جامعۃ فٖٖضیلۃ القرآن کا 33واں سالانہ عظیم الشان جلسۂ دستار بندی سے

حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب کا فکر انگیز خطاب

بنگلور: 16اپریل (سیدھی بات نیوز سرویس )جامعۃفضیلۃ القرآن کا 33واں سالانہ عظیم الشان جلسۂ دستار بندی، مسجدِ منور ہ بنگلور آخر کار حاسدوں اور شریروں کی جانب سے لاکھ رکاوٹوں کے باجود پوری کامیابی کے ساتھ کل قریب دس بجے اختتام کو پہنچا، اس مجلس کے مہمانِ خصوصی ، شیخ الحدیث ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب دامت برکاتہم نے اس موقع پر مسجد کے اندر و باہر موجود سینکڑوں کی تعداد عوام کے سامنے حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے تذکرۂ خیر سے اپنے خطاب کا آغاز فرمایا۔ مولانا نے فرمایا کہ ’’یہ مت سوچیے کہ اِس ریاست کا ہیرو ٹیپو دنیا سے رخصت ہو گیا، شہید کبھی دنیا سے رخصت نہیں ہوتا ہے۔ یہ بات قرآن کہہ رہا ہے۔ ٹیپو نے اللہ کی راہ میں جان دی۔قرآن کہتا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں انہیں مردہ نہ کہا جائے۔سچی بات تو یہ ہے کہ جو چلتے پھرتے ہوئے جو لوگ ہمیں نظر آتے ہیں حقیت میں یہی مردہ لوگ ہیں۔شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔اس لحاظ سے حضرت احمد شہیدؒ زندہ ہیں۔اے مسلمانو،اپنے حال میں مت الجھو۔ملحدانہ، مشکرانہ جال میں مت پھنسو۔اپنا تعلق اللہ سے مضبوط کرو۔ آپ جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول لوگوں کے پاس جاتے تھے، گلیوں میں جاتے تھے، وادیوں میں جاتے تھے، پہاڑیوں پر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ لوگو! اللہ کی طرف آؤ اور مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرو۔
یہ کیسا منحوس دور ہے،کیسا بد بخت دور ہے کہ خود علم رکھنے والے لوگوں کو جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔ وہ اسی فراق میں رہتے ہیں کہ لوگوں کو جنت سے کیسے نکالا جائے اوراُنہیں جہنم میں کیسے د ھکیلا جائے۔ کفر میں کیسے ڈالا جائے۔توحید سے کیسے نکال جائے۔شرک کے دلدل میں کیسے پھنسایا جائے۔
انسانوں کی ہدایت کے لیے کتاب بھی آئی اور پیغمبر بھی آئے۔تاکہ لوگوں کو اللہ کی کتاب کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ سیکھایا جائے۔ اللہ کی کتاب کے بعد، رسول اور اہلِ بیت کے متعین کردہ راستے کا ذکر ہے یعنی اللہ کی جانب سے متعین کردہ افراد کی یہ ترتیب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم، اہلِ بیت اور خلفائے راشدین۔اگر حکمران ظالم ہوں گے اور ان کا نظام غاصبانہ ہو گا تو حسین کی ضرورت پیش آئے گی۔حسین کی سیادت چلے گی۔ حسین کی قیادت چلے گی۔
میں ایک اہم نکتے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرا رہا ہوں۔ہماری مساجد میں جمع کے جو خطبے دیے جاتے ہیں،اگر اس کا اردو میں ترجمہ بھی سنا یا جاتا تو،جزیرۃ العرب کو سعودی عرب کہنے والے مجرم سنیما گھر نہ بنا پاتے، تھیٹر نہ بنا پاتے، عریانیت کے نظارے نہ پیش کر پاتے تھے۔ اسرائیل سے تعلق نہ کر پاتے،مصر ، شام و عراق میں قتلِ عام نہ کرتے،اُمت میں حسینی کردار کو ختم کرنے والے مجرم، وہ مولوی ہو، یا صوفی ہو یاشیخ ہو یا ملا،اگر حسینی کردار کو ختم کیا گیاتو یہی حال ہوگا۔۔یہی سبب ہے کہ تم پر ظالم حکمران مسلط کر دیے گئے۔ جزیرۃ العرب،میں یہودیوں کے اڈے قائم ہوئے،صلیبیت نے ارض المقدس میں چرچ قائم کیے گیے۔ ظالم مسلمانوں کا سردار بن گیا۔نیتن یاہو فیصلے کرنے لگا۔یہ اس لیے ہوا کہ تم نے حسینی کردار کو ختم کر د یا۔
