جلیل الرحمن ندوی(غازی آباد)

16اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے تقریباً ایک صدی قبل عالمی سطح پر ملتِ اسلامیہ کے زوال کے حالات اور تمام دنیا کے مسلمانوں کی امید کی آخری کڑی خلافتِ عثمانیہ کا سقوط اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اور اسی حزن ویاس کے عالم میں انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ دو نظموں شکوہ اور جوابِ شکوہ کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کیا تھا۔ چونکہ شکوہ نام کی پہلی نظم میں اللہ تعالیٰ کی جناب میں مسلمانوں کی طرف سے اپنی تنزلی وکسمپرسی کی شکایت کی گئی تھی، اس لیے بہت سے علمائے کرام نے اس پر اعتراضات بھی کیے تھے۔ لیکن جب انہوں نے انجمن حمایت اسلام لاہور کے دوسرے اجلاس میں اپنی دوسری نظم جوابِ شکوہ کے عنوان سے پیش کی تو تمام اعتراضات خود بہ خود محو ہوگئے۔ جو گویا کہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی شکایت کا جواب تھا۔ تو معلوم ہوا کہ علامہ کا اصلی مقصد ومنشاء جوابِ شکوہ لکھنا تھا جو اس وقت سے آج تک برِ صغیر ہندو پاک میں مسلسل شائع ہورہا ہے اور پڑھا جارہا ہے۔ یہاں اس کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں :

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبی، دین بھی ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر

تم ہو آپس میں غضب ناک، وہ آپس میں رحیم

تم خطاکار وخطا بیں، وہ خطا پوش وکریم

کی محمدؐ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوحِ وقلم تیرے ہیں

علامہ اقبالؒ کے ان چند اشعار میں ملتِ اسلامیہ کو باہمی اتفاق واتحاد اور الفت ومحبت کے ساتھ قرآن اور حضرت محمدﷺ سے حقیقی تعلق اور شعوری وعملی اطاعت ووفا کی دعوت دی گئی ہے، کیونکہ اللہ کی کتاب قرآن اور حضرت محمدﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہی تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے حقیقی سرچشمے ہیں۔لیکن یہ کتنی دردناک اور افسوسناک بات ہے کہ جن قوموں کے درمیان اتحاد واتفاق کا کوئی ایک بھی نقطہ اور مثبت بنیاد نہیں ہے وہ تو صرف منفی بنیادوں پر متحد ہوجاتی ہیں، لیکن ملتِ اسلامیہ کے درمیان اتحاد ویگانگت کے اتنے نقطے اور بنیادیں موجود ہیں جن کا واسطہ دے کر علامہ مرحوم نے نو دہائی قبل امتِ مسلمہ کو وحدت وجمعیت کا یہ سبق یاد دلایا تھا۔ آج اُس وقت سے بہ درجہا شدید بدتر حالات میں بھی ہمارے دینی وسیاسی قائدین کچھ عبرت حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ خصوصاً گذشتہ چند سالوں سے ملتِ اسلامیہ ہند کے لیے جو غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے وہ بھی ہمارے لیے تازیانۂ عبرت نہیں بن پارہی ہے۔ اگر ایسے ناسازگار ومنفی حالات میں بھی ہماری صفوں کے درمیان اتحاد ویگانگت اور یک جہتی کے جذبات پرورش نہ پا سکے تو بتائیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نصرت ومدد کے مستحق کس طرح بن سکتے ہیں ؟ملتِ اسلامیہ کے انتشار وافتراق کی عالمی سطح پر جو صورتِ حال ہے اس کی اصلاح کے لیے تو ہم صرف اللہ تعالیٰ سے خیر وصلاح کی دعا ہی کر سکتے ہیں، لیکن ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کو انتشار سے محفوظ رکھنا تو ہمارے دائرۂ کار میں شامل ہے، جس کے ہم عند اللہ جواب دہ اور عملاً مکلف ہیں۔ ملتِ اسلامیہ ہند کے دیگر اہم امور ومسائل کے ساتھ رؤیتِ ہلال اور صحیح قمری تاریخوں کے تعین کے ساتھ اسلامی عبادات کی انجام دہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے ہمارے داخلی اتحاد یا انتشار کی حالت دیگر برادرانِ وطن اور اقوام کے سامنے بھی نمایاں ہوجاتی ہے اور ہمارے اندر افتراق وانتشار کے خوابیدہ جذبات اور پوشیدہ چنگاریاں ابھر کر آشکارا ہوجاتی ہیں۔ یہ کتنی ناگفتہ بہ صورتِ حال ہے کہ گذشتہ رمضان المبارک (۱۳۳۹ھ) کے مقدس ماہ سے رؤیتِ ہلال کے سلسلے میں جس اختلاف کا آغاز ہمارے دینی قائدین کے درمیان ہوا تھا وہ گذشتہ عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی پورے شباب کے ساتھ غیر مسلم برادرانِ وطن کے سامنے اُجاگر ہوا۔ یہاں تک کہ مرکزی حکومت کو بھی عید الاضحیٰ کی سرکاری تعطیل کا اعلان پہلے ۲۲، اگست (۲۰۱۸ء) پھر ۲۳، اگست اور اس کے بعد پھر ۲۲، اگست کو یعنی کم از کم تین مرتبہ کرنا پڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جیسے دین اور ملتِ اسلامیہ جیسی بے مثال اجتماعیت کی غیروں کے سامنے ایسی مضحکہ خیز تصویر پیش کرنے کا ذمے دار کون ہے؟ اور اسے ہماری نادانی کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ لہٰذا رؤیتِ ہلال کی شہادت کے سلسلے میں ملکی سطح پر ملت کی اس رسوا کن صورتِ حال اور غیر ضروری اختلافات سے بچنے کے لیے شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کچھ تجاویز واصول پیشِ خدمت ہیں۔سب سے پہلے ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ مسئلہ آزادانہ رائے اور مجرد دانشورانہ غوروفکر کا نہیں ہے، بلکہ اس کا حل اسلامی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ شریعت کے دائرے میں رہ کر حتمی بات اور کلیہ یہ ہے کہ قمری تاریخوں کا کوئی ایسا کیلنڈر قبل از وقت مرتب اور شائع کرنا ممکن نہیں ہے جو مستقبل کے چند سال یا کم از کم ایک سال کی ہی قمری تاریخوں کا ایسا یقینی تعین کر دے جس میں خطا کا امکان نہ ہو۔ بلکہ اللہ اوررسولﷺ کی منشاء ومرضی ہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ قمری تاریخوں کا تعین رؤیت کے مطابق کیا جائے۔ حالانکہ سائنٹفک اعتبار سے کچھ لوگ اس کو ممکن قرار دیتے ہیں، لیکن اس میں ایک نکتے پر ان کی نظر نہیں پہنچتی، وہ یہ کہ سائنٹفک اصول سے یہ تو قرینِ قیاس ہے کہ قمری سال کا اختتام ان کے شمار کیے ہوئے ایام کی تعداد کے مطابق ہو، لیکن سال کے درمیان ہر قمری مہینہ ان کے قیاسی حساب کے مطابق ہوجائے یہ ممکن نہیں ہے۔ جب کہ اسلامی عبادات قمری مہینوں کے نام اور تاریخوں سے وابستہ ہیں۔ لہٰذا پھر بھی مسلمان ہر ماہ اس عمل کے محتاج رہیں گے کہ وہ قمری تاریخ کا تعین رؤیت کے مطابق کریں تاکہ ان کی شرعی عبادات واحکامات کی انجام دہی میں کسی غلطی کا امکان نہ رہے۔لیکن شریعت کے مندرجہ بالا اصول یعنی ہر ماہ چاند کی رؤیت اور عدمِ رؤیت کا فیصلہ رؤیت کی معتبر اور یقینی شہادت کے بعد کیا جائے اس میں ہم سائنسی ایجادات وآلات کا استعمال شریعت کے عمل میں معاون ومددگار کے طور پر کر سکتے ہیں۔ یعنی جس طرح ہم اسلام کی دعوت وتبلیغ کے لیے ترقی یافتہ سائٹفک اور الیکٹرانک آلات وایجادات سے کام لیتے ہیں، یا جس طرح ہم سفرِ حج کے لیے سائنٹفک ہوائی جہاز کا استعمال کرکے مہینوں اور چند ہفتوں کے سفر کو چند گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں، تو اِنہیں جدید سائنسی ذرائع ووسائل سے کام لے کر چاند کی رؤیت وعدمِ رؤیت کی خبر کی شہادت میں ان کا استعمال کیوں نہیں کر سکتے؟