یوسف رامپوری

15 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور اسلام کے نظام عبادت کی تکمیل کر نے والا ہے۔اس لیے کہ روزہ ایک روحانی عبادت ہے، اس کے ذریعہ نفس کی اصلا ح ہوتی ہے اور مادی ضرورتوں و خواہشوں کو روزہ کی حالت میں نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ روزہ میں کھانا، پینا اور جماع کرناممنوع ہے۔ جب کہ یہ تینوں چیزیں انتہائی اہم ہیں۔ کھانا اور پینا انسان کی زندگی کے لیے ضروری ہے اور جماع کرنا جنسی خواہش کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ لیکن روزہ میں ان تینوں باتوں سے رکنے کو لازمی قرار دیا گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ بندہ اللہ کے لیے اپنی مادی و نفسانی ضرورتوں و خواہشوں سے رک جاتا ہے۔اللہ سبحانہ و تعالی کو بندے کا یہ عمل بے حد پسند ہے، اس لیے وہ روزے کو اپنے لیے قرار دیتا ہے اور اس پر اپنے ہاتھ سے اجر دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ماہ رمضان کے روزے اللہ تعالی نے مسلمانوں پر فرض کیے ہیں۔ ارشاد باری ہے ”اے ایمان والو! تم پر بھی روزے فرض کیے گئے، جس طرح ان لوگوں پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں“(البقرہ: ۳۸۱) ایک اور دوسری آیت میں فرمایاگیا ”رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو تمام انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو سیدھا راستہ دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں بس اب جو شخص تم میں سے اس مہینہ کو پائے اس پر لازم ہے کہ وہ اس پورے مہینہ کے روزے رکھے“ (البقرہ:۵۸۱) ان آیات سے ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔روزے دوقسم کے ہوتے ہیں۔ فرض روزے اور نفل روزے۔ اگر چہ نفل روزوں کا بھی اللہ کے یہاں بڑا اجر ہے، تاہم نفل روزوں اوررمضان کے روزوں کو اجر وثواب کے اعتبار سے ایک جگہ نہیں رکھا جاسکتا، بلکہ روایات میں یہا نتک آتا ہے کہ اگر کسی سے رمضان کے مہینہ کا کوئی ایک روزہ بھی چھوٹ گیا پھر وہ اس روزہ کی تلافی کے لیے اگر زندگی بھر روزے رکھے تب بھی وہ روزے اس ایک روزہ کا بدل نہیں بن سکتے۔ مذکوہ آیت سے ایک اور بات معلوم ہوتی ہے کہ روزے نہ صرف امت محمدیہ پر فرض کیے گئے بلکہ سابقہ تمام امتوں پربھی فرض کیے گئے تھے۔در اصل انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد عباد ت خدا وندی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی خود کلام پاک میں فرماتا ہے ”میں نے جنات و انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیاہے“(البقرہ) انسان سے مراد سبھی انسان ہیں، چاہے وہ پچھلے انبیا ء کی امت ہوں یا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوں، چنانچہ تمام نبیوں نے لوگوں کو حق کی طرف بلایا اور ایک معبود کی عبادت تاکید کی۔ روزہ بھی کیونکہ عبادت کی اہم کڑی ہے، اس لیے روزہ تمام امتوں پر ہر دور میں فرض کیا گیا۔روزے کے ذریعہ انسان تقوی کے زیادہ قریب پہنچ جا تا ہے۔ اس لیے کہ انسان روزہ کی حالت میں سب کچھ اللہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اپنے معبود کی رضا کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔ نہ وہ کھانا کھاتا ہے، نہ پانی پیتا ہے، نہ اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرتا ہے۔ جب وہ ان بنیادی چیزوں پر کنٹرول کر لیتا ہے، تو اس کے لیے دیگر چیزوں سے بچنا اور آسان ہوجا تا ہے۔جھوٹ بولنے سے، غیبت کرنے سے، گالی گلوچ کرنے سے، مارپیٹ کرنے سے، بے ہودہ بکواس کرنے سے، وعدہ خلافی کرنے سے، وعدہ شکنی کرنے سے، کسی کو ستانے دبانے سے، کسی کا حق مارنے سے، رشوت خوری و بدعنوانی سے، بے پردگی و بے حیائی سے، غرض ہر گناہ سے بچنا اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے اور جو شخص ہر گنا ہ سے بچتا ہے او رنیک اعمال کی طرف دوڑتا ہے اور اپنے رب کی خوشنودی کو اپنا مطمح نظر بنالیتا ہے، تو اس کے متقی و پرہیز گار بننے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے اور جو شخص پرہیزگار ومتقی بن جاتا ہے وہ شخص حقیقی معنوں میں روزہ کا حق اد ا کرنے والا ہوتا ہے۔ رمضان بھر کے روزوں کا تقاضہ ہے کہ مومن رمضان گزارنے کے بعد بھی تقوی اختیار کرے جو چیزیں اس کے لیے حرام و ناجائز ہیں، ان سے بچے اور نیک اعمال کی طرف دوڑے۔ ماہ رمضان میں روزوں کے علاوہ نماز تروایح، اعتکاف، تلاوت قرآن مجید اور ذکر و اذکار وغیرہ کا بھی اہتمام کرنا چاہئے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے بھی مسلمان معاشرہ میں دکھائی دیتے ہیں، جو رمضان کی آمد پربظاہرتوخوش ہوتے ہیں، لیکن عملی طور سے جس طرح رمضان کے شب وروز کو گزارا جانا چاہئے، نہیں گزارتے۔