از: غلام غوث، بنگلور۔فون:9980827221

15 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)حالیہ 2019 کے پارلیمنٹ الیکشن میں نجومیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ دوبارہ ین ڈی یے الیکشن جیتے گی اور دوبارہ مسٹر مودی وزیر اعظم بنیں گے۔ 1947 سے اب تک ان نجومیوں کی قیاس آرائیاں بہت کم صحی ہوی ہیں۔ اسی طرح کئی ٹی وی چینلس ہر ہفتہ اور ہر دن سروے کر رہے ہیں اور قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ بی جے پی 300 سیٹ جیتے گہ، کوئی کہتاہے 250 تو کوئی کہتا ہے 200 کے اندر۔ کانگریس کو 180 اور 160کے اندر بتا تے ہیں۔ یو پی کے بی یس پی اور یس پی گٹھ بندھن میں کانگریس شامل نہیں ہے مگر وہ کئی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا چکی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے وقت مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی۔ وہ اگر چاہتی تو فوج اور پیرا ملٹری فوج اتار سکتی تھی اور مسجد کو بچا سکتی تھی۔ممبئی فسادات کے وقت وہاں کانگریس کی حکومت تھی مگر اس نے فسادات کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔چناچہ مسلمانوں نے کانگریس کا مکمل بائکاٹ کر دیا اور کانگریس یو پی میں آج تک اقتدار حاصل نہیں کر سکی۔ 2019میں ایک طرف شیو پال سنگھ نے یو پی میں فرقہ پرست پارٹی کی مالی مدد سے گٹھ بندھن کے خلاف اپنے چالیس امیدوار کھڑا دیے ہیں۔اس سے بی جے پی کو فائیدہ ہوگا۔ کانگریس اگر یو پی میں کم سیٹوں پر سمجھوتہ کر لیتی تو وہ شاید گٹھ بندھن کا حصہ بن جاتی۔کانگریس کی حکمت عملی گٹھ بندھن کے خلاف اور بی جے پی کے حق میں جا رہی ہے۔اگر کانگریس بی جے پی کو سچ مچ شکست دینا چاہتی تو وہ یو پی میں گٹھ بندھن کی اور دھلی میں عاپ کی بات مان لیتی۔مگر وہ دونوں جگہ ہٹ دھرمی پر اتر آئی ہے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ کانگریس ووٹوں کو بانٹ دے گی۔ مسلمانوں کے لئے بہتر یہی تھا کہ کہ وہ یوپی میں گٹھ بندھن کو اور دھلی میں عاپ کو ووٹ دے دیتے۔دھلی میں یہ طئے ہوا تھا کہ عاپ چار سیٹ لے گی اور کانگریس تین۔ مگر عین وقت پر کانگریس نے انکار کر دیا اور وہ تمام سات سیٹوں پر لڑے گی۔ اس کا فائیدہ بی جے پی کو ہو گا۔ہم مسلمان صرف راہول گاندھی اور سونیا گاندھی پر بھروسہ کر سکتے ہیں کیونکہ انمیں اخلاص ہے اور وہ ملک کی خاطر کچھ کر نا چاہتے ہیں۔ ہم دوسرے کانگریسیوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ وقت پڑنے پر بی جے پی میں شامل ہو جائیں گے۔عاپ اور کجریوال کے خلاف باتیں کر کے کانگریس تو جیتے گی نہیں بلکہ وہ بی جے پی کو جتائے گی۔ کانگریس میں دور اندیش تھنکرس نہیں ہیں اور انکے اندر جو اراکین ہیں انکے سامنے پہلے خود ہیں، بعد پارٹی اور آخر میں ملک ہے۔ یہی حال تمام سیاستدانوں میں ہے۔ 2014کے الیکشن میں بی جے پی 282 سیٹ جیتی، اسکے ساتھی 54 ، کانگریس 44 اور اسکے ساتھی 15 اور تمام دوسرے 148 سیٹ جیتے۔ بی جے پی کی اس جیت کے لئے کانگریس کا غرور، خود اعتمادی، انا، زمینی حقائق سے ناواقفیت، گھپلے پر گھپلے،مودی کے جھوٹے وعدے، سب کے ساتھ سب کا وکاس کا جھوٹا نعرہ سب ذمہ دار ہیں۔ایک بات صاف ہو گئی کہ معصوم اور سیاسی شعور نہ رکھنے والی عوام جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کر لیتی ہیں۔سیاسی شعور سب سے کم ہے تو وہ مسلمانوں میں ہے اور مسلمانوں میں بھی سب سے کم ہے تو وہ مذہبی حضرات کی اکثریت میں کم ہے۔مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ موجودہ مسلم مخالف حالات میں نئی نئی مسجدین بنا نا اور نئے مدرسے قائم کر نے سے ملت مسلمہ ترقی کر سکتی ہے یا اسی روپیے سے ملت میں سیاسی اور معاشی شعور پیدا کر نے کی زور دار مہم چلانے میں۔ ایک بات یہ بھی غور کر نے والی ہے کہ مسلمانوں کی رہبری کیا وہی لوگ کر سکتے ہیں جو بے نیاز ہیں اور معلومات میں یکتاہیں اور جو حق بات بلا جھجک کر سکتے ہیں یا ہمارے مذہبی حضرات کر سکتے ہیں۔ساتویں لوک سبھا 1980–1984 میں مسلمانوں کی تعداد 49 تھی جبکہ 16ویں لوک سبھا 2014 میں یہ تعداد سب سے کم 23 ہے۔ریاستی اسمبلیوں میں بھی یہ تعداد گھٹ گئی ہے۔مودی حکومت میں صرف دو شیعہ مسلمان منسٹر ہیں کیونکہ شیعہ مسلمانوں کی اکثریت بی جے پی کی طرفدار ہے۔ 2017 کے یو پی الیکشن میں بی جے پی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دی اور بتا دیا کہ ہم مسلمانوں کا کوئی سیاسی وزن نہیں ہے۔سیکولر پارٹیوں اور مسلمانوں کے ووٹ بٹنے کے سبب بی جے پی نے 403 ممبر یو پی اسمبلی میں 312 سیٹ جیت لئیے اور مسلمان ہاتھ ملتے رہ گئیے۔ ملک بھر میں تمام سیاسی پارٹیوں نے ان منتشر اور بغیر لیڈر کے مسلمانوں کو نظر انداز کر نا شروع کر دیا۔ آج بھی کسی بھی شخص کا نام لیڈرشپ کے لئے لیجے ہم اسکی مخالفت شروع کر دیتے ہیں مگر اس کا متبادل نہیں بتا تے۔ ایسا کیوں ہوا اور اس کا تدارک کیا ہے اس پر غور و فکر کر نے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کی اکثریت اس بات سے بے خبر ہے کہ اگر بی جے پی کامیاب ہو گئی تو ہماری شریعت میں مداخلت شروع ہو جائے گی، مسجدوں اور مدرسوں پر پابندی لگ جائے گی، پردے پر روک لگ جائے گی، دار القضاء بند کر دیے جائیں گے، طلاق اور خلع میں تبدیلی لائی جائے گی اور مسلمانوں کو ہر میدان میں دبا دیا جائے گا۔مذہبی حضرات معلومات کی کمی کی وجہ سے یہ کہہ کر دامن بچا لیتے ہیں کہ وہی ہو گا جو اللہ چاہے گا مگر یہ نہیں بتائیں گے کہ اللہ کا حکم ہے کہ ہم کوشش ضرور کریں۔ دشمنوں نے ہمیں صرف ذکر و ازکار اور بدنی عبادات میں الجھا کر رکھ دیا ہے اور کسی ایک آیت پڑھنے کے ہزاروں فایدے بتا کر ہمیں جد و جہد سے دور کر دیا ہے۔جب اسمبلی حلقوں کا delimitation ہوا تب فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے سرکاری افسروں نے ہر اس حلقہ کو دو حصوں میں بانٹ دیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔مسلم سیاست دانوں اور مسلم اداروں کی ذمہ داری تھی کہ کہ وہ اْس وقت آواز اٹھاتے مگر سب سوتے رہے۔ لوہا گرم تھا اور ایک تھاپ کی ضرورت تھی مگر سب سوتے رہے اور اب ہزروں تھاپوں سے بھی کچھ نہیں ہو رہا ہے۔مسلم اکثریتی علاقوں کو دلتوں کے لئے ریزرو کر دیا گیا مگر دلت اکثریتی حلقوں کو آزاد رکھ دیا گیا۔ اس سے ہر جگہ دلتوں کو زیادہ نمائندگی ملی۔نقصان مسلمانوں کو ہوا اور یہ سب ہماری لاپرواہی اور کاہلی کی بنا ہوا۔راجندر سچر نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے۔96 لوک سبھا حلقوں میں مسلمان 20 فیصد ہیں۔ انہیں 9 سیٹ بہار میں۔ 9سیٹ کیرلا میں، 9 آسام میں، 5مہاراشترا میں، 6کشمیر میں، 20مغربی بنگال میں اور 28 یو پی میں۔مگر مسلمانوں کی نا اتفاقی کے سبب مسلم نمائیندے ناکام ہیں۔ 13 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 40 فیصد ہے، 218 حلقوں میں مسلمانوں کی آبادی دس فیصد ہے اور اگر یہ دس فیصد باہر نکل کر متحدہ طور پر ووٹ کریں تو بہت سارے امید واروں کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔اکثر اعلی تعلیم یافتہ حضرات باہر نکل کر ووٹ نہیں ڈالتے۔ 1999 میں ہمارا ووٹینگ فیصد 67 تھا جبکہ پورے ملک کا ووٹنگ فیصد ساٹھ تھا۔ 2004میں ہمارا فیصد 46تھا جبکہ پورے ملک کا 58 اور 2014 میں ہمارا 55 تھا جبکہ ملک کا 58 فیصد تھا۔ 2019 میں ہمارا فیصد 52 کے قریب ہو گیا ہے جبکہ تمام علماء اور دانشوروں کی کوشش تھی کہ ووٹینگ فیصد بڑھکر 90 ہو جائے۔ سارے ملک میں اس کے لئے تمام علماء اور دانشوروں اور جماعتوں نے مہم چلائی مگر نتیجہ ناکامی رہا۔ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا ہے کہ ہم کس میعار کے نمائندے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں بھیج رہے ہیں اور کیا وہ مسلمانوں کے مسائل اٹھانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جو بھی مسلم نمائندے ہیں وہ صرف اقتدار حاصل کر نے اور وزیر یا کوئی اور عہدہ حاصل کر نے آ تے ہیں ملت مسلمہ کی خدمت کر نے کوئی نہیں جاتا۔1947 سے دیکھیں تو اب تک راجیہ سبھا میں ہماری تعداد دس فیصد رہی جبکہ لوک سبھا میں صرف پانچ فیصد۔ کانگریس کو بتا یا گیا کہ 2014 میں اس کی شکست کے لئے میناریٹیس سے قریبی بھی اس کی ذمہ دار ہے۔شاید اسی لئے کانگریس نے اس الیکشن میں مسلمانوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔اگر یہ کسی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم مسلمانوں کو ہر ریاست کے کارپوریشن الیکشنوں میں ایسی پارٹیوں کو چھوڑ کر خود ہمارے ایماندار آزاد امید واروں یا یم آی یم اور یس ڈی پی آی کے امیدواروں کو کم سے کم چار پانچ حلقوں سے جتا کر بتا نا ہے کہ ہم بھی کچھ متبادل رکھتے ہیں۔ باقی تمام جگہ ہمیں کانگریس اور دیگر پارٹیوں کا ساتھ دینا ہے۔