14 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)اترپردیش کے ہاپوڑ میں گزشتہ 28 اپریل کو خود کو آگ لگا لینے والی خاتون دہلی کے ایک نجی اسپتال میں موت سے جنگ لڑ رہی ہے۔ 80 فیصد تک جل چکی اس خاتون کو پہلے والد نے ہی بیچ دیا تھا اور بعد میں اس کی کئی بار اجتماعی عصمت دری بھی ہوئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ کم سے کم جل جانے کے بعد اب اس کی اجتماعی عصمت دری کوئی نہیں کر پائے گا۔انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے ساتھ بات چیت میں خاتون نے کہا ’’میں مر جانا چاہتی ہوں۔ کوئی بھی ایسے درد اور اذیت سے گزرنا نہیں چاہے گا۔ لیکن کم سے کم اب لوگ میرا ریپ نہیں کر پائیں گے۔ کیونکہ میرا جسم جل چکا ہے‘‘۔خاتون نے بتایا ’’میرا دوسرا شوہر شیطان تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر میرا ریپ کرواتا تھا۔ وہ ایسا تھا اس لئے اور لوگ بھی یہ سوچتے تھے کہ میں ایسے کاموں کے لئے ’دستیاب‘ ہوں۔ میں نے کئی بار پولیس میں شکایت بھی درج کرائی لیکن ہر بار یہی کہا گیا کہ جانچ کی جا رہی ہے۔ اکتوبر 2018 میں میں نے شکایت کی تھی لیکن اپریل 2019 تک بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی‘‘۔خاتون کے مطابق، اس کا شوہر اس کے باپ کا ہی دوست تھا۔ شوہر اسے نہ صرف یہ کہ روز مارتا تھا بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کا ریپ بھی کرتا تھا۔ اس کے خود کے باپ، دو بھائی اور ایک بہن نے اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ خاتون کے تین بچے ہیں جن میں سے ایک پہلے شوہر سے ہے، ایک دوسرے شوہر سے جبکہ ایک عصمت دری کے بعد پیدا ہوا ہے۔کیا ہے معاملہ؟اسپتال میں بھرتی خاتون نے 28 اپریل کو یوپی میں واقع اپنے گھر میں خود کو آگ لگا لی تھی۔ اس کے بعد خاتون کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا جس میں خاتون نے اپنی کہانی بیان کی تھی۔ ویڈیو میں خاتون نے خود کو بیوہ بتایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کے والد نے ہی اسے صرف 10 ہزار روپئے میں بیچ دیا تھا۔ اس کے بعد کئی بار اس کی اجتماعی عصمت دری بھی ہوئی۔ خاتون جب تھانہ میں شکایت درج کرانے پہنچی تو وہاں سے بھی اسے مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ پھر ہر طرف سے ناامید ہو کر اس نے خود کو آگ لگا لی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here