رؤیتِ ہلال کے سلسلے میں جتنی بھی احادیثِ صحیحہ پائی جاتی ہیں ان سب کا لبِ لباب اور مقصد ومنشا یہی ہے کہ کسی بھی خطۂ ارض میں چاند کی رؤیت کا علم معتبر اور یقینی ہوجائے۔ یعنی اسلامی عبادات کا آغاز وعمل کسی مشکوک اور غیر یقینی خبر پر نہ کیا جائے۔ کیونکہ حضورﷺ کے دورِ مبارک میں ابر آلود مطلع کے پیچھے چاند کے ہونے یا نہ ہونے کے علم کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ اسی طرح ایک شہر کی رؤیت کا حال یا خبر دوسرے شہروں تک چند گھنٹوں کے اندر پہنچنے کا بھی امکان نہیں تھا۔ اس لیے اس دور میں شریعت پر عمل کا بہترین اور آسان ترین حل صرف یہ تھا کہ ہر بستی اور علاقے کے باشندے بہ ذاتِ خود چاند دیکھ کر یا اپنے شہر کے دو متقی مسلمانوں کی شہادت پر رمضان کے روزوں کا آغاز یا اختتام کریں۔ لیکن آج کے دور میں پوری دنیا کی خبریں معتبر ترین اور یقینی ذرائع سے چند لمحوں میں زمین کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک پہنچ جاتی ہیں۔ اور مطلع ابرآلود ہونے کی صورت میں ہوائی جہاز یا اس کے مثیل کسی سواری کے ذریعے بادل کی حدود سے نکل کر چاند کی رؤیت کی جاسکتی ہے۔ اس لیے اب شریعت کے منشا پر عمل کرنے کے لیے جغرافیائی اعتبار سے(نہ کہ سیاسی حد بندی کے لحاظ سے) ایک علاقے کی آبادی اور شہروں کے باشندے اپنے علاقے یا ملک کے کسی بھی شہر کے لوگوں کی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے یقینی اور معتبر اعلان پر پر عمل کریں، کیونکہ اب اپنے علاقے یا ملک کے متقی اور معتبر افراد کی شہادت کے لیے بسوں یا ٹرین کے ذریعے سفر کرنے کی بالکل ضرورت نہیں رہی، بلکہ آپ انٹرنیٹ اور فیس بک کے ذریعے اپنی کسی بھی معتبر شخصیت سے ہزاروں میل کے فاصلے پر بیٹھ کر بھی ملاقات اور گفتگو کر سکتے ہیں۔بہت سے ہمدردانِ ملت کی یہ رائے کہ پورے ملک میں صرف ایک رؤیتِ ہلال کمیٹی قائم ہو، کہنے اور سننے میں بڑی دلکش بات معلوم ہوتی ہے، لیکن دنیا کے کسی بھی ملک میں خلافت کے قیام سے پہلے یہ بات ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا خلافت کی تمنا رکھتے ہوئے بھی اس سے پہلے جو اصول شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہمارے لیے زیادہ بہتر اور قابلِ عمل ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ برِ صغیر پاک وہند کو ایک جغرافیائی خطۂ زمین تسلیم کیا جائے اور برِ صغیر کے کسی بھی شہر کی معتبر اور ذمے دار رؤیتِ ہلال کمیٹی اگر چاند کی رؤیت کا اعلان کردے اور اس کے اعلان کی خبر بھی ہمیں شرعی اصول کے مطابق معتبر اور یقینی ذرائع سے حاصل ہوجائے، مثلاً اس علاقے کی کوئی ذمے دار معروف ومعتبر شخصیت الیکٹرانک میڈیا اور ذرائع نشر واشاعت پر چاند کی رؤیت کا اعلان کردے تو پورے ملک کے مسلمانوں کو بلاتوقف اس پر اعتماد اور عمل کرلینا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر دہلی یا میرٹھ شہرکے مسلمانوں کو اس خبر کا یقینی علم ہوجائے کہ برِ صغیر یا ہندوستان کے کسی شہر مثلاً وادیِ کشمیر، لاہور، لکھنؤ، حیدرآباد، بنگلور، پٹنہ یا احمد آباد میں چاند کی رؤیتِ عام یا شہادت مل چکی ہے تو ہمیں بلا تأمل اس کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ شریعت کے دائرے میں پورے ملک کی ملتِ اسلامیہ کو اختلاف وانتشار سے محفوظ رکھنے کی اس سے بہتر اور ممکن العمل صورت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہ بات شریعت اور سائنس دونوں کے خلاف ہے کہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں چاند کی رؤیت یا چاند کی تاریخ ایک دن پہلے یا بعد میں ہوگی۔ یہ کوتاہی صرف ہمارے نارسا علم وفہم کی ہے، نہ کہ اللہ کی قدرت وشریعت کی۔ اللہ کی قدرت اور تجربے سے تو یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ برِ صغیر اور عرب ممالک میں بھی چاندکی رؤیت ایک دن میں ہو سکتی ہے۔ جو حضرات اس بات کو ناممکن خیال کرتے ہیں ان کے پاس اس کے لیے قیاس کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے۔گذشتہ رمضان میں ہندوستان کے مختلف شہروں میں رؤیت کی شہادت کے باوجود ملت کے ایسے ہی چند کوتاہ فہم حضرات نے اس کو ماننے سے انکار کیا اور اس طرح رمضان کا پورا مقدس مہینہ انتشار کی نذر کر دیا۔ملت کے درمیان اختلاف وانتشار کا ایک اہم سبب جزوی اور فروعی اختلافات کو اصول وکلیات کا درجہ دے دینا ہے۔ یعنی ہمارے دینی پیشوایان عوام کے سامنے جزوی اختلاف کو دین کی اساس بنا کر پیش کرتے ہیں اور دوسروں کے خلاف بہت سی خلافِ حقیقت غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں اور اپنے اس مذموم عمل میں ان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ اپنی حقیر دنیاوی اور گروہی اغراض کی خاطر دین وملت کو کتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں اور دشمنانِ اسلام کی کتنی بڑی مدد کر رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال انہی ایام کے آس پاس دار العلوم دیوبند کے مفتیانِ کرام کا ایک سائل کے جواب میں یہ فتویٰ ہے کہ شیعہ حضرات کی دعوتِ افطار یا کسی بھی دعوتِ طعام میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور اپنے منصبِ افتاء کے زعم میں اپنے اس فتوے کے لیے انہوں نے کوئی شرعی دلیل بھی نہیں دی۔ لہٰذا اگر دین کا کوئی ادنیٰ طالب علم اِن مفتیانِ کرام سے یہ سوال کرے کہ کسی بھی فرد یا قوم کی دعوتِ طعام میں حرام وحلال ذرائع کسبِ مال اور حلال وحرام اشیائے خوردونوش کے امتیاز کے علاوہ صرف میزبان کے مذہب ومسلک کی بنیاد پر شرکت کو قرآن وسنت کی کس دلیل سے آپ ممنوع قرار دے رہے ہیں تواس کا ان کے پاس کیا جواب ہے؟ہمارے محترم مفتیانِ کرام ذرا سنجیدگی کے ساتھ غور فرمائیں کہ مسلمانوں کے کسی مسلک میں اگر کوئی حقیقی گمراہی پائی جاتی ہے تو اس کو آپ نفرت کے ذریعے کس طرح دور کر سکتے ہیں۔ کسی بھی فرد یا گروہ کی اصلاح کا فطری اور معقول طریقہ تو یہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کو اپنی بات سننے پر آمادہ کریں اور پھر ان کی اصلاح کی کوشش کریں۔ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت کے جو اصول اور داعی کے لیے جو بنیادی اور ضروری اوصاف قرآن اور اسوۂ حسنۂ رسولﷺ میں پائے جاتے ہیں تو کیا وہ صرف غیر مسلموں کی دعوت کے لیے ہی مخصوص ہیں اور مسلمانوں کی اصلاح کیا منفی فتوے بازی اور نفرت وافتراق پیدا کرکے ہی کی جاسکتی ہے؟ بات دراصل یہی ہے کہ ہمارے مفتیانِ کرام اسلامی دعوت اور اتحادِ ملت کا مشن ہی اپنے سامنے نہیں رکھتے، بلکہ مسلمانوں کے درمیان گروہ بندی اور تفرقہ اندازی کے ذریعے اپنے معمولی اور عارضی دنیاوی اغراض ہی ان کے پیشِ نظر رہتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ دار العلوم دیوبند کے حقیقی ترجمان اور پہچان اس کے اکابرین؛حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت شیخ الہندؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور آخر میں حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ صاحب اور ان کا خانوادہ ہے۔ جنہوں نے اپنی مشہور کتاب شہیدِ کربلا ویزید میں حضرت امام حسینؓ کی حقانیت کو ثابت کرکے موجودہ دور کے ناقدینِ امام حسینؓکا دندانِ شکن جواب دیا ہے۔ یہ کتاب آج بھی دیوبند کے کتب خانوں اور مکتبوں میں دستیاب ہے۔ اس کتاب میں حضرت قاری صاحب نے حضرت امام حسینؓ اور یزید سے متعلق اسلامی تاریخ کے تمام اکابرین اہلِ سنت والجماعت کا مستند اور معتدل موقف پیش کیا ہے اور کتاب کے آخر میں شیعہ حضرات کو بھی اعتدال واتحاد کی دعوت دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ اگر کوئی نام نہاد اہلِ سنت والجماعت بھی حضرت علیؓ یا حضرت امام حسینؓ کی شان میں کوئی گستاخی یا ان کی تنقیص کرتا ہے تو شیعہ حضرات کے علاوہ ہمیں بھی کتنی ناگواری اور تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح شیعہ بھائیوں کو غور کرنا چاہیے کہ اگر خود کو شیعہ کہنے والا کوئی شخص حضرات صحابۂ کرامؓ، خصوصاً حضرات خلفائے راشدین-رضوان اللہ علیہم اجمعین- کی شان میں گستاخی یا سبّ وشتم کرے توہماری اس ناگواری کا احساس بھی آپ حضرات کو ہونا چاہیے۔پھر امتِ مسلمہ کی ماضی کی تاریخ میں شیعہ اور سنی مسالک کے درمیان خواہ کتنی ہی منافرت اور دوری رہی ہو، لیکن گذشتہ چودھویں صدی ہجری میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے دونوں جانب ایسی شخصیتوں کو پیدا فرمایا جو شیعہ سنی اتحاد کی داعی اور علمبردار بن کر سامنے آئیں۔ ان کی دعوتِ اتحاد کا اصول اور ماحصل یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے درمیان فقہی مسالک تو مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن اعلائے کلمہ اللہ اور اسلام دشمن طاقتوں سے مقابلے کے لیے دنیا کے تمام مسلمانوں کو متحد اور بنیانِ مرصوص بن کر جدوجہد کرنا چاہیے۔ یعنی جس طرح فقہِ حنفی اور شافعی وغیرہ کو ماننے والے کسی اجتماعیت میں باہم مل کر کام کر سکتے ہیں، اسی طرح ایک فقہِ جعفری بھی ہو سکتا ہے اور اس پر عمل کرنے والے بھی دیگر مسلمانوں کے ساتھ کسی اجتماعی جدوجہد کا احصہ بن کر شریک ہو سکتے ہیں۔ ان کے درمیان اتحاد کا اصول صرف یہ ہوگا کہ کسی بھی مسلک کے افراد کو ایسے کسی بھی عمل سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے جس سے دوسرے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو۔ اس بنیادی اصولِ اتحاد کے مطابق شیعہ مسلمانوں کو فضیلتِ حضرت علیؓ کو برقرار رکھتے ہوئے دیگر صحابۂ کرامؓ، خصوصاً خلفائے راشدینؓ اور ازواجِ مطہراتؓ کی شان میں ادنیٰ سے ادنیٰ بے ادبی یا بدکلامی سے تائب ہونا چاہیے اور موجودہ وقت میں جو بہت سے نئے سنی مصنّفین صرف شیعہ مخالفت کے منفی ردِ عمل کا شکار ہوکر حضرت امام حسینؓ کی شان میں ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی یا ان کے مقصدِ شہادت کی تنقیص اور ظالم یزید کی تحسین وتوصیف کرنے لگے ہیں، ان کو بھی اپنے اس مذموم عمل سے توبہ کر لینی چاہیے۔ کیونکہ ان کے اس منفی عمل سے اتحادِ امت کے نقصان کے ساتھ ان کی آخرت بھی ناکام ونامراد ہو سکتی ہے۔آج دنیا کی تمام اسلام دشمن طاقتیں شیعہ -سنی منافرت پر تمام کوششیں صرف کر رہی ہیں کیونکہ شیعہ سنی اتحاد میں ان کو اپنی موت نظر آتی ہے۔ لہٰذا دنیا کے موجودہ حالات، بالخصوص عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال اور پسِ منظر میں شیعہ -سنی اتحاد کی ہر کوشش اسلام اور امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here