کرناٹک کی بات کروں تو 2018کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے مسلمانوں کو کافی حد تک خوش کر دیا اور ہم نے بھی کھل کر متحدہ طور پر اس کی حمایت کر دی۔ مگر گٹھ بندھن حکومت کے ببنے کے بعد مسلمانوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور ہمارے مطالبات تک سننے کے لئے تیار نہیں رہے۔ ہر ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ تمام پارٹیوں نے یہی سلوک کیا۔۔اگر ہم مسلمان ہر میدان میں کامیاب ہونے کے لئے سنجیدہ ہیں تو ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے مذہبی حضرات اوراعلی تعلیم یافتہ حضرات کو اخبار پڑھنے اور خاص طور پر اس میں لکھے گئے مضامین پڑھنے کی عادت ڈالنا ہو گا پھر انہیں 1900 سے لے کر آج تک کے امریکہ اور روس کے صدور، ہندوستان، پاکستان اور چین کے سیاستدانوں کی سوانح حیات پڑھنے کی ترغیب دینا ہو گا کیونکہ وہ اس سے دنیا پھر کی سیاست کو سنجھنے لگیں گے۔اگر ایسا ہو گیا تو یہ حضرات پوری امت مسلمہ کا شعور بدل دیں گے۔ہمارے انجنیرس، ڈاکٹرس اور پروفشنلس کی اکثریت میں معلومات کی بے حد کمی ہے۔ مسلم لائبرریاں ایسی کتابوں سے خالی ہیں۔ اگر ہم نے سیاسی وزن پیدا نہیں کیا تو ہم کسی بھی میدان میں کامیاب ہو نہیں سکتے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہمارے مالدار اور ریٹائرڈ افسروں کو ہر سیاسی پارٹی میں شامل کریں۔ ان حضرات کو چاہیے کہ وہ بغیر کسی عہدے کی لالچ کے پارٹی کے اندر دن رات کام کریں اور تمام لیڈروں کے کان اور آنکھ بن جائیں۔ انمیں عہدے کا لالچ نہ ہو مگر کوئی مل جائے تو ٹھیک ہے۔ایسا کام یہودی حضرات امریکہ اور یوروپ میں کر رہے ہیں اور کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔مشاہدہ یہ بھی بتا رہا ہے کہ پارٹیوں میں موجود مسلم سیاستدان مسلم مسائل اٹھانے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد منسٹر بننا ہو تا ہے یا کوئی عہدہ حاصل کر نا ہو تا ہے۔ایسے میں اس بات پر بھی غور کر نا ہے کہ کیا ہم ایسی خدمت غیر مسلم سیاستدانوں کو جتا کر لے سکتے ہیں۔ سچائی یہ بھی ہے کہ جب غیر مسلم مسلمانوں کے مسائل اٹھاتے ہیں تو تمام ممبروں کے کان کھڑے ہو جا تے ہیں۔مسلمانوں پر ہونے والے ہر ظلم اور ہر نا انصافی پر ہمیں عدالتوں کا دروازہ کٹھکھتا نا چاہیے تاکہ ایک ایسا وقت آئے جب ہر کسی کو مسلمانوں کے خلاف کام کر نے کی ہمت نہ ہو۔ اتفاق و اتحاد کی بنیاد مذہب اور مسلک کے بجائے مسائل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ایسے نظریوں پر عمل کرنے کے لئے چند سالوں تک ہمارے مال کو اسی پر لگانے کی کوشش کر نا چاہیے۔مشاہدہ بتا رہا ہے کہ اس الکشن میں بی جے پی دو سو سے کم سیٹیں لے گی اور کانگریس 180 اور 160کے اندر۔ اگر ایسا ہوا تو مسٹر راہول گاندھی ضرور وزیر اعظم بنیں گے اور یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کی بات ہو گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here