے ان رپورٹوں پر بھی اعتراض کیا ہے جس میں کرناٹک ریاست میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے اتحاد کو لیکر الگ الگ طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، گزشتہ اتوار کو میسور میں صحافی پرسنا کمار کے ذریعے لکھی گئی دو کتابوں کے اجرا کے دوران کمارسوامی نے کہا،’آپ ہماری خراب امیج دکھاکر کس کی مدد کرنا چاہتے ہیں؟ میں اس پر کنٹرول کے لئے ایک قانون لانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔طنزکے نام پر یہ سیاستدانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ سیاستدانوں کیبارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ سیاستدانوں کو کیوں نشانہ بناتے ہیں؟ بنا کسی بنیاد کے سیاستدانوں کو خراب امیج میں پیش کرنے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے؟‘میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا،‘جس طرح سے نیوز چینل کام کر رہے ہیں، اس سے میں اصل میں غم زدہ ہوں۔ میں ان دنوں ان سے دور رہتا ہوں۔ وہ جو کرنا چاہتے ہیں، کرنے دیجئے… چینلوں کو قیاس لگانے والی کہانیوں کے بجائے تخلیقی خبر نشر کرنے پر غورکرنا چاہیے۔‘خاص بات یہ ہے کہ کمارسوامی خود کنڑ نیوز چینل’کستوری نیوز’کے مالک ہیں، جو ان کی بیوی اور ایم ایل اے انیتا کمارسوامی کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔کرناٹک میں جے ڈی ایس-کانگریس اتحاد کا مستقبل گزشتہ سال مئی میں اقتدار میں آنے کے بعد سے لگاتار قیاس آرائیوں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ میڈیا نے کئی مواقع پر یہ رپورٹ کی کہ حکومت گر سکتی ہے، حالانکہ کمارسوامی اور اتحاد کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ رپورٹ‘ محض قیاس آرائیاں’ہیں۔گزشتہ جنوری مہینے میں جب یہ خبر آئی تھی کہ اتحاد کے کئی ایم ایل اے بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں، تو اس وقت کمارسوامی نے کہا تھا،‘ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ٹی وی پر نیوز چینلوں نے تفریحی چینلوں کی جگہ لے لیا ہے اور نیوز کو تفریحی چینلوں پر آنے والے سلسلہ وار ایپی سوڈ کی طرح چلا رہے ہیں۔ میں یہ سب دیکھ رہا ہوں اور آپ کیتخیل کا مزہ لے رہا ہوں۔‘لوک سبھا انتخابات کے لئے کمارسوامی کی فیملی کے تین ممبروں کو میدان میں اتارا گیا تھا۔ مقامی چینلوں کے لئے یہ تینوں امیدوار تنقید اورطنز کا پسندیدہ موضوع رہے ہیں۔(بشکریہ دی وائر)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here