18 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’’جس شخص نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا تو اس شخص کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا، اور روزہ دارکے اپنے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔‘‘ (الترمذی، حدیث نمبر 807)ماہِ رمضان کا ایک عشرہ گزر چکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درج بالا حدیث پر عمل کرتے ہوئے نہ جانے کتنے مسلمانوں نے ایسے روزہ داروں کو افطار کروایا ہوگا جو ان کیرشتہ دار، دوست یا پڑوسی ہیں۔ لیکن کیا آپ ان لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جنھوں نے غریب، ضرورت مند اور جھگی جھونپڑی میں مقیم ایسے لوگوں کو افطار کروایا ہو جو روزہ تو رکھتے ہیں لیکن افطار کے لیے شاید ان کے پاس ایک کھجور بھی نہیں ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ بہت کم ہی لوگ ایسے ہیں جو معاشی طور پر بدحال لوگوں کی طرف اپنا نظر کرم کرتے ہیں۔ بیشتر افراد افطار کی اپنی دعوتوں میں مشہور و معروف ہستیوں، دفتر کے دوستوں اور ایسے اشخاص کو مدعو کرتے ہیں جنھیں وہ ’خوش‘ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسے ماحول میں کچھ ایسے لوگ اور ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو خاموشی کے ساتھ خدمت خلق بھی کر رہی ہیں اور غریب و مسکین کو افطار کی نعمت سے بھی نواز رہی ہیں۔ ایسی ہی تنظیموں میں سے ایک تنظیم دہلی کی ’زہرہ فاؤنڈیشن‘ ہے۔گزشتہ سالوں کی طرح ’زہرہ فاؤنڈیشن‘ نے اس بار بھی کچھ غریب گھروں اور بدحالی کے عالم میں بھی روزہ رکھنے والے سینکڑوں افراد کو اپنی اس فہرست میں شامل کیا ہے جسے پورے مہینے وہ ’افطار پیکٹ‘ تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رمضان کے پہلے عشرے میں وہ کم و بیش 2500 افطار پیکٹ ضرورت مندوں کے درمیان تقسیم کر چکی ہے اور اس طرح دیکھا جائے تو روزانہ کا اوسط تقریباً 250 پیکٹ کا ہے۔ ’زہرہ فاؤنڈیشن‘ کی ٹیم سے اس وقت 14 لوگ براہ راست منسلک ہیں اور سبھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم ہیں۔ یہ طلباء کوئی بہت بڑی ہستی نہیں ہیں اور نہ ہی بہت امیر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے انھوں نے اپنے دوست و احباب کی مدد سے نیکی کا یہ عمل گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی جاری رکھا ہے۔ فاؤنڈیشن کے صدر محمد سیف بتاتے ہیں کہ ’’اس بار ہم نے بٹلہ ہاؤس اور شرم وِہار کو اپنا ہدف بنایا اور یہاں نچلے طبقہ کے غریبوں کو افطار فراہم کرنے کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ الحمدللہ 10 رمضان گزر گئے ہیں اور دونوں ہی جگہ پر افطار پیکٹ روزانہ تقسیم کیے گئے۔ لیکن افسوس یہ دیکھ کر ہوتا ہے کہ کئی بار معاشی مسائل کی وجہ سے ہم سبھی کو افطار پیکٹ نہیں دے پاتے۔‘‘دراصل زہرہ فاؤنڈیشن نے 300 سے زائد غریب روزہ داروں کی فہرست تیار کی ہے لیکن اپنے دوست و احباب کے ذریعہ دیے گئے عطیہ اور فاؤنڈیشن کے اراکین کی کوششوں کے بعد کئی دن وہ 300 اور اس سے زائد افطار پیکٹ تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن کچھ دن 150 سے 200 پیکٹ ہی تیار ہو پائے۔ محمد سیف ’قومی آواز‘ کو بتاتے ہیں کہ ’’ہماری ٹیم کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ افطار پیکٹ تقسیم ہوں، لیکن مہنگائی اور معاشی مسائل کے سبب روزانہ 300 یا اس سے زائد پیکٹ نہیں بن پاتے۔‘‘ کم پیکٹ بننے کی صورت میں ان روزہ داروں کو فائدہ پہنچتا ہے جو پہلے آ کر لائن میں لگتے ہیں۔ محمد سیف کہتے ہیں کہ ’’جب کچھ لوگوں کو بغیر پیکٹ واپس لوٹتے ہوئے دیکھتا ہوں تو ان کے چہرے پر موجود مایوسی دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ باقی بچے دنوں میں زیادہ سے زیادہ غریب لوگوں کو افطاری فراہم کی جا سکے۔‘‘زہرہ فاؤنڈیشن نے اس سال ایک مدرسہ کو بھی منتخب کیا ہے جہاں کے بچوں کو افطاری پہنچائی جاتی ہے۔ یہ مدرسہ اوکھلا کے جوہری فارم علاقہ میں ہے جس کا نام ہے مدرسہ عربیہ باب العلوم۔ اس مدرسہ کے ناظم مولانا زبیر سے ’قومی آواز‘ نے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ ’’مدرسہ مالی اعتبار سے بہت مضبوط نہیں ہے اس لیے یہاں تعلیم حاصل کر رہے بچوں کے لیے افطار کا انتظام محال ہو رہا تھا۔ الحمدللہ یہ ذمہ داری زہرہ فاؤنڈیشن نے اٹھائی اور اب روزانہ افطار کے 25 پیکٹ مہیا کیے جا رہے ہیں۔‘‘ مولانا زبیر نے مزید بتایا کہ ’’مدرسہ میں کل 40 بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن رمضان کی چھٹیوں میں کچھ بچے گھر چلے گئے ہیں اور اس وقت 19 بچے یہاں ہیں۔ 25 پیکٹ جو مدرسے میں پہنچتے ہیں ان میں سے بچوں کے علاوہ کچھ مدرسین اور باورچی کو دیے جاتے ہیں۔‘‘ مدرسہ عربیہ باب العلوم کے بچے زہرہ فاؤنڈیشن کی اس کوشش سے تو خوش ہیں ہی، مولانا زبیر بھی محمد سیف اور ان کی ٹیم سے جڑے لوگوں کو دعائیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بچوں کا یہ عمل قابل ستائش اور مثالی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here