بنگلور:08 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)(محمد فرقان) رمضان المبارک ہمارے سر پر سایہ فگن ہے۔جس کا پہلا عشرہ رحمتوں والا ہے۔جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں بخشتے ہیں۔اللہ نے اپنے بندوں کے گناہ کو معاف کرنے کیلئے رمضان المبارک جیسے عظیم مہینہ تحفہ میں دیا۔جس میں روزہ کو فرض اور تراویح کو سنت قرار دیا۔ تاکہ روزہ سے مسلمانوں میں تقویٰ پیدا ہو۔رمضان المبارک کی غرض و غایت اور اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار معروف عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔شاہ ملت نے فرمایا کہ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اورنزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس میں لیلۃ القدر آتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ رمضان المبارک نیکیوں کے موسم بہار اور برائیوں کے موسم خزاں کا مہینہ ہے، جس میں رب کی خوشنودی اور جنت کا حصول ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں دن میں روزہ کو فرض کیا گیا ہے۔روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔روزہ کا مطلب یہی ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو اللہ کے احکام کا پابند بنائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے۔انہوں نے بتایا کہ روزہ کا مقصد ہی تقویٰ کا حصول ہے۔روزہ داروں کیلئے احادیث میں بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔مولانا نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ایمان کی حالت میں ماہِ رمضان کے روزہ رکھتا ہے اسکے گذشتہ تمام گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ مولانا قاسمی نے بتایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسکا نام ’ریان‘ہے۔اس دروازے سے صرف او ر صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے۔شاہ ملت نے دوسری سنت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان کی شب میں بیس رکعات کو سنت قرار دیا گیا۔جس میں بیس رکعات تراویح پڑھنا ایک سنت اور نماز تراویح میں مکمل قرآن کو پڑھنا یا سننا دوسری سنت بتائی گئی۔مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کی قدر نہ کی اور اپنے گناہ نہ بخشوائے انکی تباہی و بربادی کیلئے رسول اللہ ؐ نے بدعا کی ہے۔شاہ ملت نے فرمایا کہ رمضان المبارک کے قیمتی اوقات کو ضائع کئے بغیر عبادت و ریاضت میں گزاریں۔گناہوں سے پرہیز کریں۔مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے فرمایا کہ جس کا رمضان اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم اور نبی کریم ؐ کے طریقے پر گزرا اسکا پورا سال اسی طرح سلامتی سے گزرے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here