رياض:15 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) رمضان کے مہینے میں مدینہ منورہ کا کوئی گھر ایسا نہیں ہوتا جس میں افطار کے دسترخوان پر ’شُریک‘ کی روٹی موجود نہ ہو۔ یہ افطار کے لیے تیار کی گئی کھانے کی اشیاء میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مدینہ منورہ کے لوگوں کی تاریخ کے ساتھ اس کا بہت پرانا تعلق ہے۔ اس کا منفرد ذائقہ مملکت کے دیگر شہروں کے رمضانی پکوانوں کے مقابلے میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق رمضان کے پہلے روز سے ہی ’’شُریک‘‘ کی روٹی کی خریداری پر بے پناہ رش نظر آ رہا ہے۔ اذان مغرب سے چند لمحوں پہلے تک اس کے حصول کے لیے لوگ تندوروں اور بیکریوں پر قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔ اس لیے کہ بہت سے لوگوں کے ہاں اس کے بغیر افطار کا دسترخوان مکمل نہیں ہوتا ہے۔شُريک کی روٹی گول شکل میں بنائی جاتی ہے جس پر اوپر سے تھوڑے تل چھڑک دیئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد روٹی کو تندور یا اوون میں پکا لیا جاتا ہے۔مدینہ منورہ کے بعض گھرانے شُریک تیار کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ مدینہ منورہ میں شُریک فروخت کرنے والی ایک بیکری کے سیلزمین عبدالمجید کا کہنا ہے کہ مدینے کی شُریک دو قسم کی ہوتی ہے۔ پہلی سادہ نوعیت کی ہوتی ہے جس میں صرف آٹا اور پانی استعمال ہوتا ہے اور اس پر لوگوں کی توجہ نسبتاً کم ہوتی ہے۔ دوسری قسم الحجری شُریک کہلاتی ہے۔ یہ دودھ اور چنے کے ذریعے تیار کی جاتی ہے اور مزے دار ذائقے کے سبب لوگوں کی اولین پسند ہے۔ عبدالمجید نے مزید بتایا کہ پورے سال مدینہ منورہ اور اس کے باہر سے گاہکوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر رمضان کے مہینے میں اس کے لیے بے پناہ رش بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ مغرب کی نماز سے پہلے تک لوگ موجود ہوتے ہیں کیوں کہ مدینہ کے لوگ افطار پر اس کو خصوصی ترجیح دیتے ہیں۔سعودی شہری ناصر عثمان کے نزدیک مدینہ منورہ کی شُريک اپنے ذائقے اور خاص خوشبو کے سبب انفرادی اہمیت رکھتی ہے۔ رمضان میں بالخصوص اور بقیہ پورے سال بالعموم لوگ اپنے گھروں میں یا مسجد نبوی میں شُریک کو دسترخوان کی زینت بناتے ہیں۔ایک اور سعودی شہری سعید مشحن کے مطابق وہ رمضان میں شُریک کی خریداری کے لیے لمبی قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ رمضان کے دوران اس روٹی کو مدینہ منورہ سے باہر رہنے والے اپنے عزیز و اقارب کو بھی بھیجتے ہیں جو اسے پسند کرتے ہیں اور باقاعدگی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔مدینہ منورہ میں شُریک تیار کرنے والی ایک بیکری کے مالک چچا حمزہ نے بتایا کہ “شُریک آٹے، چنے اور تل سے بنائی جاتی ہے۔ گاہکوں کے ہاتھ میں آنے سے پہلے یہ کئی مراحل سے گزرتی ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ پرانے زمانے میں شُریک کوئلے پر بنائی جاتی تھی۔ گاہک اس کو کاغذ کی تھیلی کے بجائے چھوٹی سے ڈوری میں لے کر جانے کو ترجیح دیتے تھے تا کہ اس کی کوالٹی اور خوشبو برقرار رہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here