18 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)وزیر اعظم نریندر مودی نے ویسے تو مرکز میں اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں کسی پریس کانفرنس کا سامنا نہیں کیا لیکن عام انتخابات کی انتخابی مہم کے آخری دن وہ پارٹی صدر امت شاہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے پارٹ دفتر پہنچے لیکن وہاں پہنچے صحافی حضرات کو اس وقت انتہائی مایوسی ہوئی جب وزیر اعظم اس 56 منٹ کی پریس کانفرنس میں مورتی بنے بیٹھے رہے اور 19 میں سے ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔وزیر اعظم نے انتخابی مہم کے دوران تقریبا ہر چینل کو انٹرویو دئے اور ایک انٹر ویو تو انہوں نے فلم اداکار اکشے کمار کو بھی دیا لیکن ان تمام انٹرویو پر سوال کھڑے ہوئے اور ان پر الزام لگا کہ ان انٹرویو میں سوال پہلے سے طے تھے۔جمعہ کو جب پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے گئے تو انہوں نے بس نجومی کی طرح یہ پیشن گوئی ضرور کی کہ عام انتخابات میں بی جے پی کو کتنی سیٹیں ملنے والی ہیں ’ہم نے پانچ سال حکومت چلائی ہے اور آنے والے پانچ سال پھر اکثریت ک حکومت چلائیں گے‘‘۔پریس کانفرنس میں پارٹی صدر نے مودی کی موجودگی میں مودی حکومت کی حصولیابیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اس کے بعد سوالوں کے جواب دئے لیکن اس دوران وزیر اعظم بالکل ایسے خاموش بیٹھے رہے جیسے مایاوتی کی پریس کانفرنس میں ستیش مشرا خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوا جیسے امت شاہ نے زبر دستی انہیں اپنے ساتھ بٹھا یا ہو۔اس پریس کانفرنس میں جس طرح کے تاثرات ہر سوال پر وزیر اعظم کے چہرے پر دیکھنے کو ملے اس سے ایک بات کا تواندازہ صاف لگایا جا سکتا ہے کہ عام انتخابات میں بی جے پی کے لئے سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے چہرے سے صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ انہیں شکست کے بادل منڈراتے نظر آ رہے ہیں اور ان کے بیان کے مطابق بس ان بادلوں کی وجہ سے رڈار پر ان کو کچھ نظر نہیں آ رہا۔سوشل میڈیا پر اس پریس کانفرنس کا زبردست مزاق اڑا یا جا رہا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ ’’مبارکباد مودی جی، شاندار پریس کانفرنس۔ پریس کانفرنس میں شرکت ہی آدھی لڑائی کے برابر ہے۔امت شاہ اگلی بار کچھ سوالوں کے جواب دینے دیں گے۔ بہت بڑھیا!‘‘کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹویٹ کر کے کہا ہے ’’مودی جی کی پہلی اور پریس کانفرنس امت شاہ کی بیساکھی بنا۔ اس پریس کانفرنس میں ایسا لگ رہا تھا کہ وزیر اعظم مودی صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیں گے لیکن ہوا کیا کھودا پہاڑ نکلی چوہیا۔ اس ایک گھنٹے کی تقریر میں صحافیوں کے چہرے پر تھکان،صحافت پر بہت ساری تقریر لیکن سوال ایک بھی نہیں لیا اور نہ ہی ایک جواب دیا‘‘

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here