بلغاریہ:20اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)بلغاریہ میں کسٹم حکام نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے 288 کلو گرام ہیروئن برآمد کر لی۔ یہ منشیات ایران سے آنے والے ایک ٹرک کے اندر چھپائی گئی تھی۔بلغاریہ کی کسٹم ایجنسی کے مطابق یہ رواں سال قبضے میں لی جانے والی ہیروئن کی سب سے بڑی مقدار ہے۔خاسکوو میں صوبائی استغاثہ کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق اس سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان میں ٹرک کا ایرانی ڈرائیور اور ایک ترک باشندہ شامل ہے۔ دونوں افراد پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کے بعد انہیں 15 سے 20 سال کی جیل کے فیصلے کا سامنا ہو گا۔ٹرک کے ذریعے اسمگل کی جانے والی منشیات کو 144 ڈبوں میں پیک کر کے ٹرک کے فرش کے اندر چھپایا گیا تھا۔ یہ ٹرک اتوار کے روز ترکی سے بلغاریہ میں داخل ہوا تھا۔ سرحدی چیک پوائنٹKapitan Andreevo پر ٹرک کے X-ray کیے جانے پر اس کے اندر موجود ہیروئن کا انکشاف ہوا۔سال 2018 میں کسٹم ایجنسی نے ملک کی سرحدوں پر 994 کلو گرام ہیروئن ضبط کی تھی۔ یہ سال 2017 کے مقابلے میں 13 فی صد زیادہ مقدار تھی۔یاد رہے کہ اپریل 2017 میں اطالوی عدلیہ کے ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار “القدس فورس” منشیات کی اسمگلنگ کا ایک نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ القدس فورس منظم گینگز کے ذریعے یورپ میں منشیات پھیلا رہی ہے۔ روم میں حکام نے 9 افراد پر مشتمل ایک نیٹ ورک تحلیل کیا تھا۔ یہ افراد شیعہ عراقی ملیشیا “الحشد الشعبی” سے تعلق رکھتے تھے جب کہ ان کی قیادت القدس فورس کا ایک افسر غلام رضا باغبانی کر رہا تھا۔اس ٹولی پر 2014 سے نظر رکھی جا رہی تھی جس کے بعد حکام کے سامنے یہ انکشاف آیا کہ یہ لوگ ایران سے منشیات عراق پہنچاتے تھے اور وہاں سے ترکی لے جا کر پھر سمندر کے راستے کھیپوں کے ذریعے اطالیہ بھیجتے تھے۔ یہ کھیپ اطالیہ کی تریستے بندرگاہ پہنچتی تھی اور پھر وہاں سے یورپ کے مختلف ممالک میں تقسیم کی جاتی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here