سری لنکا:15 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے شمال میں مسلمانوں کے زیر انتظام کارخانے کو نذر آتش کردیا گیا۔سری لنکا میں مسلمانوں پر حملوں میں تیزی آگئی، کولمبو و دیگر اضلاع میں مساجد اور مسلمانوں کی املاک جلا دی گئیں، ایک مسلمان شہید ہوگیا، حکومت نے ملک بھر میں رات کا کرفیو نافذ کردیا، سوشل میڈیا پر پابندی لگادی گئی۔سری لنکا میں مسلم کُش فسادات شدت اختیار کرتے جارہے ہیں، مساجد پر بموں سے حملے، توڑ پھوڑ اور املاک کوآگ لگا دی گئی، پولیس اور فوج خاموش تماشہ دیکھتی رہی۔سوموار کے پر تشدد واقعات میں ایک مسلمان شخص کو چاقو مار کر ہلاک کردیا گيا جبکہ مسلمانوں کی املاک اور دکانوں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ مساجد کی بے حرمتی کی گئی۔پولیس نے اس معاملے میں 60 افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں بودھ مذہب کے انتہائی دائيں بازو کے گروپ کے رہنما بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے امن قائم رکھنے اور ‘نفرت کو مسترد کرنے’ کی اپیل کی ہے۔پولیس نے کہا شمال مغربی صوبے میں جہاں خطرناک قسم کا تشدد پھوٹ پڑا تھا منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے کے بعد کرفیو نا‌فذ کر دیا گیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہاں دیر تک کرفیو قائم رہے گا۔گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوائیوں نے 9 مساجد شہید کردیں، 30 دیہات میں مسلمانوں کی دکانیں اور کاروبار تباہ کردیئے گئے، گھروں میں گھس کر مسلمان خاندانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پتھراؤ اور فائرنگ سے ایک مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔سری لنکا کے مشرقی شہر چلوا سے شروع ہونیوالے مسلم کُش فسادات نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے شمالی کولمبو کو لپیٹ میں لے لیا، مسلمانوں نے پولیس اسٹیشنز میں پناہ لی، شہر میں مکمل اور ملک بھر میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا جبکہ حکومت نے سوشل میڈیا پر بھی پابندی عائد کردی ہے.

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here