مثلا کچھ لوگ خوشی خوشی دوچار دن روزے رکھتے ہیں، اس کے بعد روزوں کے رکھنے میں اہتمام نہیں کرپا تے، جس دن چاہا رکھ لیا اور جس دن چاہا چھوڑ دیا۔ یہ قابل گرفت بات ہے کیونکہ ماہ رمضان کے تمام دنوں کے روزے فرض ہیں، بلا معقول عذرکے روزوں کو چھوڑ نا سخت گناہ ہے اور ایک روزہ کاکفارہ ساٹھ روزے مسلسل رکھنا ہے۔ایسے ہی چند دنوں تک لو گ مسجدوں میں بھی خوب دکھائی دیتے ہیں اور تراویح کی نماز میں کافی لوگ شریک ہوتے ہیں، لیکن چند دنوں میں ہی بہت سے لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور پھر وہ نہ نمازوں کی ادائیگی کے لیے مسجدوں میں نظر آتے ہیں اور نہ تراویح کی نماز میں دکھائی دیتے ہیں۔یہ طریقہ غلط ہے۔ رمضان کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ کے بندے خلوص نیت کے ساتھ پورے ماہ کے روزے رکھیں،کسی طرح کا دکھاوا نہ کریں اور ذکر او ذکار میں مشغول رہیں،شب قدر کو تلاش کریں۔اللہ کے آگے روئیں اور گڑگڑائیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔اسلام کے نزدیک سادگی و خلوص بڑی پسندیدہ شے ہے۔ تصنع اور منافقت کو اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔تقوی اصل مقصود ہے۔ اس لیے ضروری تو یہ ہے کہ لوگ صبر و تحمل اور سادگی کا مظاہر ہ کریں اور خلوص دل کے ساتھ نیک اعمال بجالائیں، لیکن بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں بھی بہت سے لو گ بناوٹ اور شور و ہنگامہ سے باز نہیں آپاتے۔ جہاں رمضان شروع ہوا مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکر عام ہوجاتے ہیں، اب ان کا استعمال محض اذان دینے کے لیے نہیں، طرح طرح کے اعلانات کے لیے بھی ہوتا ہے۔ سحری کے لیے آدھی رات سے ہی اعلانات لگنے شروع ہوجاتے ہیں،نعتیں پڑھنی شروع کردی جاتی ہیں اور بار بار زور زور سے سائرن بجائے جاتے ہیں۔ وسط رات یا اخیررات میں اس طرح بے جاریڈیو کا استعمال مناسب نہیں۔بعض جگہ تراویح کے لیے بھی ریڈیوکا استعمال کیا جا تا ہے۔آج کل افطار پارٹیوں کا بھی رواج چل پڑا ہے۔ یہ افطار پارٹیاں محض مسلمانوں یا روزے داروں کی جانب سے نہیں دی جاتیں، بلکہ اس میں بے روزدار، غیر مسلم حضرات بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ کبھی کسی سیاسی شخصیت کی جانب سے سیاسی پارٹی دی جاتی ہے اور کبھی کسی دوسرے سیاسی لیڈر کی طرف سے۔ اس پارٹی میں روزے دار برائے نام ہی ہوتے ہیں، زیادہ تر بے روزے دار ہوتے ہیں۔کیا یہ روزے کی قدردانی ہے یا اس کی بے حرمتی؟ ماہ رمضان کا تقاضہ تو یہ ہے کہ مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے میں مشغو ل رہیں اور سیر و تفریح یا خریدا ری کی طرف توجہ نہ دیں، لیکن ایسا بھی خو ب ہوتاہے کہ لوگ بازاروں میں خرید و فروخت میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیتے ہیں، کئی لوگ سیروتفریح کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ گویا کہ ایسا ماحول نظر آتا ہے جس سے لوگوں پر خشیت الہی طاری نہیں ہوتی۔ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا جانا چاہئے اور اس آخری عشرہ میں ہی شب قدر کے وقوع کے زیادہ تر امکانات ہوتے ہیں، جس کا تقاضہ ہے کہ تمام مسلمان اس آخری عشرہ میں اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوں، اعتکاف کریں، شب قدر کی تلاش و جستجو میں لگ جائیں اور کوئی پل بھی لا یعنی باتوں میں نہ گزاریں۔ معلوم نہیں کہ پھر رمضان المبارک نصیب ہو یا نہ ہو۔ مگر حیرت ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہوتا ہوا نظر آتا ہے، اس آخری عشرہ میں خالق کی عبادت کے لیے راتو ں کو توکیا جاگنا، کتنے لوگ دنوں میں بھی فرض نمازوں کی ادائیگی سے محروم رہ جاتے ہیں،نماز تراویح کے بارے میں تو لوگوں کا عام رجحان بنتا جا رہا ہے کہ جہاں تراویح کی نماز میں قرآن شریف مکمل ہوا بس پھر تراویح کی نماز میں خال ہی خال لوگ نظر آتے ہیں جب کہ عام طورسے مسجدوں میں قرآن ۰۲تا ۵۲ ویں رات تک مکمل ہوجاتے ہیں، حالانکہ اصل تراویح پڑھنا ہے۔چاہے وہ الم تر سے ہی کیوں نہ ہوں۔رہا شب قدر کا معاملہ تو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کے وقوع کی کثرت سے روایات ملتی ہیں، گویا اکیس،تئیس، پچیس، ستائیس اورانتیس تاریخ کی راتوں میں مسلمانوں کو زیاد ہ انہماک کے ساتھ شب قدر کی تلاش کرنی چاہئے، لیکن عام طور سے ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ زیادہ ترلوگ ان راتوں میں عبادت و اذکار کا خصوصی اہتمام کرتے ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here