17 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)جمعرات کو یمنی باغیوں کی جانب سے مبینہ ڈرون حملوں میں تیل کی ایک اہم پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سعودی عرب کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ان حملوں کی وجہ سے خلیج فارس میں کشیدگی کی نئی لہر نے جنم لیا ہے اور امریکا کو ایران پر سرجیکل حملے کرنا چاہیئیں۔یہ بات اہم ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے امریکا نے اپنے جنگی بحری جہاز اور بمبار طیارے خطے میں پہنچا دیے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی مفادات کو خطرات لاحق ہوئے تو امریکا کارروائی کرے گا۔اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے ساحلوں کے قریب چار تیل بردار بحری جہازوں پر ہوئے حملوں اور اب ایک سعودی پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملے، جس کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی ہے، کی وجہ سے یہ کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ امریکا کا موقف ہے کہ سخت ترین پابندیوں کی وجہ سے تہران حکومت کو مجبور کیا جا سکے گا کہ وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے ایک نئے معاہدے کی جانب بڑھے۔سعودی عرب کے نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جمعرات کے روز اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ دو سعودی پمپنگ اسٹیشنوں پر ہوئے ڈرون حملے یہ ثابت کرتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو اصل میں ایرانی حکومت اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ایک سعودی اخبار نے اپنے ایک اداریے میں امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں امریکا کو ایران پر ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کرنا چاہیئیں۔ دوسری جانب امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائل فراہم کر رہا ہے۔ ان الزامات کی تہران حکومت نے تردید کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here