مسلمانو !ان عقیدتوں کو کبھی فراموش ہونے نہیں دینا۔صحابہ کرامؓ حضرت حسین کو سردار سمجھتے تھے۔حضرت فاطمہ کا نام جمعہ کے خطبے میں ہم سنتے چلے آرہے ہیں۔دنیا اورجنت کی خواتین کی سردارفاطمہ کو قرار دیا جاتا ہے اور ہم اس حقیقت کو ہر جمعہ میں سنتے ہیں۔کیوں کہ یہ نبی کا یہ ارشاد ہے۔ مسلمانو!اس ارشاد کو کبھی فراموش مت کرنا۔اسی پر مرنا،اسی پر جینا۔حوض کوثر پر اسی عقیدت کے ساتھ حاضر ہوناہے۔یاد رکھو! علی کے دشمنوں سے تمہارا ادنیٰ بھی تعلق ہوا توتم حوض کوثر پر نہیں پہنچ پاؤ گے۔حوضِ کوثر پر سب سے پہلے علیؓ پہنچیں گے۔
مولانا نے عوام سے مخاطب ہوکر کہاتم نے ہدایت کی کتاب کو طاق پر رکھ دیاہے۔آخر تم ہدایت کس سے لے رہے ہو؟یہ کتاب فیصلہ کن ہے،یہ ہنسی مزاق نہیں۔اس کتاب کو ظالموں کے ڈر سے مت چھوڑنا۔جو اس کتاب کو چھوڑے گا ، اللہ اس کی کمر توڑے گا۔تم اس کتاب کو چھوڑ کر کہیں اور سے ہدایت کیسے طلب کرسکتے ہو۔اللہ تمہیں گمراہ کرکے چھوڑدے گا۔قرآن صرف رٹنے کے لیے نہیں ہے ۔بلکہ سمجھنے کے لیے ہے۔تم مسجدوں میں آتے ہو، سجدے کرتے ہو،سجدہ کر کے بھاگ جاتے ہو۔ یہ تمہارے ڈھونگ ہیں۔ اصل میں تمہاری خواشات تمہارے بت ہیں۔تمہارے گھر میں ٹی وی سجے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے اسلام کے نظام شر م و حیا کا انکار کیاہے۔ تم نے اپنے گھروں کو گندہ بنایا، ابلیس کا اڈا بنایا،تم نے شیطان کے گھر میں آنے کے انتظامات کر لیے ،تاکہ تمہارے گھر میں ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ اور صحابہؓ کرام نہ آئیں۔اس لیے کہ وہ بے شرم ماحول میں نہیں آتے۔تم نے قرآن کو کھلواڑ بنا رکھا ہے؟قرآن زندگی کی چولیں ٹھیک کرنے کے لیے آیا ہے۔جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو مٹھی بھر افراد آپ کے ساتھ ہوئے۔خدیجہ،ؓ علیؓ،زیدؓ بن حارث ساتھ ہوئے۔بلال ساتھ ہو گیے،چھوٹا سا قافلہ، دو چار افراد پر مشتمل تھا،لاکھوں، دہریے، مشرک، کافراطراف میں تھے۔لیکن اس چھوٹے سے قافلے نے اس ماحول میں ڈنکے کی چوٹ پر توحید کی دعوت پیش کی۔تم کرناٹک میں ایک کروڑ ہو، ملک میں پچیس کروڑ ہو اور تمہارا حال کیا ہے؟ تمہارا حال تو جھاگ کی مانندہے۔دنیا میں۵۵ممالک کے جھنڈے اقوام متحدہ کی بلڈنگ پر لہرارہے ہیں اور یہ مسلم حکمران، نیتن یاہو کے جوتوں میں ہیں۔ مولانا موصوف نے سامعین کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور کسی لاگ لپیٹ کے بغیر پوری بے باکی سے اپنی بات رکھی۔ناظرین ملحوظ رہے کہ،شہرکے کچھ شرپسند عناصر کے مخالفانہ ماحول میں آپ کی آمد ایک چیلنج سے کم نہ تھی۔ لیکن آپ کی بے باکی میں اس ماحول سے کوئی فرق نہیں پڑا، یاد رہے کہ اس موقع پر مدرسہ سے حفظ قرآن کی تکمیل کرنے والے قریب تیس طلباء کی دستار بندی مولانا کے ہی ہاتھوں سے ہوئی ، بعد نمازِ عصر اس اجلا سکا آغاز ہوا، کئی مقامی علماء کرام نے شرکت کی، بعد نمازِ عصر مولانا مفتی عادل صاحب ندوی کا بھی پرمغز خطاب ہوا، مولانا سلمان ندوی صاحب کواس محفل میں شانِ ٹیپو (تلوار اور پگڑی ) سے عزت افزائی کرتے ہوئے ،اس محفل میں جان بھر دیا گیا، مولاناتمل ناڈو کے دھرم پوری میں واقع مدرسہ معراج العلوم کے جلسہ میں شرکت کے لئے روانہ ہوچکے ہیں،تو وہاں بھی طوفانِ بد تمیزی کی شدت میں کوئی کمی نظر نہیںآئی ہے۔ لیکن اللہ کے اِس مردِ مجاہد کی پیشانی پر نہ بل پڑتے ہیں نہ ہراسانی کی کوئی لکیر ہی اُبھرتی نظر آتی ہے، تلاوتِ کلام پاک سے جلسے کا آغازہوا۔ابراہیم نفیس نے نعت پڑھی۔طلباء نے استقبالیہ نظم پیش کی۔ مولانا مطہرسراجی نے جلسہ کے انتظامات کو بحسن و خوبی انجام دیا تھا تو نظامت کے فرائض مولانا مقدر صاحب  دعائیہ کلمات پر جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

                                

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here