15اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)فرانسیسی اخبار Libration کے تہران میں خصوصی نمائندے پیئر الونسو کے مطابق “فاطمیون بریگیڈ جس کو ایرانی پاسداران انقلاب نے 2013 میں بنایا تھا ، یہ بریگیڈ بشار الاسد کی طرف سے لڑنے کے واسطے شیعہ مہاجرین کو بھرتی کر رہا ہے۔ مال کے بدلے ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک ایسی جنگ میں آخری سانس تک لڑتی ہے جو ان کی جنگ ہی نہیں”۔ایرانی پاسداران انقلاب نے 2013 میں فاطمیون بریگیڈ تشکیل دیا تھا۔ اس کے ضمن میں افغانستان کی شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو اکٹھا کیا جاتا ہے جو بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے شام میں لڑائی میں حصہ لینے کے واسطے جاتے ہیں۔ رواں سال جنوری میں امریکا نے اس بریگیڈ کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا جب کہ واشنگٹن اب “پاسداران” کو بھی ایک دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے چکا ہے۔سال 2015 اور 2016 میں جب شام کی جنگ عروج پر تھی ،،، زرد پرچم کے حامل ان جنگجوؤں کی تعداد 10 ہزار کے قریب تھی۔ یہ بات شامی تنازع کے ایک ماہر تجزیہ کار میتھیو میٹکسن نے بتائی۔افغانستان سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ حسین غیر قانونی طریقے سے ایران پہنچا تھا۔ ایرانی حکام ہر جگہ رضاکاروں کی تلاش میں چھاپے مار رہے تھے۔ وہ فیکٹریوں اور یہاں تک کہ جیل کے قیدیوں میں بھی افغانوں کو ڈھونڈ رہے تھے ! ان لوگوں سے وعدے کیے گئے کہ شام جانے کی صورت میں انہیں آزادی مل جائے گی۔ حسین کے مطابق ایک روز پولیس نے اسے روک کر کہا کہ اگر وہ شام جا کر لڑائی میں حصہ لے تو اسے مال دیا جائے گا اور ساتھ ہی شناختی دستاویزات بھی جاری کر دی جائیں گی۔ تاہم حسین نے یہ سوچ کر اس پیش کش کو مسترد کر دیا کہ اگر وہ شام میں مارا گیا تو افغانستان میں اس کے والدین اور بہنوں کا کیا ہو گا۔ ایرانی حکام نے حسین کی بے دخلی کا فیصلہ کیا اور وہ ایک بار پھر وہاں سے فرار ہو گیا۔بہت سے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی شام چلے گئے۔ ایران نے شام میں بشار الاسد کی آمریت کو بچانے کے واسطے مذہبی کارڈ استعمال کیا۔ ایران نے یہ موقف اختیار کیا کہ اس کی مداخلت کا مقصد صرف شیعوں کے مقامات مقدسہ بالخصوص دمشق میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کا دفاع کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاسداران انقلاب کی جانب سے بھرتی کیے جانے والے جنگجوؤں کو “مدافعین حرم” کا نام دیا گیا۔تہران کے علاقے “شہر رے” میں ایک ریستوران میں موجود عمر رسیدہ افغان شخص کا کہنا تھا کہ “ہم نے افغانستان میں زندگی گزاری اور پھر وہاں جنگ کے سبب کوچ کیا۔ اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو ہم افغانستان میں لڑتے نہ کہ شام میں!”۔تہران کے ایک باغ میں موجود افغان نوجوان نے ہمارے صحافتی کارڈ کو دیکھ کر مطمئن ہونے کے بعد اپنا شناختی کارڈ ظاہر کیا جس سے ثابت ہو رہا تھا کہ وہ ایران میں باقاعدہ مقیم ہے۔ اس نوجوان نے بتایا کہ وہ کئی بار شام جا چکا ہے اور آخرکار ایک بار پھر لوٹ کر وہاں جائے گا۔اسی باغ میں فاطمیون بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا ایک چھوٹا گروپ نظر آیا۔ یہ تمام لوگ عسکری جیکٹس پہنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان نے افغانستان میں امریکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا۔ اس سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا تم لوگ شام میں پاسداران انقلاب کے ساتھ تھے ؟ تو اس نوجوان نے مبہم انداز میں جواب دیا کہ “میرے پاس کوئی معلومات نہیں ہے”۔ جن لوگوں نے ہم سے بات کی انہوں نے فاطمیوں بریگیڈ میں شمولیت اختیار کرنے والے اپنے عزیز و اقارب کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ ان میں سے کسی نے بھی اپنے بارے میں قطعا کوئی بات نہیں کی۔ ان کی باتوں سے یہ تفصیلات سامنے آئیں کہ شام جانے کا مشن دو سے تین ماہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ روانگی سے قبل مذہبی لیکچروں اور ہتھیاروں کے استعمال کی مختصر تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جہاں تک معاوضے کا تعلق ہے تو وہ ایران میں تعمیراتی مقام پر ابتر حالات میں کام کر کے ان لوگوں کو ملنے والی تنخواہ سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے ،،، یعنی شام میں موت کے مقابل انہیں ماہانہ 200 یورو ملتے ہیں۔میتھیو میٹکسن کے مطابق ایرانیوں کی جانب سے افغانوں کو توپوں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ فاطمیون بریگیڈ کے ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس 2000 ہلاکتیں ہوئیں۔ واشنگٹن میں ایک ریسرچ سینٹر کے محقق علی آلفونہ کے مطابق شام میں مارے گئے افغانوں کے 905 جنازے ایران میں ہوئے۔ اس تعداد میں لڑائی کے میدان میں چھوڑی گئی لاشیں ، قیدی بنا لیے جانے والے اور لا پتہ ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔تہران کے ایک بڑے قبرستان بہشتِ زہرہ میں فاطمیون بریگیڈ کے لیے علاحدہ جگہ ہے۔ ان ہی میں علی رضا رحیمی کی قبر بھی موجود ہے جو 23 نومبر 2018 کو شام کے علاقے حمص میں فوت ہوا۔ قبر پر اس کی تصویر سے لگتا ہے کہ وہ 17 سال کا نوجوان تھا۔ رحیمی کے بوڑھے والد نے بتایا کہ “ایرانی حکام نے ہمیں یہاں پر بلایا۔ ہمیں پاسپورٹ فراہم کیے اور رہائش کا وعدہ بھی کیا۔ ہم ابھی تک منتظر ہیں”۔ ساٹھ کے پھیرے میں ہونے کے باوجود اپنی عمر سے دس برس زیادہ نظر آنے والے بوڑھے نے بتایا کہ اُن کا بیٹا اپنے پیچھے تین یتیم لڑکے چھوڑ گیا ہے جو اب اپنے دادا کی سرپرستی میں ہیں۔ یہ بوڑھا اب اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے واسطے کام کرتا ہے جس سے اس کو 170 یورو کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ بوڑھے باپ نے غصے میں بتایا کہ “میرا بیٹا خوکش حملہ آور تھا۔ اسے شامی فوج نے بم باندھنے پر مجبور کیا”۔دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں شیعہ ملیشیاؤں پر کام کرنے والے محقق فلپ اسمتھ کے مطابق “یہ بات کبھی نہیں سنی گئی کہ (فاطمیون بریگیڈ) نے خود کش حملہ آور بھرتی کیے”۔ میتھیو میٹکسن کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ انہوں نے شام میں فاطمیون بریگیڈ کے حوالے سے ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ البتہ جہاں تک مذکورہ بوڑھے شخص کا تعلق ہے تو اسے اس بات کو پورا یقین ہے۔ اس نے اپنے بیٹے کی تدفین کے وقت اس کی کٹی پھٹی لاش دیکھی تھی۔اسی قبرستان میں کالی چادر میں لپٹی ایک بوڑھی خاتون اپنے بیٹے کی قبر کی صفائی کر رہی تھی۔ ساتھ ہی اس کا سفید ریش شوہر اپنے بیٹے کے لیے دعا کر رہا تھا۔ ان کا بیٹا محمود حسینی 27 مئی 2017 کو ہلاک ہوا تھا۔ ڈھائی سال کے عرصے میں وہ کئی مرتبہ شام جا کر واپس آ چکا تھا۔ بوڑھے باپ نے بتایا کہ “میں دل کے عارضے میں مبتلا ہوں۔ اسی لیے محمود آخری مرتبہ بتائے بغیر ہی چلا گیا تھا تا کہ مجھے کوئی تشویش نہ ہو”۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here