وارانسی:15 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)(رضوانہ تبسم) پانچ سال پہلے جب نریندر مودی وارانسی لوک سبھا سیٹ سے انتخاب لڑنے کے لئے آئے تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کاشی کو کیوٹو بنا دیں‌گے۔ وارانسی والوں نے ان وعدوں پر نریندر مودی کو جتایا ہی نہیں، بلکہ لاکھوں ووٹ کے فرق سے جتایا۔اب پانچ سال بیت چکے ہیں اور نریندر مودی دوسری بار وارانسی سے انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں، کیا سوچتی ہے وارانسی کی عوام مودی حکومت اور بنارس میں ہوئی تبدیلیوں کے بارے میں؟وارانسی کے سب سے مشہور علاقوں میں سے ایک ملدہیا کے ہارڈویئر کاروباری رتن لال کا کہنا ہے،’جب سے مودی حکومت آئی ہے تب سے کام ہونا شروع ہوا ہے۔ بنارس بدل رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم کسی بڑے شہر میں آ گئے ہیں۔ مودی حکومت کے آنے کے بعد شہر میں کتنی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔‘رتن لال آگے کہتے ہیں،’کوئی بھی چیز فوراً تو ہوتی نہیں ہے، جب ہم کوئی عمارت بناتے ہیں اس عمارت کو ہمیں جتنا مضبوط بنانا ہوتا ہے اس کو جتنی اونچائی پر بنانا ہوتا ہے اتنا ہی گہرائی بھی بناتے ہیں۔مودی حکومت بھی کام کر رہی ہے۔ سب کچھ اچانک تو نہیں دکھنے لگے‌گا۔ آج کل ہر چھوٹے سے چھوٹے لوگ کے ہاتھ میں موبائل ہو گیا ہے۔ رکشہ چلانے والے بھی آج کل اسمارٹ فون اور موبائل کا استعمال کر رہے ہیں۔ لوگ سمجھدار ہو رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ یہ سبھی لوگ پڑھے لکھے ہیں لیکن اب لوگ پرانے نہیں رہنا چاہتے۔ لوگ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ یہ سب مودی جی کی ہی دین ہے کیونکہ مودی جی نے کہا ہے کہ‘ تکنک کا زمانہ‘ ہے۔‘رتن لال پائپ بیلٹ(مشین کی بیلٹ)اور لوہے کے سامان کے بھی فروخت کرتے ہیں، سامان کی سپلائی نہ صرف بنارس بلکہ آس پاس کے ضلع میں بھی ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں،’مودی حکومت نے جی ایس ٹی شروع کیا ہے سب کام کاغذ سے ہو رہا ہے۔ غریب کو کوئی دقت نہیں ہے، بڑے کاروباری بھی تمام کام کو جی ایس ٹی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اب میں خودہی 1فیصدی جی ایس ٹی دے رہا ہوں۔ جہاں تک بات ہے منشور کی تو، جو بھی حکومت آتی ہے صرف باتیں کرتی ہیں۔ منشور تو دکھا دیتی ہے لیکن اس پر کوئی بھی کام نہیں کرتا ہے اس سے پہلے بھی کوئی حکومت منشور کے حساب سے کام نہیں کیا ہے، مودی حکومت بھی نہیں کئے۔ اس سے کیا ہوتا ہے، کچھ نہیں۔ پھر بھی مودی جی بنارس میں بہت کام کرا دئے۔‘بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پچھلے منشور میں رام مندر تعمیر کی بات کی تھی، وہیں نریندر مودی نے کاشی کو کیوٹو بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس بارے میں بات کرنے پر وارانسی کے ہریش چندر ڈگری کالج کے طالبعلم اور وکیل امت سنگھ کہتے ہیں کہ بی جے پی نے لگاتار کام کیا ہے۔ بس اس کو تھوڑا وقت چاہیے۔ بنارس کی سڑکیں، یہاں کی حالت میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے،‘مودی جی کو آئے صرف پانچ سال ہوئے ہیں۔ اتنیمیں کیا ہو پائے‌گا؟‘شہر کی موجودہ حالت کے بارے میں وارانسی کے مہاتما گاندھی کاشی ودیاپیٹھ کے اسٹوڈنٹ یونین کے جنرل سکریٹری دگونت پانڈے کہتے ہیں،’پانچ سال بیت گیا لیکن بنارس کی کوئی سڑک ابھی تک صحیح سے نہیں بن پائی ہے۔ ہر سڑک پر کھدائی کا کام لگا ہوا ہے۔ سگرا، مہمورگنج، لنکا سبھی روڈ پر ہر چھ مہینے میں کھدائی کا کام لگ جاتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں،’ابھی چھ مہینے پہلے میرے گھر کے پاس (مہمورگنج) میں کھدائی کا کام ہوا تھا، اب پھر وہیں پر کھدائی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ آخر ایسا کام کیوں ہو رہا ہے کہ بار بار ایک ہی کام کرنا پڑ رہا ہے؟‘وہ روزگار کی کمی پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے،‘ہرسال بچے پڑھائی کرکے نکل رہے ہیں لیکن یہ حکومت روزگار دی نہیں ہے۔ بچے آخر کیا کریں، کہاں جائیں؟ اس حکومت میں بچے بیروزگار ہو رہے ہیں۔آخر یہ (حکومت) کیسے کام کر رہی ہیں۔ کچھ سرکاری کمپنیوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا جا رہا ہے تو سرکاری نوکری کیسے لگے‌گی؟‘آزادانہ طورپر سماجی کام کرنے والے اور آرجی لائن بلاک کے سابق حلقہ پنچایت ممبر راجکمار گپتا کہتے ہیں،’جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے تب سے سڑکوں کی حالت کافی خراب ہو گئی ہے۔‘راجاتالاب کے رہنے والے تقریباً32 سال کے راجکمار یہیں کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں،’جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے یہاں کی جتنی بھی اچھی-خاصی سڑکیں تھیں ان کو بھی کھود‌کر گہرا کر دیا گیا ہے۔ سڑک پر نالے بنائے جا رہے ہیں، جو کہ چھ مہینے سے ادھورے پڑے ہیں۔ نالا اور سڑک کے گڑھوں میں پانی سڑ‌کر بج بجا رہا ہے۔لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ 24 گھنٹے حادثے کا خدشہ بنا رہتا ہے، لوگ گرتے-پڑتے اس سڑک سے گزرتے ہیں۔ اس سڑک پر کئی حادثے بھی ہو چکے ہیں۔ ٹرک کے پہیے دھنسنے سے لیکر ایک خاتون کی موت تک ہو چکی ہے۔‘واضح ہو کہ یہ سڑک پی ایم مودی کی گود لئے گاؤں جیاپور جانے کے لئے اہم سڑک ہے۔ یہی سڑک مقامی سیواپری ایم ایل اے نیل رتن پٹیل نیلو کے گاؤں شہنشاہ پور کو جاتی ہے۔ایک سال پہلے اسی سڑک سے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پنچکوشی سفر کر چکے ہیں، وہیں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے‘رن فار یونٹی’پروگرام کے دوران یہیں سے پیدل سفر کیا تھا۔سی ایم کے یہاں آنے سے ایک دن پہلے اس سڑک کو پوری طرح چمکا دیا گیا تھا لیکن سڑک دوسرے دن ہی اکھڑ گئی، جس کے بعد مقامی لوگوں نے اس کو بنانے کے لئے کئی بار مظاہرہ کیا۔ایس ڈی ایم راجاتالاب، ڈی ایم وارانسی، پی ایم او وارانسی (روندرپوری)، جن سنوائی کیندر پر شکایت کرنے کے علاوہ، وزیراعلیٰ یوگی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو میل اور ٹوئٹ کیا گیا۔ اس کے بعد بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو ہائی کورٹ میں مقدمہ کر دیا گیا۔راج کمار گپتا آگے بتاتے ہیں،’مودی حکومت کے آنے کے بعد صورت حال میں اصلاح تو نہیں ہوئی لیکن حالات اور بدتر ضرور ہوئے ہیں۔ سیور، پانی، گندگی، تالاب سبھی جگہ آلودگی ہی آلودگی ہے۔ یہ حکومت والے صرف وعدے کرتے ہیں، جملے بولتے ہیں۔وکاس کے نام پر آئے تھے،وکاس کے نام پر کچھ نہیں۔ مودی حکومت ہر مورچے پر ناکام ہے۔ اتنی سارے اعلانات اور جو وعدے کئے گئے، سب کھوکھلے ہو گئے ہیں۔‘کاشی وشوناتھ مندر کے لئے بن رہے کاریڈور کو لیکر وہاں کے مقامی باشندہ اور پوجا پاٹھ کے سامان کی دکان لگانے والے تقریباً35 سال کے رمیش گپتا کی باتوں اور آنکھوں میں ایک الگ طرح کی مخالفت نظر آ رہی ہے۔رمیش گپتا پہلے کاشی وشوناتھ مندر کے پاس رہتے تھے لیکن کاریڈور بنانے کے لئے توڑے گئے مکانوں میں ایک گھر ان کا بھی تھا۔ اب وہ فیملی کے ساتھ سارناتھ میں رہ رہے ہیں، لیکن دکان یہیں لگاتے ہیں۔کیا ان کو دکان لگانے کی اجازت ہے، کب تک یہاں دکان لگا سکتے ہیں؟ اس سوال پر وہ خاموش رہتے ہیں۔ رمیش گپتا کا کہنا ہے،’ہم لوگ کئی نسلوں سے بی جے پی کو سپورٹ کرتے آئے ہیں۔لیکن اب بی جے پی نے بغیر سوچے ہم لوگوں کو بیروزگار کر دیا۔ ہمارے گھر کا معاوضہ مل گیا ہے لیکن ہم تو بیروزگار ہو گئے۔‘قابل ذکر ہے کہ کاشی وشوناتھ مندر کے پاس کاریڈور بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو کاشی وشوناتھ کی زیارت کرنے میں آسانی ہو۔تقریباً 40 ہزار مربع میٹر رقبے میں بن رہے اس کاریڈور پر 600 کروڑ روپے کی لاگت آ رہی ہے۔ایک طرف جہاں پرانے مندر اور گھر توڑنے پر لوگوں نے ناراضگی ظاہر کی ہے، وہیں کچھ لوگ اس کی حمایت میں بھی دکھتے ہیں۔ وارانسی میں پرچون کے سب سے مشہور گولہ بازار میں دکان لگانے والے 25 سال کے شوم سنگھ کہتے ہیں،’کاشی وشوناتھ جی کی زیارت کرنے میں آسانی ہو اس لئے مودی جی کاریڈور بنا رہے ہیں، کیا یہ مودی جی اپنے لئے کر رہے ہیں؟ نہیں ہمارے لئے، اس ملک کی عوام کے لئے، دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لئے۔‘وارانسی کے انگلشیا لائن-لہورابیر سڑک کے کنارے ٹھیلا (پھل) لگانے والے انج کمار بتاتے ہیں،’اس حکومت کے آنے سے کس کا فائدہ ہوا کس کا نقصان، یہ تو ہمیں نہیں پتہ لیکن ہاں، ہم جیسے لوگوں کی کوئی سنوائی نہیں ہے۔ جب بھی کوئی رہنما-وزیر آتے ہیں ہمیں سڑک کے کنارے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ نوٹ بندی کے بارے میں بات کرنے پر انج کمار بتاتے ہیں،’جس وقت نوٹ بندی ہوئی تھی، اس وقت کچھ دن تک بہت دقت تھی لیکن کچھ دن کے بعد سب ٹھیک ہو گیا۔ مودی جی بول رہے تھے کہ نوٹ بندی اس لئے کی گئی ہے تاکہ کالا دھن پکڑا جا سکے، لیکن کچھ تو نہیں ہوا۔ بس دو چار دن کے لئے خبر آئی کہ ایسا ہوا ہے لیکن کچھ دن بعد سب ٹھیک۔ جب کچھ ہونا ہی نہیں تھا تو مودی جی ایسا کیوں کئے؟‘نوٹ بندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے شکر تالاب کی رہنے والی 36 سالہ ٹیچر سمن سونکر کہتی ہیں،’کوئی بھی کام جب شروع ہوتا ہے تو پلس-مائنس لگا رہتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ نوٹ بندی سے کچھ لوگوں کو دقت ہوئی ہے۔ لیکن اس وجہ سے فیوچر کتنا برائٹ ہوگا اس پر کسی کا دھیان ہی نہیں جا رہا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ کالا دھن کسی کے پاس نہیں ہوگا۔‘ حالانکہ ایک سچ یہ بھی ہے کہ نوٹ بندی سے جمع ہوئی کالی رقم کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں دیا گیا ہے، ساتھ ہی ریزرو بینک آف انڈیاکے مطابق، نوٹ بندی کے بعد بند کئے گئے 500 اور 1000 کے نوٹوں میں سے 99.3 فیصدی بینکنگ سسٹم میں واپس لوٹ آئے۔ اس پر سمن کہتی ہیں،’یہ سب چھوٹی-موٹی چیز تو لگی رہتی ہے۔‘اسی گھاٹ پر گھومنے کے لئے آئی چرامنپور (وارانسی) کی تقریباً35 سالہ خاتون شالنی سنگھ مودی حکومت کے بارے میں پوچھنے پر کہتی ہیں،’پلواما میں جو فوجی شہید ہوئے ہیں اس کا ہمیں بہت دکھ ہے، لیکن مودی جی نے پاکستان سے بدلہ لیا ہے۔ جس طرح سے بنا کسی کو کان و کان خبر ہوئے سرجیکل اسٹرائک کی گئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مودی جی ہی اس ملک کی کشتی پار لگا سکتے ہیں۔‘ساڑی کا کام کرنے والے 27 سال کے بُنکر کوٹواں کیعلی سید بتاتے ہیں،’ابھی تک ہم لوگ صرف دوسرے لوگوں سے سنتے آ رہے تھے کہ بی جے پی کی حکومت تھوڑی مسلم مخالف ہے لیکن اب تو سمجھ بھی آ گیا، جب رہنما ہندو-مسلم کریں‌گے تو عوام کیا کرے‌گی؟ کام کی بات کرکے ووٹ مانگے تو ٹھیک لگتا ہے۔ اب یہ حکومت فوجیوں کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے۔ یہ ایسا کیسے کر سکتی ہے؟‘اسی گھاٹ پر گنگا کا منظر دیکھ رہے کچھ لوگوں سے گھاٹ کی صفائی کے بارے میں بات کی، یہاں ملی بی ایچ یو کی پوسٹ گریجویشن کی طالبہ پریہ کہتی ہیں،’پچھلے کچھ سالوں میں یہاں تبدیلی تو آئی ہے، کچھ حد تک گھاٹ پر صاف-صفائی ہونے لگی ہے لیکن اتنی نہیں ہوئی کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ ہاں گھاٹ صاف ہو گئے ہیں۔ بس کچھ اصلاح ہوئی ہے۔‘گھاٹ پر گھومنے کے لئے آئی نریا (وارانسی) کی رہنے والی 26 سال کی سنگیتا کماری کہتی ہیں،’گھاٹ کی صفائی تو ہوتی ہے اور کچھ حد تک پہلے سے حالت سدھرے بھی ہیں، لیکن گنگا کی صفائی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ ہمیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ ہر روز گنگا گندی ہی ہوتی جا رہی ہے۔‘ساتھ میں کھڑی سنگیتا کے دوست اور ایک کال سینٹر میں کام کرنے والے پیوش ورما بتاتے ہیں،’جب بی جے پی کی حکومت بنی تو ہمیں ایسا لگا کہ بنارس کی حالت اب سدھرے‌گی لیکن وہ ہماری غلطی تھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں بنارس صرف برباد ہوا ہے۔‘گنگا سے ہاتھ منھ دھوکر، آچمن کر نکلتی چنار کی تقریباً45 سالہ اوشا جی سے جب گنگا صفائی کی بات کی گئی تو آشا جی کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں گنگا کی حالت کافی بہتر ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں،’گنگا جی صاف ہوئی ہے۔ ہم یہاں اکثر آتے ہیں۔ گھاٹ بالکل چمکنے لگے ہیں۔ مودی جی نے بنارس کی تصویر بدل دی ہے۔