بنگلورو:08 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)پولیس مظالم کا شکار بنگلورو کے نوجوان محمد تنویراب انصاف کی راہ تک رہے ہیں۔ دوسری جانب اس معاملے میں ریاستی اقلیتی کمیشن نے محکمہ پولیس کونوٹس جاری کیاہے۔ وزیراقلیتی بہبود ضمیراحمد خان نے محمد تنویرکودولاکھ روپئے کی مالی مدد فراہم کی ہے۔ بنگلورو کے شفاء اسپتال میں زیرعلاج محمد تنویر کیلئے 9اپریل کی رات دردناک، کربناک ثابت ہوئی۔ ٹووہلیرپر اپنے دوست کے ہمراہ دوائیاں لینے گئے محمد تنویر کواچانک پولیس نے روکا اورموبائل فون پر گفتگو کرتے ہوئے پکڑ لیا۔ محمد تنویر کہتے ہیں کہ جب پولیس اہلکارنے انہیں گالی دی تو انہوں نے سوال کیا، بس اسی بات پر پولیس اہلکار برہم ہو گئے اورجم کر پٹائی کی۔ اتناہی نہیں اُنہیں فوراً پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور وہاں بھی ان کی خوب پٹائی کی گئی۔ محمد تنویراوران کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ زیادتی کی گئی۔ اس معاملے میں دوپولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کرناٹک اقلیتی کمیشن نے بھی محکمہ پولیس کونوٹس جاری کیا ہے۔ اقلیتی کمیشن کے چیرمین اور وزیراقلیتی بہبود ضمیراحمد خان نے اسپتال پہنچ کر محمد تنویرسے ملاقات کی۔ محمد تنویرکے علاج کیلئے دو لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی۔محمد تنویر کے رشتہ دار کہتے ہیں کہ بے رحمی سے مارپیٹ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کمزور دفعات داخل گئے ہیں۔ خاطی پولیس اہلکاروں کو ضمانت بھی مل چکی ہے۔ سماجی اورانسانی حقوق کی تنظیموں نے انصاف کامطالبہ کرتے ہوئے سخت کارروائی کی مانگ کی ہے تاکہ مستقبل میں پولیس زیادتی کے واقعات رونما نہ ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here