بھٹکل:05 مئی 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) جمعیت الحافظات جامعۃ الصالحات بھٹکل کے زیر اہتمام بھٹکل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حافظات کے مابین مسابقہ حفظ قرآن منعقد ہوا جس میں شہر بھٹکل کی 47 کے قریب منتخب طالبات وخواتین نے حصہ لیا،یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور انوکھا پروگرام تھا جس میں مختلف عمر کی حافظات نے شرکت کی اورپروگرام کے جملہ انتظامات بھی خواتین ہی نے سنبھالے، مسابقہ کو نو گروپ میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں سفلی،وسطی اور علیا تین زمرے تھے اور ہر زمرہ میں دس پارے،پندرہ پارے اور مکمل قرآن، مسابقہ کے لیے جملہ 120 کے قریب فارم موصول ہوئے تھے،مختلف نشستوں میں شرکاء کی جانچ کے بعد۴۷ ممتاز شرکاء کو مسابقے کے لیے منتخب کیا گیا،منتخب مساہمات کا مسابقہ پانچ نشستوں میں مختلف اوقات میں رکھا گیا، جملہ زمروں کے ہر گروپ میں اول دوم سوم آنے والوں کو گراں قدر انعامات سے نوازا گیا نیز تمام منتخب شرکاء کو بھی خصوصی انعامات دیے گئے، اس کے علاوہ بھٹکل کی سطح پر سب سے عمر رسیدہ حافظہ 58 سال کی معمر خاتون محترمہ شہربانو محتشم صاحبہ اوربڑی عمر میں حفظ کرنے والی حافظہ محترمہ زرینہ ایس ایم صاحبہ کو 45 سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد حفظ مکمل کرنے پر اور عفیفہ انجم بنت محمد میراں ارمار صاحبہ کوصرف پچاس دن میں حفظ مکمل کرنے پر اور عزیزہ مریم اقرأ بنت محمد سلیم بایزید کو صرف آٹھ سال کی عمر میں حفظ مکمل کرنے پر، اسی طرح اس وقت بھٹکل کی سب سے کم عمر حافظات کو بھی خصوصی اعزازات سے نوازا گیا، اسی طرح ان خواتین کا بھی خصوصی اعزاز کیا گیا جن کی تمام اولاد حافظ قرآن ہیں،نیز گزشتہ 20 سال یا اس سے زائد مدت تک مسلسل قرآن رمضان المبارک کی تراویح میں سنانے والی 50 سے زائد حافظات کو بھی خصوصی اعزاز دیا گیا، مجموعی طور پر چار لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کیے گئے۔اختتامی نشست میں جامعۃ الصالحات کے معاون ناظم مولانا الیاس صاحب ندوی نے اعلان کیا کہ اس طرح کا پروگرام ان شاء اللہ ہر سال ہوگا اور اگلے سال حفظ کرنے والی نامکمل یعنی زیر تکمیل حافظات کے درمیان بھی دس/ پندرہ اور بیس پاروں کا مسابقہ ان شاء اللہ ہوگا۔ الحمدللہ پروگرام توقع سے زیادہ کامیاب رہا، پروگرام کی جملہ نشستوں میں خواتین کی کثیر تعداد حاضر ہوئیں،اور جامعۃ الصالحات جالی روڈ کا وسیع کمپا ؤنڈ اپنی تنگ دامانی کی شکایت کرنے لگا، ان حافظات کے قرآن کو سن کر ایک نئے جذبہ اور شوق کے ساتھ خود حافظ بننے اور اپنی اولاد کو حافظ بنانے کے ارادے سے خواتین واپس ہوئیں،حاضرین کی طرف سے اس طرح کے پروگرام بار بار منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی،مسابقہ میں اول دوم سو م آنے والی حافظات یہ ہیں
سفلی مکمل قرآن
عائشہ بنت سید فضل الرحمن صاحب برماور
اول
مریم اقرأ بنت محمد سلیم صاحب بایزید
دوم
ثمرہ بنت سید اشرف صاحب ایس جے
سوم
وسطی مکمل قرآن
ام ہانی بنت مولانا سید ابرار صاحب بافقیہ
اول
نورہ بنت محمد شعیب صاحب قاضیا
دوم
ندیٰ بنت محمد شعیب صاحب قاضیا
سوم
علیا مکمل قرآن
فائقہ بنت محی ا لدین صاحب اسحاقی
اول
صغیرہ بانو بنت محمد عثمان صاحب محتشم
دوم
گل تاج بنت شمس الدین صاحب افریکہ
سوم
وسطی ۵۱ پارے
عائشہ فدا بنت حشمت اللہ رکن الدین
اول
خدیجہ بشری بنت منور پیشمام
دوم
ثمرہ بنت اشرف ایس جے /راسخہ تنزیل بنت زبیر رکن الدین /فالحہ بنت اکرم اکرمی
سوم
علیا ۵۱ پارے
ناصحہ بنت محمد حسین صاحب اکرمی
اول
خدیجہ کبری بنت محمد سائب صدیقہ
دوم
فہمیہ بنت محمد عرفان قاسمجی / فاطمہ زلفی بنت محمد مسعود مصباح
سوم
سفلی۰۱ پارے
سائرہ نوال بنت بہاء الدین ایف اے
اول
عائشہ بنت عطاء الرحمن ملا
دوم
رابعہ بصری بنت مصدق ایس ایم / رابعہ انوشہ بنت احسان الحق سعدا
سوم
وسطی ۰۱ پارے
ہاجرہ بشری بنت سلطان ایس ایم
اول
واصفہ بنت حسین شبیر رکن الدین
دوم
خدیجہ مازیہ بنت محمد حسین معلم / بی بی سمیرہ بنت اعجاز احمد شیخ
سوم
علیا ۰۱ پارے
نمرہ بنت محمد زبیر صاحب ملا
اول
فاطمہ ثمرین بنت محمد انصار قاضیا
دوم
نبیلہ بنت محمد جعفر رکن الدین /مہناز بنت محمد اشرف رکن الدین
سوم

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here