‘جب ان کو گنگا صفائی سے جڑے کچھ اعداد و شمار بتائے جو کہتے ہیں کہ پچھلے تین سالوں میں گنگا اور میلی ہوئی ہیں، تو اس پر ان کا کہنا تھا،‘مودی جی گنگا کے لئے اتنا کر رہے ہیں، وہ اکثر یہاں آتے بھی ہیں اور کوئی تو نہیں آیا۔ لگاتار یہاں پر کام ہوا ہے۔ صاف-صفائی سب اچھی ہوئی ہے۔ مودی جی نے گنگا صفائی میں اتنا پیسہ بھی لگایا ہے، تو صفائی تو ہوئی ہی نا۔‘غور طلب ہے کہ مرکز کی مودی حکومت کے ذریعے گنگا صفائی کے لئے‘ نمامی گنگے‘ جیسامنصوبہ چلایا جا رہا ہے۔ اس کے تحت 2014 سے لیکر جون 2018 تک میں گنگا صفائی کے لئے 5523 کروڑ روپے جاری کئے گئے، جس میں سے 3867 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود گنگا پچھلے پانچ سال میں آلودہ ہوئی ہے۔وارانسی کے تلسی گھاٹ واقع ایک غیر سرکاری ادارہ سنکٹ موچن فاؤنڈیشن (ایس ایم ایف)کی رپورٹ کے مطابق، گنگا کے پانی میں کالیفارم اور بایوکیمیکل آکسیجن ڈیمانڈ میں لگاتار اضافہ ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گنگا میں آلودگی کی سطح لگاتار بڑھ رہی ہے۔فاؤنڈیشن کے صدر وشمبھر ناتھ مشرا نے بتایا کہ شہر کے کئی علاقے میں گنگا کا پانی پینے کے لئے سپلائی کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینے لائق پانی میں کالیفاارم بیکٹریا 50 ایم پی این(موسٹ پروبیبل نمبر-سب سے زیادہ ممکنہ تعداد)/100 ملی لیٹر اور نہانے کے پانی میں 500 ایم پی این/100 ملی لیٹر ہونا چاہیے جبکہ ایک لیٹر پانی میں بی او ڈی کی مقدار 3 میلی گرام سے کم ہونی چاہیے لیکن ہماری رپورٹ کے مطابق، 2016 میں پھیکل کالیفارم (آلودہ) کی تعداد 4.5 لاکھ تھی جو بعد میں بڑھ‌کر فروری 2019 میں 3.8 کروڑ ہو گئی۔ یعنی اگر یہ پانی شہری باشندے پی رہے ہیں تو وہ صحت کے لئے نقصاندہ ہے۔انہوں نے آگے کہا کہ جب تک گنگا میں نالا گرنا بند نہیں ہوگا تب تک کیسے گنگا صاف ہو پائیں‌گی۔ اگست 2018 میں اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ 15 دسمبر سے کوئی بھی نالا گنگا ندی میں نہیں گرے‌گا لیکن آج بھی اسی نالے گنگا ندی میں ہی جاکر گرتے ہیں، اس کے علاوہ کھڑکیا نالا بھی گنگا میں ہی گرایا جا رہا ہے۔سنکٹ موچن فاؤنڈیشن کے صدر کے علاوہ وشمبھر ناتھ مشرا آئی آئی ٹی بی ایچ یو میں پروفیسر اور سنکٹ موچن مندر میں مہنت بھی ہیں۔ کاشی وشوناتھ کاریڈور کے بارے میں وہ کہتے ہیں،’جو اصل بنارسی پن ہے، وہ وہاں (کاشی وشوناتھ کاریڈور)سے ختم ہو گیا ہے۔ گلیوں کے شہر سے گلیاں ہی اجاڑ دی گئیں۔‘ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جتنا کام بی جے پی حکومت نے کیا ہے، اس سے کوئی ترقی نہیں ہوئی ہے، بلکہ کاشی نے اپنے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ وہ وزیر اعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں،’آپ کے من کی بات سے آپ بنارس ڈیولپ کر رہے ہو، کاشی کے دل میں کیا ہے اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ تو، ایسی ترقی یہاں کس کام کی، جس میں ہم متفق ہی نہ ہوں۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here