چنڈی گڑھ:15 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) چنڈی گڑھ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک ریلی کے دوران کچھ کارکنان نے گریجویشن گاؤن (گریجویشن کا کپڑا) پہن‌کر پکوڑے بیچتے ہوئے بیروزگاری کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ’مودی جی کا پکوڑا‘ہے۔حالانکہ، مظاہرین اپنے ساتھ لائے پکوڑے‘بیچنے’میں ناکام رہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، مودی کا پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ان کو حراست میں لے لیا۔یہ احتجاج گزشتہ سال کی شروعات میں ایک انٹرویو میں نریندر مودی کے ذریعے روزگار کے مدعے پر دئے گئے متنازعہ تبصرہ کے جواب میں منعقد کیا گیا تھا۔اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ مودی حکومت میں بیروزگاری کافی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس دعویٰ کو خارج کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا،‘اگر پکوڑا بیچنے والا شخص ایک دن میں 200 روپے کماتا ہے، تو کیا اس کو روزگار مانا جائے‌گا یا نہیں؟’نریندر مودی کے اس بیان کو لیکر ان کی کافی تنقید ہوئی تھی۔مظاہرہ کے ایک ویڈیومیں دکھ رہا ہے کہ مظاہرین’انجینئروں کے ذریعے بنایا گیا پکوڑا‘ اور‘ بی اے اور ایل ایل بی پکوڑا‘جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ حالانکہ پولیس نے جلدہی ایسے لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ ان میں سے ایک خاتون کالا چشمہ اور آکسفورڈ کی ٹوپی پہن‌کر مودی حکومت کی کامیابیوں کی سخت تنقید کر رہی تھی۔انہوں نے کہا،‘مودی جی نے ہمیں اپنے پکوڑا روزگار اسکیم کے ذریعے نئی نوکریاں دی ہیں۔ اس لئے ہم پکوڑے کے ساتھ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ آخرکار، ہمارے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے زندگی گزارنے کے لئے اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہے۔‘اس سے پہلے گزشتہ سال بنگلورو میں مودی کی ایک ریلی کے دوران کالج کے کچھ طالبعلموں کے ایک گروپ نے پکوڑا بیچا تھا، حالانکہ ریلی سے کچھ گھنٹے پہلے ہی پولیس نے مظاہرہ کرنیوالے طالبعلموں کو بھگا دیا تھا۔نوکری پیدا کرنے کو لیکر وزیر اعظم کے پکوڑا سے متعلق بیان کی مخالفت میں طالبعلموں نے ان کی ریلی کے قریب پکوڑا بیچا تھا۔طالبعلموں نے وہاں آنیجانے والوں اور ریلی میں جا رہے لوگوں کو‘ مودی پکوڑا‘،‘ امت شاہ‘ پکوڑا اور‘ ڈاکٹرایدی'(کرناٹک بی جے پی چیف بی ایس یدیورپا) پکوڑا بیچا۔بی جے پی نے سال 2014 کے منشور میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ہرسال دو کروڑ لوگوں کو روزگار دیں‌گے۔ حالانکہ مودی حکومت کے ذریعے روزگار نہیں دینے کو لیکر ان کی کافی تنقید ہو رہی ہے۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا تھا کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہے کہ نریندر مودی’میک ان انڈیا’اور‘ اسٹارٹ اپ انڈیا’جیسی اسکیمیں لانچ کرنے کے بعد ملک کے نوجوانوں سے روزگار کے لئے پکوڑا بیچنے کو کہہ رہے ہیں۔ وہیں، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان کا ہر شہری پکوڑا ہی بیچے‌گا تو اس کو کھائے‌گا کون؟(بشکریہ دی وائر)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here